عظیم اتحاد ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر ہی ممکن


ڈاکٹر منور حسن کمال
عام انتخابات 2019کے دن جیسے جیسے قریب آرہے ہیں، سیاسی پارٹیوں میں مدوجزر کی صورت حال پیدا ہوتی جارہی ہے۔ ایک طرف عظیم اتحاد کے قیام کے سلسلے میں تمام چھوٹی بڑی پارٹیوں کے مفادات اور مناقشات سامنے آتے جارہے ہیں، وہیں دوسری طرف کبھی بعض پارٹیاں اکیلے اپنے دم پر الیکشن لڑنے کی باتیں کررہی ہیں، دوسری طرف مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں کانگریس کے جیتنے کے بعد حکومت سازی نے بھی ہوا کا رُخ بدل دیا ہے۔ ابھی تک راہل گاندھی جو نریندر مودی کے سامنے بہت کمزور نظر آتے تھے، اچانک ان کا جوش وولولہ بڑھ گیا ہے۔ یہ سب چیزیں تو وہ ہیں جو سب کے سامنے ہیں، پردے کے پیچھے انتخابات کے چانکیہ اور مہابلی کہلائے جانے والے امت شاہ اور نریندر مودی کے چہرے جو دلکش اور مسرت سے لبریز نظر آتے تھے، بجھے بجھے سے لگنے لگے ہیں۔ یقیناًوہ کوئی نئی پالیسی بنانے میں مصروف ہوں گے۔ ان کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے لوک جن شکتی پارٹی کے چراغ پاسوان کو منانے کے لیے بڑی جلدبازی میں ان کی بات مان لی، ورنہ انہیں لگنے لگا تھا کہ رام ولاس پاسوان جو ہمیشہ اقتدار کے ساتھ رہے ہیں، وہ کہیں عظیم اتحاد کا حصہ نہ بن جائیں۔ بی جے پی قیادت ان کے دوتین ٹوئٹ سے ہی ڈر گئی اور ان کی منشا کے مطابق نشستیں انہیں دے دی گئیں۔ یہاں پاسوان خاندان کے سیاسی داؤ کی بھی داد دیے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ اب یہ بات دیکھنے لائق ہوگی کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی والے راہل گاندھی کے تیور کی تعریف کرنے والے چراغ پاسوان اپنے موقف میں کوئی تبدیلی لاتے ہیں یا اسی پر قائم ہیں۔ لیکن بی جے پی نے بھی اس تیر سے ایک شکار یہ کھیلا ہے کہ بہار میں این ڈی اے کو مضبوط ہی کیا ہے۔
آزاد ہندوستان میں جمہوریت اس وقت بڑے نازک دور میں ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ سیاسی شعبدہ بازوں نے عظیم اتحاد کی جانب سیاست کو دھکیل دیا ہے۔ گزشتہ صدی کی آخری دہائی سے جو سلسلہ شروع ہوا تھا، اس میں نئی صدی میں تیزی ہی آئی ہے۔ عظیم اتحاد کی سیاست حالات و واقعات کے بطن سے جنم لیتی ہے، جس طرح ہمارا ملک مختلف مذاہب اور مختلف زبانیں جاننے اور بولنے والوں کا ملک ہے، اسی طرح یہاں سیاسی شعبدہ بازیاں بھی ان دنوں بہت بڑھ گئی ہیں۔ اب جب ملک عظیم اتحاد کی جانب دیکھ رہا ہے اور یہاں متحدہ محاذ تشکیل کیے بغیر کوئی چارہ کار نظر نہیں آتا تو عوام کو بھی اس جانب توجہ دینی چاہیے اور عظیم اتحاد یا متحدہ محاذ جو بھی ان کی پسند ہو، جس نے ان سے کیے گئے وعدوں پر عمل کیا ہو اور جو ان کی خبرگیری کا نہ صرف مادّہ رکھتا ہو، بلکہ مذہبی سیاست سے اوپر اُٹھ کر ملک کے لیے ملک کے باشندوں کے لیے قوت متحرکہ کا بھی حامل ہو، اس کو ملک کی کمان سونپنی چاہیے۔
جب ہم گزشتہ 5سال دور حکومت کا محاسبہ کرتے ہیں تو یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ برسراقتدار حکومت نے اپنے وعدوں میں سے دس فیصد پر بھی کوئی عمل نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسمبلی انتخابات میں انہیں شکست کا منھ دیکھنا پڑا۔ اگرچہ عظیم اتحاد کی آوازیں بہت پہلے سے اٹھ رہی ہیں، لیکن ان اسمبلی انتخابات کے بعد یہ آوازیں مزید بلند ہورہی ہیں۔ مگرکانگریس اب دوسرے ہی رنگ میں نظر آرہی ہے۔ اس لیے کہ عظیم اتحاد بھی اب جنوبی ریاستوں میں الگ انداز میں نظر آرہا ہے اور یوپی میں الگ۔ کانگریس کو اس کی مطلوبہ نشستیں نہیں مل رہی ہیں، اس لیے وہ شاید اکیلے ہی 2019کے عام انتخابات میں قدم رکھے۔ اگر کانگریس اتحاد میں شامل نہیں ہوتی ہے تو گزشتہ عام انتخابات میں تقریباً 8فیصد ووٹ پانے والی کانگریس کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں اور عام انتخابات میں اتنی جدوجہد کے بعد بھی حالات نہ بدلے تو کانگریس کو سوائے نقصان کے اور کچھ ہاتھ لگنے والا نہیں ہے۔لیکن چندرابابونائیڈو نے ابھی ہار نہیں مانی ہے اور وہ مسلسل کانگریس اور دوسری پارٹیوں سے رابطے میں ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ این ڈی اے کے سامنے ایک مضبوط اتحاد کی شکل میں عظیم اتحاد قائم ہو اور آسمان سیاست پر ایک نیا سورج طلوع ہو۔
