عقل:قبول وردکے درمیان

محمد طارق غازی
نکتہ:
کوئی اکیلا شخص تمام انسانوں کے مزاج، مذ اق اور ان فطری اور طبعی ضروریات کا صحیح اندازہ نہیں کر سکتااور اس کا یہ اندازہ کر سکنا اتنا ہی مشکل ؛بلکہ محال ہے ،جتنا کسی ایک شخص کا دنیا میں پائے جانے والے تمام انسانوں کی شکل و صورت کو دیکھ لینا اور ان کے ظاہری خد و خال کے فرق کو جان لینا،تاریخ بتاتی ہے کہ جب کبھی انسان نے محض اپنی عقل پر بھروسہ کیا ہے، ہمیشہ افراط تفریط کا شکار ہوا ہے اور انسانیت کو تباہی کے منجد ھار میں ڈال دیا ہے۔
۔ مولانا مفتی محمد شفیع
اسلام اور موسیقی، کراچی، ۱۹۹۲،ص ۳۷۰
گفتہ:
اس میں شک نہیں کہ معاملات و مسائل کی سوجھ بوجھ، تفہیم، تنقیح اور تشریح میں عقل بہت افراط تفریط کرتی ہے،؛لیکن خود عقل کے بارے میں جو رویہ پایا جاتا ہے، وہ بھی خاصا افراط تفریط کا شکار ہے،سبب اس کا بھی یہی ہے کہ جس طر ح عقل کے حق میں تقریر کرنے والے عقل کے استعمال کے باعث ہی افراط تفریط کرتے ہیں،وہیں اس کے خلاف دلائل لانے والوں کی منطق بھی عقلی بنیادوں ہی پر مرتب ہوتی ہے اور نتیجہ ان کے پاس بھی وہی نکلتا ہے، جو حامیانِ عقل کے دلائل سے سامنے آتا ہے۔
اس گفتگو میں دو ایک کلیات طے کرلیے جائیں تو بات کرنا اور سمجھنا آسان ہوجائے گا:
عقل ایک صلاحیت ہے ،جو اللہ تعالی نے انسان کے اندر پیدا کردی ہے،صنفی ،بدنی صلاحیت کی طرح اس وصف کا بھی مفید اور مضر دونوں طرح استعمال کیا جاسکتا ہے،عقل کی فطری قوت اتنی ناپسندیدہ نہیں ،جتنی ہم نے باور کر لی ہے،قرآن حکیم میں اس صلاحیت کو استعمال کرنے کا حکم یا تاکید ۴۹ بار آئی ہے،معلوم ہواکہ عقل اگر اتنی ہی راندۂدرگاہ اور ناپسندیدہ ہوتی، تو اللہ تعالیٰ بار بار انسانوں کو عقل استعمال کرنے کا حکم نہ دیتے اور نہ ان سے کہتے کہ قدرت کی نشانیاں تو عقل والوں ہی کے لیے ہیں یا ان نشانیوں کا بیان کرکے سوال نہ کرتے کہ کیا تمہارے پاس عقل نہیں ہے ،جو ان نشانیوں سے نتائج اخذ کرسکو؟اس سے اتنا تو طے ہوجاتا ہے کہ قرآنی اصولوں کے مطابق عقل کا استعمال ہی درست نتائج تک رہنمائی کر سکتا ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جو بزرگ عقل و خرد کے مخالف ہیں، وہ اس کے مقابل جس کیفیت یا جذبہ کا استحسان اور تعریف کرتے ہیں، اسے جنون کا نام دیا گیا ہے،خاص طور سے صوفیانہ شاعری میں جنون ایک مستقل اصطلاح ہے، موجودہ زمانے میں توخیر زبان و بیان اور اصطلاحات ہی کا قتلِ عام ہوگیا کہ عام اردو بھی اب لوگوں کے پلے نہیں پڑتی اور ذرا مشکل لفظ لکھ دو ،تو شکووں کے دفتر تو کھول دیتے ہیں اردو کی لغت کوئی نہیں کھولتا، بہر حال ابھی چالیس پچاس سال پہلے تک بھی خصوصاً روایت پسنداردوشعرا کے ہاں جنوں کا لفظ بکثرت استعمال ہوتا تھا،اسی بنیاد پر لیلیٰ کے عاشق مجنوں کودنیا کے سب سے زیادہ پسندیدہ اشخاص میں شمار کیا گیا اور پھر اسی کے ذیل میں فرہاد وغیرہ بھی ’’عملِ خالص‘‘ کے رہبر قرار دیے گئے۔
