عجیب العلماء مولانا سلمان صاحب

ابوالخطیب جمیلی
پچھلے زمانے میں اجتہادی شان کے حاملین برائے نام ہی پائے جاتے تھے، مگر عوام کی خوش بختی کہ ہندوستان میں مجتہدین کی اب کوئی کمی نہیں۔ ہر ڈھیلے کے نیچے ایک مجتہد پڑا ہوا ہے۔ مجتہد پیدا کرنے کے کارخانے اہلِ حق میں دو مقامات پر زیادہ پائے جاتے ہیں۔ ایک تو مرکز نظام الدنیا میں اور دوسرے دارالعلوم ندوۃ المجتہدین میں۔ ان کے تیار کردہ مجتہدین دنیا بھر میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ مرکز نظام الدنیا کا بھی اپنا ایک امیرالمؤمنین فی الفساد ہے اور دارالعلوم ندوۃ المجتہدین کا بھی اپنا ایک قائد ہے، جسے امیرالمؤمنین فی الاجتہاد کہا جاتا ہے۔ زیرِ نظر تحریر سے امیرالمؤمنین فی الاجتہاد، عجیب العلماء مولانا مسلمان صاحب کی مدح سرائی مقصود ہے۔
ان دنوں حضرت عجیب العلماء زیادہ سرخیوں میں ہیں۔ وجہ ان کے اجتہادات ہیں۔ حضرت کا آبائی تعلق مغربی یوپی سے ہے، مگر قیام ایک عرصے سے یوپی کے قلب میں ہے۔ عمرِ مبارک 65 کے آس پاس ہے۔ بڑے طلیق اللسان ہیں، مگر اس کے ساتھ وہ سلیط اللسان بھی ہیں۔ ان کی تقریریں دنیا بھر میں سنی جاتی ہیں۔ وہ بولتے ہیں تو الفاظ ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کے مامورین کی مانیے تو حضرت عجیب العلماء امیرالمؤمنین فی الخطاب بھی ہیں۔ وہ بیک وقت کئی زبانوں کے ماہر ہیں۔ اردو ان کی خانہ زاد ہے تو عربی ان کی مملوک۔ سنا ہے کہ وہ امیرالمؤمنین فی الانگلش بھی ہیں۔ ان کے بیانات میں وہ طلاقت اور سلاست ہے، وہ شوکت و آہنگ ہے، وہ جلالِ پادشاہی ہے، وہ تاثیر و تنفیذ ہے کہ سننے والا اسی وقت اپنا آپا کھو دیتا ہے۔ شراب پر بیان کر رہے ہوں تو شراب کی بوتلیں از خود رفتہ ہو کر ان کے قدموں میں آکر گر پڑتی ہیں۔ پردے پر بیان ہو رہا ہو تو خواتین اسی وقت مارکیٹ کو نکل کر پردے کے انتظام میں لگ جاتی ہیں۔ انٹرنیٹ کی تباہ کاریوں پر ان کی تقریر ہو تو مجمع شکستہ موبائلوں سے بھر جاتا ہے۔
وہ لکھتے بھی بہت اچھا ہے۔ اتنا اچھا لکھتے ہیں کہ کچھ نہ پوچھیے۔ اور براہِ کرم ہرگز نہ پوچھیے۔ کئی درجن کتابیں ان کے قلمِ اجتہاد رقم سے آچکی ہیں۔ ایک کتاب قرآن کی ترجمانی پر بھی آئی تھی، جس پر کافی واویلا مچا اور آئندہ بھی مچے گا۔ وہ ایک عدد ماہنامہ بھی نکالتے ہیں، جس کا نام ہے بانگِ مِرا ہے۔
ان کی اجتہادی شان کے نمونے سوشل میڈیا میں آتے رہتے ہیں۔ قرآن کی ترجمانی کرنے بیٹھے تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے قصے پر ہی ہاتھ صاف کر بیٹھے اور فرمایا کہ وفات کے بعد بھی سو برس عصا کے سہارے ان کا کھڑا رہنا فرضی بات ہے۔ جمہور غلط کہتے ہیں۔ یہ ناممکن ہے۔ یہ بعیدالوقوع ہے۔ ایسی باتیں جوتیوں کی نوک پر رکھنی چاہییں۔ جس پر سوشل میڈیا میں کافی ہنگامہ مچا، ان کے بھگتوں اور قاسمی فاضلین میں دلائل و براہین کی جنگ رہی۔ بالآخر دارالعلوم دیوبند کے فیصلے نے عجیب العلماء کے موقف کی تغلیط کردی۔