اتحاد کی سیاست کا ہندوستان کی سرزمین سے بہت قدیم رشتہ ہے۔ 1857کی جنگ آزادی تاریخ میں پہلا اتحاد تھا، جب الگ الگ فرقے و مذہب کے لوگوں نے جمع ہو کر برطانوی استعمار کے خلاف بلند اور مستحکم آوازبلند کی تھی۔ لیکن اسلحہ کی کمی اور ناتجربہ کاری کے سبب یہ جیتی ہوئی جنگ ملک کی جدوجہد آزادی کے مجاہدین ہار گئے تھے۔ پھر1946میں جواہرلعل نہرو کی قیادت میں سیاست کی کوکھ سے عبوری حکومت کا قیام عمل میں آیا تھا، جس میں کانگریس، مسلم لیگ اور ہندومہاسبھا جیسی سیاسی پارٹیاں شامل تھیں۔ ریاستی سطح پر 1953 میں آندھراپردیش، مغربی بنگال اور کئی دیگر ریاستوں میں بھی اتحادی حکومتیں قائم ہوئیں، لیکن چند ایک کو چھوڑ کر یہ حکومتیں پانچ سال پورے کرنے میں ناکام ہی رہیں۔
آزادی کے بعد قومی سطح پر 1977میں سب سے پہلے متحدہ حکومت کا قیام جنتا پارٹی کی شکل میں سامنے آیا۔ اس کے بعد کی حکومتیں کیسے بنیں اور کیسے ٹوٹیں یہ سب مشہور باتیں ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہ بات بڑی حد تک واضح ہوچکی ہے کہ متحدہ حکومتوں کا تجربہ ملک کو راس نہیں آیا ہے۔ ایک دو برس میں ہی ان کی آپسی چپقلش سامنے آجاتی ہیں اور اتحاد ٹوٹ جاتا ہے۔دراصل ہندوستانی سماج مختلف ذات، مذہب اور علاقائی سطح پر اپنی اپنی جگہ الگ الگ اثرورسوخ کا پابند نظر آتا ہے، جس کا سیاسی جماعتیں خوب فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ہمارے سماج کو چاہیے کہ ذات، مذہب، مسلک اور علاقائیت سے اوپر اٹھ کر عام انتخابات میں حصہ لے، تبھی سیاسی جماعتوں کو کچھ ہوش آسکتا ہے، وگرنہ حالات میں کسی بڑی تبدیلی کی امید رکھنا فضول ہی ثابت ہوسکتا ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ کوئی ایک بھی پارٹی مرکز میں اکیلے دم پر حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ بے دلی سے قائم کیے گئے اتحاد کی حکومتیں ملک کی پالیسی کا حصہ بنتی جارہی ہیں۔ گزشتہ دو دہائی سے متحدہ حکومتیں برسراقتدار آئی ہیں۔ متحدہ حکومتیں بھلے ہی وقتی ضرورت کے تحت قائم ہوتی ہیں، لیکن متحدہ محاذ میں شامل پارٹیاں قیادت میں شامل بڑی پارٹی کا سردرد ہی ثابت ہوتی رہی ہیں۔ پھر ان کے روٹھنے، منانے کا سلسلہ مزید دشوار کن ہوتا ہے۔
اب جس طرح سے اترپردیش میں جو نشستوں کے لحاظ سے ایک بڑی ریاست ہے، اس میں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے اتحاد نے عظیم اتحاد کی کوششوں کو جھٹکا دیا ہے۔ راشٹریہ لوک دل اور کانگریس کے لیے، دونوں کے 38-38نشستیں تقسیم کرلینے کے بعد کتنی نشستیں بچتی ہیں۔ اگر کانگریس، ایس پی، بی ایس پی اور راشٹریہ لوک دل اترپردیش میں اتحاد کی شکل میں عام انتخابات میں سامنے نہیں آتے ہیں تو چندرابابو نائیڈو کی کوششوں کو زبردست جھٹکا لگ سکتا ہے، جو ابھی تک ان سب کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ جوں جوں دن گزررہے ہیں، پارٹیوں کے ذاتی مفاد اور ملک کے مفاد کی آوازیں تیزتر ہوتی جارہی ہیں۔ اگر یہ پارٹیاں یک آواز نہ ہوئیں اور ذاتی مفاد اور عناد کو پس پشت ڈال کر ’عظیم متحدہ محاذ‘ وجود میں نہیں آیا تو پھر ملک کی سیاست کیا رُخ اختیار کرے گی، سیاسی شعبدہ باز اس کے اندازے ہی لگاسکتے ہیں، حتمی طور پر کوئی کچھ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