عباسی حکومت میں کتابوں اور کتب خانوں کی اہمیت


(ڈاکٹراورنگ زیب اعظمی کی زیرِ ترجمہ کتاب’’حرکۃ الترجمۃ فی العصر العباسی‘‘سے ایک اقتباس)
نایاب حسن قاسمی
عصرِ عباسی دیگر بہت سی سماجی،سیاسی و علمی فتوحات کے ساتھ لاتعداد کتب خانوں کی موجودگی کے حوالے سے بھی ممتاز سمجھا جاتا ہے ،حتی کہ اس دور میں ایک بھی ایسا صاحبِ علم نہیں پایاجاتا تھا،جس کے پاس ذاتی کتب خانہ نہ ہو۔ذیل میں ان کتب خانوں کے علمی اثرات پر مختصراً روشنی ڈالی جارہی ہے:
۱۔وہ عرب ،جو اپنی ذکاوت و ذہانت اورقوتِ حافظہ پر فخر کرتے تھے،انھیں اس بات کی عار دلائی جاتی تھی کہ ان کے پاس کتابی شکل میں کوئی علمی سرمایہ نہیں ہے۔ عہدِ عباسی میں تصنیف و تالیف اور ترجمہ و جمعِ کتاب کی تحریک نے ان کی اس کمی کوبھی دور کردیا اور اب وہ سننے اور یاد کرنے سے زیادہ تحریر و تصنیف پر فخر کرنے کے قابل ہوگئے۔
۲۔اس عہد میں یہ چیز مسلمانوں کی علمی روایت کا جزوِلاینفک ہوگئی؛چنانچہ اس دور کا ہر خلیفہ یا وزیر و امیر اپنے گھر میں ایک کتب خانہ قائم کرتا اوراس میں قیمتی کتابیں جمع کرتا تھا۔
۳۔تمام خلفا،وزراو امراکے محل میں لائبریریاں تھیں،ایک بھی محل اس سے خالی نہ تھا،جیساکہ ابوبکر بن یحی الصولی کے اس واقعے سے بھی پتا چلتا ہے۔اس نے ایک بار خلیفہ راضی باللہ سے کہا:
’’لوگوں میں اس بات کا چرچاہے کہ ہمارے آقا نے اپنی علمی جلالت و عظمت کے باوجود خلفاے سابقین کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے محل میں لائبریری قائم کی ہے‘‘۔(اخبارالراضی باللہ والمتقی للہ،ص:۳۹)
اس سے پہلے کے عباسی خلفا میں یہ حضرات گزرچکے تھے:سفاح،منصور،مہدی،ہادی،ہارون رشید،امین،مامون، معتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین، معتز، مہتدی، معتمد،معتضد،مکتفی اور مقتدر۔مذکورہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان خلفانے بھی اپنے اپنے دورِ خلافت میں اس علمی روایت کو برقراررکھا تھا؛لیکن اصحابِ سیر و سوانح نے ان میں سے صرف منصور،ہارون رشید اورمامون کے ذاتی کتب خانوں کا ذکر کیا ہے۔ایسا شاید اس لیے ہواکہ لائبریریاں قائم کرنا عہدِ عباسی میں اسلامی حکومت و ثقافت کا ایک لازمی اورحکومت کے معمول کا حصہ تھا؛اس لیے مؤرخین نے ہر خلیفہ کے حوالے سے باہتمام اس کا ذکر نہیں کیا۔
۴۔عام لوگوں کے استفادے کے لیے مسجدو ں میں بھی لائبریریاں بنوائی جاتی تھیں۔جیسا کہ اصحابِ سیر و سوانح نے لکھا ہے کہ ابونصر احمد بن حامد اصفہانی اور حسان بن سعید المنیعی نے عوام و خواص کے لیے بہت سی مسجدوں میں کتب خانے بنوائے تھے۔(وفیات الاعیان، ج:۱، ص: ۶۰۔۶۱، الانساب، ص: ۵۴۳)
۵۔اسی طرح اس زمانے میں عام گزرگاہوں اور راستوں کے کناروں پر بھی لائبریریاں قائم کی جاتی تھیں؛تاکہ اصحابِ ذوق اسلامی و علمی نوادرات و ذخائر سے جب اور جہاں چاہیں،استفادہ کریں۔یاقوت الحموی کے بیان کے مطابق ایک ہی شہر میں اس قسم کی دس دس لائبریریاں پائی جاتی تھیں۔(کتاب الحیوان،ج:۱،ص:۶۰۔۶۱)
۶۔مسلمانوں میں حصولِ علم اور مطالعۂ کتب کا غیر معمولی شوق تھا؛چنانچہ مروی ہے کہ جب ابوبکر صولی راضی باللہ اوراس کے بھائی ہارون کو پڑھا رہاتھا،تو اسی زمانے میں انھوں نے فقہ،ادب و زبان کی کتابوں پر مشتمل لائبریری بنانی شروع کردی تھی،کہا جاتا ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کی ذاتی کتابوں پر مشتمل اپنی علاحدہ لائبریریاں تھیں۔(اخبارالراضی باللہ والمتقی للہ،ص:۳۹۔۴۰)