ان کی اجتہادی شان کا ایک قصہ وہ بھی ہے جو اب اگرچہ تین برس پرانا ہو چکا، مگر اس کے نقوش اب بھی کسی قدر قائم ہیں۔ حضرت نے فرمایا تھا کہ قرآن کی مروجہ تقسیم غلط ہے۔ تیس پاروں میں جس نے تقسیم کیا، اس نے غلط کیا۔ پاروں کا آغاز درست نہیں۔ اس پر بھی کافی لے دے ہوئی۔ سلطان القلم اور شاعرِ ہند نے ان کی جم کر خبر لی۔ کہرام مچ گیا۔ افسوس اس کا ہے کہ اس میں بھی عجیب العلماء ہی کو شکست ملی۔
حضرت عجیب العلماء پر نصاب کا مالیخولیا بھی سوار رہتا ہے۔ جب وہ مدارس کے اجلاس میں مدعو ہوں تو نصاب میں کیڑے نکالنا ان کا فطری حق ہے۔ دارالعلوم دیوبند تو ان کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ وہ اس پر حملہ کرنے کا کوئی موقع نہیں چوکتے۔ ان کے مامورین پر بھی نصاب نصاب کا بھوت چڑھا رہتا ہے۔
حضرت عجیب العلماء کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ خبروں میں رہنا انہیں بالکل پسند نہیں، اخبارات اور ذرائعِ ابلاغ سے ایسے بھاگتے ہیں، جیسے کوئی آفتِ ناگہانی سے۔ لیکن ان کے مریدین انہیں سرخیوں میں رکھنا اپنا پیدائشی حق خیال کرتے ہیں، چناں چہ گاہے بگاہے ان سے ایسا سوال کر ڈالتے ہیں کہ باتیں پھر باتیں پھر باتیں۔ ایک لڑی لگ جاتی ہے۔ اکثر لوگ انہیں متنازع گفتگو کا آئیڈیل بھی مانتے ہیں۔مگر میں نہیں مانتا۔ ایسی عظیم شخصیت سے متنازع گفتگو قریب المحال ہے۔ ہاں! ان کا کلام دقیق ہوتا ہے، اتنا دقیق کہ وہ غیرمسلم کے ذہنِ شریف میں تو جگہ بنا سکتا ہے، تاہم اوروں کے لیے اس کی پرواز تک رسائی ناممکن ہے۔ اسی دقتِ کلام کی بنا پر ان کی گفتگو پر ایک جنگ چھڑ جاتی ہے اور مباحثے کا ایک لامتناہی سلسلہ جنم لیتا ہے۔
حضرت عجیب العلماء میں ایک بات اور ہے، جو مجھے بہت اچھی لگتی ہے، وہ یہ کہ اپنی بے باکی میں کوئی نظیر نہیں رکھتے۔ وہ عرب کی پالیسیوں پر کھل کر بولتے ہیں۔ ان کی ایسی کی تیسی کر ڈالتے ہیں۔ سعودی حکمرانوں کی موجودگی میں حج و عمرہ کو بھی مناسب خیال نہیں کرتے اور مسلمانوں کو ان سے روکتے ہیں۔ جس چیز کو حق جانتے ہیں، اسے برملا کہہ ڈالتے ہیں۔ مولانا محمد کلیم الاسلام پھلتی صاحب کے خلاف پوری ایک کتاب ہی لکھ ڈالی، جس سے عجیب العلماء صاحب کی علمی قابلیت، جذبۂ نہی عن المنکر اور احقاقِ حق صاف جھلکتا ہے۔
مولانا خلیل الرحیم نعمانی صاحب سے انہیں خدا واسطے کا بیر ہے۔ یہ بھی نہی عن المنکر کے جذبے کے تحت ہے۔ ان پر وہ طرح طرح کے الزامات عائد کرتے ہیں۔جن پر ہندی مسلمان حیران ہیں، مگر کیا کیجیے، حقائق کو پردوں میں زیادہ دنوں تک مستور رکھنا مصلحت کے خلاف بھی ہے اور دین و دانش سے بھی پرے۔
