عدلیہ کی مجرم کے تئیں ہمدردی؟!

ریحان خان
فی الوقت ہندوستانی معاشرہ ایک تشدد پسند معاشرہ بننے کی راہ پر گامزن ہے، ملک کے طول و عرض سے ماب لنچنگ کی اطلاعات تقریباً ہر روز آتی ہیں، کبھی گؤ رکشا کے نام پر انسانوں میں درندے حلول کرجاتے ہیں، تو کبھی بچہ چوری کے شبہے پر لاشیں بچھا دی جارہی ہیں، گؤ رکشا اور بردہ فروشی کے نام پر ہجومی تشدد حال کی اختراع ہیں، اس سے قبل یوپی کے بعض علاقوں سے یہ اطلاعات آتھی تھیں کہ بعض پراسرار رویہ رکھنے والی خواتین کو جادو ٹونا کرنے کے الزام میں بھیڑ نے مار ڈالا، یہ معاملات تو وہ ہیں، جن کا جرم کسی ایک فرد کے سر نہ جاتے ہوئے ہجوم کے سر جاتا ہے، انفرادی طور پر انجام دیے جانے والے جرائم کی بھی ایک طویل فہرست ہے، انفرادی طور پر انجام دیے جانے والے یہ جرائم مار پیٹ، املاک اور حصولِ زر کی خواہش میں انجام دیے جاتے ہیں ،جو کسی بھی معاشرے کا لازمی جزو ہیں، البتہ ہندوستان میں ؛بلکہ بر صغیر میں پائے جانے والے اپنی نوعیت کے ایک انوکھے جرم کی مثال دیگر ممالک میں نہیں ملتی، وہ جرم کسی لڑکی کی جانب سے شادی کی پیشکش کو مسترد کیے جانے پر مشتعل ہوکر اس کے چہرے پر تیزاب ڈال دینے کا ہے، ہندوستان کے علاوہ پاکستان میں بھی اس کی مثال ملتی ہے اور اسی موضوع پر شرمین عبید چنائے نامی خاتون نے ایک دستاویزی فلم بنائی تھی، جس نے پوری دنیا کے سامنے مشرق کے اس بھیانک چہرے کو پیش کیا ۔
جرائم کی تعزیر کے لیے لا اینڈ آرڈر کے قوانین اور عدلیہ معرض وجود میں آتے ہیں، اس پس منظر میں عدلیہ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے، ملک میں ہونے والے ماب لنچنگ کے واقعات پر گزشتہ 3 ؍جولائی کو سپریم کورٹ نے سخت لہجہ اختیار کیا اور مرکزی حکومت کو ہدایت جاری کرنے کی تلقین کی کہ متشدد بھیڑ پر قابو پانا ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ گؤ رکشا کے نام پر تشدد کی وارداتوں پر لگام کسنے کی تحسین پونا والا اور تشار گاندھی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران یہ موقف پیش کیا۔
جس روز سپریم کورٹ میں ماب لنچنگ زیر بحث تھی، اس سے ایک روز قبل بامبے ہائیکورٹ نے ایک عجیب و غریب فیصلہ سنایا، اپنے اس فیصلے میں بامبے ہائیکورٹ نے ایسڈ اٹیک کے ایک مجرم کے لیے’’ہمدردانہ‘‘ لب و لہجہ استعمال کیا اور اس کی عمر قید کی سزا میں تخفیف کرتے ہوئے آٹھ برس تک محدود کردیا، جسے وہ پہلے ہی کاٹ چکا ہے، تشویش کا باعث مجرم کی سزا میں تخفیف نہیں ؛بلکہ اس کے لیے کورٹ کی جانب سے اختیار کیا جانے والا ہمدردانہ رویہ ہے، جس میں کورٹ نے کہا کہ جرم کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے عمر قید کی سزا زیادہ معلوم ہوتی ہے، مجرم نے متاثرہ کے ساتھ شادی بھی کرلی ہے اور اس کی پلاسٹک سرجری کے لیے اپنی جلد عطیہ کرنے کے ساتھ سرجری کا خرچ اٹھانے پر بھی رضا مند ہے؛ اس لیے انہیں پر امن زندگی گزارنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق یہ معاملہ 2010 کا ہے، جب کھیڑ شہر میں انل پٹیل نامی نوجوان نے ایک لڑکی کو شادی کی پیشکش کی، لڑکی نے انکار کردیا اور طیش میں آکر انل نے اس پر تیزاب پھینک دیا ،جس سے لڑکی کا چہرہ اور کاندھے متاثر ہوئے، واردات کے وقت لڑکی کی دو سہلیاں بھی ساتھ تھیں، جنہوں نے عدالت میں انل پٹیل کے خلاف گواہی دی اور کھیڑ سیشن کورٹ نے اسے عمر قید کی سزا سنا دی۔
متاثرہ ،جس نے عام حالات میں انل کی جانب سے شادی کی پیش کش کو مسترد کردیا تھا، چہرہ جھلس جانے اور مستقبل معدوم ہوجانے کے بعد اس کے ساتھ شادی کیلئے رضا مند ہوگئی، جب لڑکی برضا و رغبت مجرم کے ساتھ شادی پر رضا مند ہوتی، تو ایسڈ اٹیک کا جرم ہی واقع نہ ہوا ہوتا، بہر حال مجرم نے اس کے ساتھ شادی کی اور شادی کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں کھیڑ سیشن کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کو چیلنج کیا اور وقت کا حاتم طائی بنتے ہوئے متاثرہ کو پلاسٹک سرجری کے لیے جلد عطیہ کرنے اور اس سرجری کا خرچ اٹھانے کے وعدے کے ساتھ ہائی کورٹ کی نظر میں’’ہیرو‘‘ بن گیا۔ بامبے ہائی کورٹ نے یہ نظر انداز کردیا کہ انس اور پیار کی راہ میں دیوانگی کا مقام بھی آتا ہے، جس کے زیر اثر انسان اور بالخصوص نوجوان طبقہ کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہوجاتا ہے، ایسڈ اٹیک کے مجرم کے ساتھ بامبے ہائیکورٹ نے ہمدردی اختیار کر کے نوجوان طبقے کو بالخصوص بگڑے رئیس زادوں کو یہ میسج دیا ہے کہ اگر’’وہ‘‘ شادی پر رضا مند نہیں ہے، تو اس کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اس کا مستقبل معدوم کردو اور پلاسٹک سرجری کے لیے جلد کا عطیہ کرتے ہوئے ’’اسے‘‘ حاصل کرلو۔ ایسڈ اٹیک کا مقصد بھی تو یہی ہوتا ہے کہ کوئی اس لڑکی کے ساتھ شادی کرنے پر راضی نہ ہو اور لامحالہ اسے مجرم کی جانب ہی آنا پڑے، یہ درست ہے کہ انل پٹیل نامی نوجوان نے آٹھ برس کی سزا کاٹ لی؛ لیکن وہ کسی بھی صورت ہائی کورٹ کی جانب سے ہمدردانہ لب و لہجے کا مستحق نہیں تھا۔ ایسڈ اٹیک کے مجرم کے ساتھ ہائی کورٹ کی یہ ہمدردی اسی نوعیت کی ہے جس طرح ماضی کے پنڈت ستی ہونے والی خواتین کو’’سورگ‘‘ کی نوید دیا کرتے تھے۔