جنون و خرد کی یہ بحث بجائے خود افراط تفریط کی ایک مثال ہے،مزے کی بات یہ ہے کہ مجنوں ہو یا اس کی کیفیت، یا اس کیفیت کے سلسلہ میں افسانہ طرازیاں، ان سب کی عظمت کے حق میں دلائل سارے عقلی ہوتے ہیں، مجنونانہ نہیں۔
مجھے اس اصطلاح کے شاعرانہ استعمال میں بھی ہمیشہ رکاوٹ رہی ہے، اس کا سبب سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ورق ہے، میری دلیل عقلی ہی نہیں ،تاریخی بھی ہے، ایک بار پھرعرض کردیتا ہوں۔
جب رسول اللہ ؐ نے اپنا پیغام قریش کے سامنے پیش کیا، تومعاشرے میں ایک بحران پیدا ہوا اور قریش کے سرداروں نے رسول اللہؐ کو طرح طرح کے نامناسب خطابات سے یاد کیا، کچھ نے کہا آپؐ شاعر ہیں اور قرآن حکیم آپ کی شاعری ہے،قرآن حکیم میں پانچ مقامات پر اس الزام کی تردید کردی گئی، بعض کفارِ قریش نے رسول اللہ کو نعوذ باللہ دیوانہ اورشاعر بھی کہا( سورہ الصافات ، آیہ: ۳۷ ، ۳۶ )، مگراس کے فورا بعد کی آیت میں اس کی بھی تردید قرآن حکیم میں وارد ہوگئی،اس کے علاوہ کفار نے رسولؐاللہ اور آپ کے تمام متبعین صحابہ کو حنیف اور حنفاء کہا، عربی زبان میں حنف کا مادہ مختلف طرز اور الگ طریقے پرچلنا ہے اور نیارے انداز میں قدم اٹھانے کے لیے بولا جاتا ہے(علامہ ابن منظور، لسان العرب،بیروت، لبنان ،ج ۳، ص۳۶۲) اللہ تعالیٰ نے اس لقب کو اپنی پسندیدہ امت کے امتیاز کی سند بنادیااور کئی آیاتِ مبارکہ میں پیروانِ اسلام کو حنفاء اور ملتِ ابراہیم حنیف کا عامل قرار دیا،اس تفصیل سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ مشرکینِ مکہ کے دو الزامات ۔ شاعر اور دیوانہ ۔ کو قرآن حکیم میں رد کیا گیا اور ایک بات ۔ حنیف ۔ کو خصوصی شناخت کے لیے قبول کر لیا گیا؛چنانچہ میری دلیل یہ ہے کہ جنون اور دیوانگی کی جو پہچان ہمارے رسول ؐکے لیے بارگاہ الٰہی میں قابل قبول نہیں ہوئی ،وہ امت کے حق میں کس طرح پسندیدہ ہو سکتی ہے؟ قرآن حکیم میں رسولؐ اللہ، حضرت ابراہیم ؑ اور ان دونوں جلیل القدر انبیا کے متبعین کے لیے حنیف کی صفت مستحب، پسندیدہ اور معقول ہے اور مجنون اور جنون کی صفات اسی درجے میں مردود اور ناپسندیدہ اور باطل ہیں۔
اس کے پیش نظر عقل کا تقاضہ تو یہ ہوگا کہ مجنوں کو ایک ایسا بے عقل شخص کہا جائے ،جو اپنے غلط عمل کی وجہ سے ایک پاکباز عورت کی دائمی بدنامی کا موجب بن گیا، اب اسے معیار مان لینا ایسا ہی ہے، جیسے لند ن سے شائع شدہ ۱۰۰۰ ’’بڑے‘‘ لوگوں کے بارے میں ایک کتاب میں ایک ایسی عورت کو بھی دنیا کی عظیم ہستیوں میں شمارکیا گیا تھا،جو لندن کے ایک تھئیٹرمیں سنترے بیچتی تھی، وہاں بادشاہ وقت چارلس اول کی نظر اس پر پڑی اور اس نے اس غریب لڑکی کو اپنی داشتہ بنا لیا،تاریخ میں اللہ سے بے خوف ہزاروں مردوں نے لاکھوں کروڑوں عورتوں کویوں ہی ذلیل کیا ہے،یہ کام ہی کونسا معقول تھا، ایسی ایک عورت کو دنیا کے ایک ہزار عظیم ترین افراد میں شمار کرنا عقل کی بات ہوئی یا اسے محض پاگل پن کہا جائے گا، اگر انگلستانیوں کی اسی عقل کو معیار مان لیا جائے، تو کیا اسی عقل کا تقاضا نہ ہوگا کہ دنیا کی ہر داشتہ عورت کو اسی طرح عظیم مانا جائے؟