احقاقِ حق کا ان کا یہ جذبہ بسااوقات انہیں سبیل المسلمین سے دور بھی لے جاتا ہے، مگر حضرت عجیب کے ساتھ غریب بھی ہیں، اس لیے غریب الوجود اور قلیل المثال باتیں پیش کرنا ان کی مجتہدانہ شان پر خوب جچتا ہے۔ وہ اس وقت بھی شاہ سرخیوں میں رہے جب طلاقِ ثلاثہ کا موضوع زوروں پر تھا، اجماع سے ہٹ کر نہ صرف یہ کہ انہوں نے اپنی ایک الگ رائے قائم کی، بلکہ حکومتی بل کی حمایت میں انہوں نے زوردار تقریر بھی کرڈالی۔ حق بیانی کی اس سے حسین مثال چشمِ فلک نے پہلے شاذ و نادر ہی دیکھی ہوگی۔
حضرت عجیب العلماء صاحب فکرِ امت میں اپنی سیاہی کو سفیدی میں بدل چکے۔ ملت کی خیرخواہی کے لیے ان سے جو بن پڑا، انہوں نے اس سے دریغ نہیں کیا۔ نوجوانوں کی تربیت کے لیے جمعیۃ شباب الامۃ کے نام سے ایک تحریک کی بنیاد بھی رکھی، جس کے پروگرام ہوتے ہیں۔ انہیں خلافتِ اسلامیہ کا بڑا شوق ہے، جب بھی خلافت کی صدا بلند ہوتی ہے، حضرت اس پر لبیک کہہ ڈالتے ہیں۔ ممنوعہ جماعتوں کو خط لکھنے سے بھی نہیں چوکتے، یہ الگ بات ہے کہ بعد میں رجوع کرنے میں انہیں ذرہ برابر دیر نہیں لگتی۔
حضرت کو مسلم پرسنل لا بینر سے بہت چڑ ہے۔ وہ اسے کئی وجہوں سے درست نہیں مانتے۔ ایک تو یہ کہ یہ انگریزی نام ہے، دوسرے یہ کہ اس پر چند مولویوں کی اجارہ داری ہے اور تیسرے یہ کہ اس میں متشدد لوگ شامل ہیں۔ لہذا وہ ببانگِ دہل کہتے ہیں کہ مسلم پرسنل لا بینر مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم نہیں۔ اس کے لیے میں خود شریعت بورڈ بنا رہا ہوں۔
حضرت بڑے رحیم بھی واقع ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسی رحمت کے جذبے کے پیشِ نظر آزرانِ وقت کو بھی گلے لگایا ہے۔ وہ صاف کہتے ہیں کہ معبودانِ آزر بھی برحق ہیں۔ ان میں سے بعض پیغمبر بھی تھے۔ ان کا احترام کرنے کا خود شریعت نے حکم دیا ہے۔
حضرت بڑے فیاض بھی ہیں۔ ان کی یہی فیاضی ہے کہ مسجد جیسی چیز بھی ہبہ کرنے کو تیار ہیں۔ وہ مسلمانوں کی فلاح کے لیے مسجد مندر کا جھگڑا ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کی نکیر کوئی جنون زدہ ہی کرے گا۔ حضرت کی نظر بڑی دور رس اور جہاں پیما ہے۔ وہ جب کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو اپنی نظر سے اس میں شگاف ڈال دیتے ہیں۔ یہی دور رس نظر ہے کہ مسجد کا قضیہ تمام کرنے کے لیے فقہ حنبلی کا جزئیہ اٹھا کر لے آئے۔ جمہور امت اسے دور کی کوڑی سمجھ رہی ہے۔ یہ اپنا اپنا ظرف ہے۔ جس کو جو سمجھ میں آئے کرے۔ کوئی ہو، نہ ہو، میں تو حضرت کے ساتھ ہوں۔ کیوں کہ ان کی شخصیت دہ در دہ ہے، ہر متعارض خیال ان کے آشیانۂ قلب میں پناہ گزیں ہے، اس کے ساتھ ہی وہ علماء میں سب سے عجیب بھی ہیں۔