عبوری بجٹ میں حکومت کی متوقع سوغاتیں


ڈاکٹر منور حسن کمال
پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے حکومت مخالف نتائج آنے کے بعد مرکزی حکومت نے عوامی مفاد سے متعلق منصوبوں پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ پہلے پہل اس نے اچانک اعلیٰ طبقات کے ان خاندانوں کے افراد کے لیے جن کی سالانہ آمدنی 8لاکھ روپے سے کم ہے، 10فیصد ریزرویشن کا اعلان کیا اور پھر یہ بل دونوں ایوانوں میں منظور بھی کرلیا گیا۔ راجیہ سبھا میں جہاں دوسرے فیصلوں پر کامیابی کی مہر لگنے میں حکومت کو پسینے چھوٹے اور وہ آرڈیننس لانے پر مجبور ہوئی، یہ بل بہت جلد منظور ہوگیا۔ اس لیے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اگر اس بل کی مخالفت کرتیں تو عوام میں یہ پیغام جاتا کہ حکومت کے مفادعامہ سے متعلق بل کو حزب اقتدار نافذ کرنا چاہتا ہے اور حزب اختلاف اس میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ اس لیے حزب اختلاف نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس بل پر دستخط کردیے۔
اب عبوری بجٹ کے موقع پر بھی حزب اقتدار عوام کے لیے بہت سی سوغاتیں لانے پر غوروفکر کررہا ہے۔ سیاسی گلیاروں میں یہ خبریں عام ہیں کہ مرکزی حکومت انتخابی بجٹ میں روزگار، کسان، غیرملکی سرمایہ کاری پالیسی اور تجارت کے محاذپر مہربانیوں کے پیغام دے سکتی ہے۔ اس کے لیے کسانوں کے کھاتوں میں براہ راست رقم ٹرانسفر، انکم ٹیکس دینے والے طبقوں کے لیے دائرۂ کار میں توسیع، مکان خریدنے پر جی ایس ٹی میں چھوٹ اور چھوٹے تاجروں کو سستے قرض کی فراہمی جیسے فیصلے لیے جاسکتے ہیں۔
حالیہ اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی شکست کی اہم وجہ کانگریس کے کسانوں کے قرض معاف کرنے کے اعلانات کو سمجھا جارہا ہے، اس لیے مرکزی حکومت نے کسانوں پر نظر مرکوز کردی ہے۔ ملک کے کروڑوں کسان جو اپنی فصلوں کی کم قیمت ملنے سے مرکزی حکومت سے ناراض ہیں، انہیں منانے کی تیاریاں ہیں، اس لیے ہر فصل سیزن سے پہلے فی ایکٹر ایک معینہ رقم براہ راست کسانوں کے کھاتوں میں ڈالنے کا اعلان متوقع ہے۔ اس سے ملک کے تقریباً 21.6کروڑ کسانوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ ساتھ ہی کسانوں کو ایک لاکھ روپے تک بلاسودقرض کی فراہمی اوروقت سے پہلے قرض ادا کرنے والے کسانوں کو سود میں راحت دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
متوسط طبقات کو ہوم لون کے سود میں رعایت دینے اور مکان خریدنے پر جی ایس ٹی میں راحت ملنے کے آثار ہیں۔ زیرتعمیر فلیٹ پر جی ایس ٹی کو 12فیصد سے گھٹاکر 5فیصد کے سلیب میں لایا جاسکتا ہے۔ انکم ٹیکس دہندگان کئی برس سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کی چھوٹ میں اضافہ ہوگا۔ یوپی اے حکومت کے وقت سے چلی آرہی ڈھائی لاکھ تک کی چھوٹ اب تک چلی آرہی ہے۔ یوپی اے حکومت سے اس کے آخری بجٹ میں انکم ٹیکس دہندگان خاص طور سے ملازمت پیشہ طبقہ کو بہت زیادہ امیدیں تھیں، لیکن اس وقت کی حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی تھی، جس کے نتیجے میں ملازمت پیشہ طبقہ بھی یوپی اے حکومت سے سخت ناراض ہوگیا تھا۔ اس کی ناراضگی کا ہی نتیجہ تھا کہ یوپی اے حکومت کو اس طبقہ کا ووٹ بھی بہت کم ملا تھا۔ اب برسراقتدار حکومت پھر اس طبقے پر نظر استحسان ڈالنے جارہی ہے، اس پر غوروفکر کیا جاسکتا ہے کہ اس دائرہ کو ڈھائی لاکھ سے بڑھا کر 3لاکھ سے پانچ لاکھ تک کیسے کیا جائے، تاکہ یہ طبقہ حکومت کے حق میں ووٹنگ کے وقت خوش ہوکر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکے۔
دراصل سیاسی تجزیہ نگاروں میں یہ بات موضوع بحث ہے کہ جب 10فیصد ریزرویشن کے لیے 8لاکھ کی آمدنی کو طے کیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ متوسط طبقہ بھی غریبوں کے دائرے میں ہے اور مرکزی حکومت نے انہیں غریب تسلیم کرلیا ہے۔ یہاں یہ سوال قائم کرنا قطعی درست نظر آتا ہے کہ پھر ڈھائی لاکھ سے کچھ زیادہ آمدنی والے مالدار کیسے ہوگئے اور ان پر انکم ٹیکس کا بوجھ کیوں رہے۔ اس لیے ان کو بھی راحت ملنے کی امید ہے۔ دراصل 2014کے عام انتخابات سے قبل بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں انکم ٹیکس چھوٹ کا دائرہ بڑھا کر 3لاکھ روپے کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس پر ابھی تک عمل نہیں ہوسکا۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ اپنے عبوری بجٹ میں انکم ٹیکس دہندگان کے اس طبقے کو فائدہ پہنچائے۔ یوپی اے حکومت کے وقت اس وقت کے بی جے پی لیڈر یشونت سنہا کی صدارت والی ممبران پارلیمنٹ کی کمیٹی نے انکم ٹیکس چھوٹ 1.80لاکھ روپے سے بڑھا کر 3لاکھ روپے کرنے کی سفارش کی تھی، جس پر مرکزی حکومت کے چاروں بجٹ میں غور کیا گیا، یہ طبقہ ہر برس اسی آس میں رہتا ہے اور اس کو کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ طبقہ حکومت کو سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے اور اسی پر سب سے زیادہ بوجھ ہے۔ اس لیے کہ ایک تو ڈھائی لاکھ سے ذرا زیادہ آمدنی ہوتے ہی اس کو ٹیکس دینا پڑتا ہے اور جو اشیائے ضروریہ وہ بازار سے خریدتا ہے، ان پر بھی اس کو ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ گویا یہ طبقہ بہت زیادہ بوجھ برداشت کرتا ہے۔ سیاسی گلیاروں میں یہ خبریں گشت کررہی ہیں کہ اس وقت حکومت کے سامنے 3 تجاویز زیرغور ہیں۔ ایک تجویز تو یہ ہے کہ انکم ٹیکس کا دائرہ ڈھائی لاکھ روپے سے بڑھا کر 3لاکھ روپے کردیا جائے، دوسری تجویز یہ ہے کہ 4لاکھ روپے کیا جائے اور تیسری تجویز 5لاکھ روپے کی ہے۔ ادھر کابینہ نے ایک بڑا فیصلہ لیا ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرنے کے بعد حکومت سے ٹیکس ریفنڈ لینے کے لیے دو مہینے کا وقت لگتا ہے، اب تجویز یہ ہے کہ ایک دن سے بھی کم وقت میں ریفنڈ انکم ٹیکس دہندگان کے کھاتوں میں واپس آجائے گا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں میں یہ بات بھی موضوع بحث ہے کہ این ڈی اے حکومت نے اپنے انتخابی منشور اور چاروں عام بجٹ میں جو اعلانات کیے ہیں، ان میں سے 40فیصد پر بھی عمل نہیں ہوسکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق حکومت نے اپنے عام بجٹ میں 600اعلان کیے ہیں، جن میں 350اعلانات پر عمل ہوا ہے۔ 250اعلانات ایسے ہیں جن پر گفتگو بھی نہیں ہوئی، تقریباً 175اعلانات پر قدم تو اٹھائے گئے، لیکن ان پر عمل نہیں ہوا۔ تقریباً 10اعلانات پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اب حکومت سنجیدگی سے ایسے اقدامات کرنا چاہتی ہے جس کا عام انتخابات 2019میں اسے راست فائدہ مل سکے۔ لیکن اگر یہ اقدامات فوراً کیے جاتے ہیں تو حکومت کو اس کے لیے چار لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی ضرورت ہوگی۔ حکومت کو امید ہے کہ ریزروبینک آف انڈیا اپنے ریزروفنڈ سے مارچ 2019 تک اسے 30سے 40ہزار کروڑ روپے دے سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے اس برس ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کے توسط سے تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کی بچت کی ہے، جس کو حکومت مذکورہ بالا مدوں میں استعمال کرسکتی ہے۔ مرکزی حکومت جی ایس ٹی میں پہلے ہی تخفیف کرچکی ہے، اس کی وجہ سے بھی حکومت کو عام بجٹ میں فائدہ ملنے کی پوری امید ہے۔
حکومت کے یہ اقدامات عوامی مفاد میں ہیں۔ اب ان پر جتنی جلدی عمل ہوتا ہے، اسی حساب سے حکومت مخالف ہوا بدل سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ عوامی مفاد کے اعلانات اور ان پر عمل آوری میں بہت دیرہوچکی ہے، لیکن آخری وقت کی حکومت کی نوازشیں اور متوقع سوغارتیں عوام کو ضرور متوجہ کریں گی۔ اس لیے کہ آخری وقت کی فائدہ پہنچانے والی باتیں عام انتخابات کے وقت عوام کو ضرور یاد رہیں گی اور وہ گزشتہ برسوں میں ہوئی تاخیر کو معاف کردیں گے۔
اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ حکومت کے آخری وقت میں کیے گئے اقدامات سے اس کو کتنا فائدہ پہنچا ہے۔ ان تمام منصوبوں کو حکومت جتنی جلد زمین پر اتارتی ہے اور عام آدمی تک ان کا فائدہ پہنچتا ہے، اتنا ہی حکومت کو فائدہ مل سکتا ہے۔ عوام کی یادداشت اگرچہ بہت کمزور ہوتی ہے، لیکن اتنی بھی کمزور نہیں جتنی سیاست داں سمجھے بیٹھے رہتے ہیں۔ عوام تو بس یہ چاہتے ہیں کہ انہیں سہولت سے دو وقت کی روٹی میسر ہو اور ہمارے ملک کی ترقی کی رفتار تیز ہو اور دنیا میں ہماری معیشت کی جو مقبولیت ہے، اس کو چار چاند لگ جائیں۔