بہر حال اگر یہ دلیل محض تفریح سمجھی جائے ،تب بھی امت مسلمہ کے لیے جنون و دیوانگی کی صفت اتنی ہی ناگوارِ خاطر اور ناقابلِ قبول ہوئی، جتنا شرک اور خنزیر خوری، دوسرے یہ کہ جنون جیسی ایک صفت ،جس کو قرآن حکیم نے بار بار رد کیا ہو، عقل جیسی دوسری صلاحیت کا بدل ہرگز نہیں ہو سکتی ،جس کی تائید میں عقل کے عنوان سے ۴۹ آیات اور شعور اورفواد وغیرہ کے عنوانات سے مزید تائیدی آیات وارد ہوئی ہوں۔
اس تقریر کے بعد یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ عقل وہ صفت ہے، جسے انسان اگرصرف اپنے بل بوتے پر استعمال کرے اور اس کے استعمال کے لیے ویسی روحانی رہنمائی سے مستفید نہ ہو، جیسی مثلا صنفی فطری استعداد کے سلسلے میں ضروری ہے، تو اس سے نقصان بھی ممکن ہے،یہ مقدمہ ایک تیسرے کلیہ کی سمت لے چلتا ہے، یعنی اگر عقل کو معیارتسلیم کیا جائے ،تو کس کی عقل معیار ہوگی،اس سوال کے جواب سے یہ بحث کسی مثبت نتیجہ تک پہنچ سکتی ہے۔
اس پر ایک واقعہ یاد آیا:
راوی تھے میرے والد مولانا حامد الانصاری غازی اور ان سے بیان کیا تھا نصراللہ خان عزیز نے ،جو اس واقعہ کا ایک کردار تھے، نصر اللہ خان عزیز اپنے عہد کے ایک ممتاز صحافی تھے، عرصہ تک مدینہ، بجنور کے مدیر رہے،پاکستان بننے کے بعد لاہور سے ہفتہ وار ایشیا شائع کرتے رہے، وہ واقعہ ۹۴۲ ۱ ء کا ہے جب صدر انڈین نیشنل کانگریس مولانا ابوالکلام آزاد اور ان کے ساتھ کئی دیگر فدائیان آزادی ہندستان چھوڑ دو تحریک کے نتیجے میں قلعہ احمد نگرمیں نظر بند تھے،ان میں نصراللہ خان عزیز اور کانپور کے ایک پنڈت بھی تھے ،جو للّن جی کے نام سے معروف تھے،نصراللہ خان عزیزدیندارمسلمان آدمی تھے، للن جی فلسفی، ملحد اور خدا کے منکرتھے ، دونوں میں تفریحاًنوک جھونک ہوتی رہتی تھی، مولانا آزاد کے پاس ملک و بیرون ملک کے اخبارات بھی آتے تھے ،جو سب ہی پڑھتے تھے،کسی اخبار میں اتفاق سے خدا کے وجود کے خلاف ایک مضمون شائع ہوا اور نصراللہ خان عزیز اور للن جی کے مابین نزاع اور دوستوں کے لیے تفریح کا موضوع بن گیا، آخر کار مقدمہ مولانا آزاد کے سامنے پیش ہوا، اول اول تو مولانا آزاد نے بھی تفریح لی اور وہ مضمون للن جی سے اتنی بار اصرار کر کے سنا کہ پنڈت جی خود بیزار ہوگئے،تب مولانا آزاد نے للن جی سے پوچھا کہ وجودِ خدا کے خلاف ان کی ذاتی دلیل کیا ہے؟ للن جی نے کہا خدا عقل میں نہیں آتا،یہ تصور عقل کے خلاف ہے۔
عقل!
عقل کیا ہے؟
احمد نگر قلعہ کے جس ہال میں یہ بات ہورہی تھی، اس کے سامنے باہر سڑک پر وہ کار کھڑی تھی، جو صدر کانگریس کو حکومت نے قلعہ کے اندر آمد و رفت کے لیے مہیا کی تھی،مولانا آزاد نے اس کار کی طرف اشارہ کر کے للن جی سے پوچھا کہ وہ گاڑی کیسے چلتی ہے؟للن جی کار چلانا جانتے نہیں تھے، انہوں نے لاعلمی ظاہر کی اور کہا کہ وہ سامنے جو اس کار کا ڈرائیور بیٹھا ہے، اس سے پوچھ لیجیے۔
مولانا آزاد نے کہا’’ یہی اس بحث کا آخری جواب تھا‘‘۔
کسی کے کچھ سمجھ میں نہ آیا، تب مولانا آزاد نے وضاحت کی:
یہ گاڑی ایک مشین ہے، اس میں بیسیوں پرزے اور کلیں ہیں،ان سب کی شکل وصورت، ان سب کے جدا جداکام اس شخص کے علم میں ہیں ،جس نے یہ کار بنائی ہے، پھر یہ ڈرائیور ہے، جو یہ تو جانتا ہے کہ یہ گاڑی چلے گی کیسے اور اسے کیسے روکا جاتا ہے اور دائیں بائیں کیسے موڑا جاتا ہے، مگر نہ تو وہ اس کے سب پرزوں اور ان کے کام سے واقف ہے اور نہ ایسی دوسری کار بنا سکتا ہے اور تیسرے ایک للن جی ہیں، جو اس کار میں سفر تو کرسکتے ہیں ،مگرنہ یہ جانتے ہیں کہ یہ چلتی کیسے ہے اور نہ یہ خبر کہ یہ کن پرزوں کو کس طرح جوڑنے سے بنی ہے۔
تو ایک عقل تو وہ ہے، جس نے یہ کار بنادی،ایک عقل وہ ہے، جو اس گاڑی کو چلاسکتی ہے اور ایک عقل وہ ہے، جو نہ یہ جانے کہ یہ بنی کیسے ہے اور نہ اسے یہ خبر کہ یہ چلتی کیسے ہے۔
اس تقریر کے بعدمولانا آزاد نے فیصلہ سنایا کہ اسی تفصیل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کو جاننے کے لئے عقل معیار تو ہے، مگر ہر عقل معیار نہیں ہے؛کیونکہ خود عقل کے بے شمار معیارات ہیں۔
قصہ مختصر! اس واقعہ سے جو بات سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ کی ایک عقل موٹر کار کے موجد اور صانع کی ہے، ایک عقل موٹر کار کے ڈرائیور کی ہے،ایک عقل کروڑوں کی تعداد میں پائے جانے والے للن جی جیسوں کی ہے اور ایک عقل ان سب عقلوں سے بلند ہے، جو اللہ کو اور اس کو رسولؐ کو پہچانتی ہے، سچی عقل یہی ہے اور یہی عقل معیار ہے۔
والد صاحب سے للن جی کا واقعہ سنا، تو مجھے اپنے بچپن کی ایک بڑی بی یاد آگئیں،وہ والدہ، ہاجرہ نازلی ؒ کے پاس اکثر آیا کرتی تھیں،ایک بار کچھ بات کر رہی تھیں کہ کسی بات پر بولیں: بی بی، خدا کو دیکھا نہیں، عقل سے پہچانا ہے۔
بڑی بی بالکل ناخواندہ تھیں، ان کے گھر میں دور دور کوئی پڑھا لکھا آدمی نہیں تھا،ان کے مقابل للن جی تھے، وہ بہت پڑھے لکھے، فلسفی تھے،مجھے خیال ہوا کہ ایک عقل پنڈت فلسفی للن جی کی تھی اور ایک عقل ان پڑھ بڑی بی کی تھی۔
ایک حدیث ہے ،جسے امام بیہقی کے حوالے سے مشکوٰۃ شریف(دار الاشاعت کراچی ۲:۵۴۰/ح۴۸۴۱) میں حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کیا ہے: رسولؐ اللہ نے فرمایاجب اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا، تو اس سے کہا کھڑی ہوجا، وہ کھڑی ہوگئی،پھر اس سے کہا پشت پھیر، اس نے پشت پھیر لی، پھر اس سے کہاگیا میری طرف رخ کر،اس نے اللہ کی طرف رخ کرلیا، پھر اس سے کہاگیا بیٹھ جا، تو وہ بیٹھ گئی،پھر اللہ نے عقل سے کہا میں نے کوئی ایسی مخلوق (صفت) پیدا نہیں کی، جو تجھ سے بہتر ہو یا تجھ سے افضل ہویاخوبیوں میں تجھ سے بڑھ کر ہو، سو میں تیرے ذریعے (بندوں سے عبادت) لیتا ہوں اور تیرے ہی ذریعے (بندوں کو ثواب و درجات) عطا کرتا ہوں، تیرے ہی ذریعے پہچانا جاتا ہوں اور تیرے ہی سبب سے عتاب کرتا ہوں، تیرے ہی ذریعے ثواب دیتا ہوں اور تجھ ہی پر عذاب کرتا ہوں۔
بعض علما نے اس حدیث پر کلام کیا ہے، تاہم اس سے یہ بات تو ظاہر ہوتی ہے کہ عبادات اور ان پر ثواب نیز گناہوں پر عتاب و عذاب کا سبب عقل ہی سے سمجھ میں آتا ہے،اسی کو عقل سلیم سمجھا جائے۔
حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب نے ایک بار فرمایا تھا کہ اسلام میں چار طرز کی عبادات ہیں، جن میں سے روزہ اور حج عشقی عبادات ہیں کہ اللہ کی محبت میں بندہ کو بھوک پیاس کی پرواہ ہوتی ہے، نہ اچھے عمدہ لباس اور زندگی کے آرام کی خواہش دل میں ابھرتی ہے اورنماز اور زکوٰۃ عقلی عبادات ہیں کہ جب ہمارا ایک خالق ہے ،تو عقل کا تقاضا اس کے سوا اورکیا ہے کہ اس خالق کے سامنے سر جھکادیا جائے اور اس کے دوسرے بندوں کو نفع پہنچایا جائے۔
اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ خود عقل کے عرفان اور اس کے استعمال کی صلاحیت بھی علم پر منحصر نہیں، علم ایک کسبی حقیقت ہے، محنت اور لگن سے حاصل ہوتا ہے،مگر پھرعلم بجائے خود ایک کیفیت ہے ،جو سندوں اور ڈگریوں سے ثابت نہیں ہوتی،اس کے برخلاف عقل ایک وہبی حقیقت اور اللہ کا ایک عطیہ اور تحفہ ہے، جو انسان کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے،اسے کسی مدرسے میں جاکر کسی استاد سے حاصل نہیں کیاجاسکتا،ہاں عقل و علم کی یہ دونوں صلاحیتیں کسی میں جمع ہوجائیں ،تو وہ شخص عظیم تر ہوجاتا ہے اور الگ الگ میسر ہوں تو آدمی کوکسی ایک حیثیت سے اپنے ہم چشموں میں امتیازحاصل ہو جاتا ہے۔
ان دو صلاحیتوں کی یکجائی کا بھی قانون ہے،عقل کی دو قسمیں ہیں: عقلِ سلیم اور عقلِ ناقص،علم کی بھی دو قسمیں ہیں:ایک علم نافع اور دوسرا تباہ کن علم۔انسان کو نفع پہنچانے والا علم مطلوب ہے،دوسری قسم کے علم کی ایک کھلی پہچان صاحبِ علم کا پندارِ علم اور غرورہوتا ہے ،جس کی وجہ سے وہ دوسروں کو اپنے مقابلے میں کمتر اور حقیر سمجھنے کی حماقت میں مبتلا ہوجاتا ہے، تو عقلِ سلیم اور علمِ نافع ہو،تبھی ان کے یکجا ہونے سے فرد اور باقی انسانوں کو فائدہ ہوتا ہے اور اگر عقل ناقص اور علم نقصان دہ ہو،تو یہ دونوں صلاحیتیں معاشروں کو تباہ کردیتی ہیں۔
عمرو ابن ہشام نامی ایک آدمی کے پاس بھی بہت علم تھا،عہد نبوی کے اس مخزومی قریشی سردار کا شمار اپنے وقت کے ان ۱۷؍ لوگوں میں تھا ،جو مکہ میں نہایت اعلی علم رکھنے والے اور لکھنا پڑھنا جانتے تھے ،عربوں میں عمروابن ہشام کی دانشمندی کے بڑے چرچے تھے ؛اسی لیے لوگوں نے اسے ابوالحکم ۔عقل وحکمت والا۔ کا لقب دیا تھا، مگر پھربھی نہ اس کا علم اس کے کام آیا، نہ اس کی حکمت سے اسے کوئی فائدہ پہنچا ، نہ اس کی عقل نے کچھ رہنمائی کی،آخر کار وہی ابوالحکم تاریخ میں ابو جہل۔جاہلوں کے سردار۔کے عرف سے مشہور ہوگیا۔
اس احمق جاہل کو کون ذی عقل اپنے لیے عقل اور علم کا معیار تسلیم کرے گا؟!