۷۔لوگ کتابوں کو اپنے گھر اور محفلوں کی زینت کا سامان سمجھتے تھے،وہ اس لیے بھی کتابیں جمع کرتے تھے کہ معاشرے میں انھیں اہلِ علم و افاضلِ قوم میں شمار کیاجائے۔’’نفح الطیب من غصن الأندلس الرطیب‘‘نامی کتاب میں ایک مالدار شخص کا تذکرہ ہے کہ وہ محض اپنے گھر کو سجانے ،سنوارنے کے لیے کتابیں خریداکرتا تھا۔(ج:۳،ص:۱۰۔۱۱)
۸۔اس دور کے علمانے صرف اپنے لیے لائبریریاں نہیں بنوائیں ؛بلکہ اپنی اولاد کے لیے بھی بنوائیں؛چنانچہ ابوالحسن علی بن عبداللہ الطائی نے اپنے بیٹے ابوالبرکات اور ابوعبداللہ دونوں کے لیے الگ الگ کتب خانے قائم کیے تھے،جبکہ ان دونوں کے علاوہ اس کے پاس پہلے سے اپنا ایک ذاتی کتب خانہ موجود تھا۔(معجم الادباء،ج:۶،ص:۲۲)
۹۔بعض دفعہ کتب خانوں کے مالک اپنے یہاں مطالعے کے لیے آنے والے شائقینِ علم و کتب کی مالی مددکرکے ان کواس کی مزید ترغیب دیتے تھے،جیسے کہ ابن سوار اور ابوالقاسم موصلی کے بارے میں مروی ہے کہ یہ حضرات اپنی لائبریریوں میں مطالعے کے لیے آنے والوں کوروپے پیسے اورمال و اسباب کی شکل میں ہدیے بھی دیا کرتے تھے۔ (احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم،ص:۴۱۳،معجم الادباء،ج:۲،ص:۲۰)
۱۰۔بیٹیوں کو جہیز کے طورپر کتب خانے دیے جاتے تھے،جیسا کہ مشہور محدث امام اسحاق بن راہویہ کے بارے میں منقول ہے کہ انھوں نے عبداللہ زغدانی سے امام شافعی کی تصانیف پر مشتمل کتب خانے کے حصول کی خاطر ان کی بیٹی سے شادی کی تھی۔(الانساب،ص:۲۸۶)
۱۱۔کتب خانے کی اہمیت اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ نہ صرف اہلِ علم ان سے استفادے کے لیے سفرکیاکرتے تھے؛بلکہ شعرا کتب خانوں کی تعریف میں اشعار بھی کہتے تھے،جیسے کہ ابوالعلامعری کے بارے میں مشہور ہے کہ جب اس نے بغداد کے کتب خانہ ’’دارالعلم‘‘کا مشاہدہ،تو اسے بے پناہ خوشی ہوئی اور اس نے اس کے لائبریرین کی تعریف میں اشعار کہے۔(إنباہ الرواۃ،ص:۱۷۶)
۱۲۔اس زمانے میں علم و فن اور کتاب و کتب خانے کی اہمیت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ بسااوقات تنگیِ معاش کی وجہ سے خود بھوکے رہ سکتے تھے یا اپنے گھر والوں کو بھوکا رکھ سکتے تھے،مگر اپنی کوئی کتاب بیچنے پر راضی نہ ہوتے تھے۔اس کی ایک مثال ابراہیم الحربی کا واقعہ ہے کہ اس نے اپنے بچوں کو بھوکا رکھا،مگر اپنی لائبریری کی ایک کتاب بھی فروخت نہ کی۔(تاریخ بغداد،ج:۶،ص:۳۳)
۱۳۔عہدِ عباسی میں کتب خانے رہن پر بھی دیے اور لیے جاتے تھے،اس سے بھی ان کی اہمیت کا پتا چلتا ہے،گویاان کی حیثیت گھر یا زمین جائداد جیسی تھی، جنھیں رہن پر دیا یا لیاجاسکتا تھا،اس کی وجہ سے بعض دفعہ بعض لوگوں کے کتب خانوں کی کتابیں چوری بھی ہوجاتی تھیں اور چوری کرنے والا اسے دوسرے انداز میں مارکیٹ میں لاتا اوران سے مالی منفعت حاصل کرتا تھا۔
۱۴۔لوگوں نے صرف اپنی کتابیں رکھنے کے لیے بڑی خوب صورت عمارتیں بنوائیں،انہی لوگوں میں سے ایک سابور بن اردشیر تھا،جس نے بغداد کے’’کرخ‘‘نامی محلے میں کتب خانے کی ایک عالیشان عمارت بنوائی تھی۔(کتاب المنتظم،ج:۷،ص:۱۷۲)ایک ابوالشیخ بن محمد بھی تھا،جس نے اصفہان میں کتب خانے کے لیے ایک عمارت بنوائی،گرچہ اس کی زندگی میں وہ عمارت پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکی تھی۔(خریدۃ القصر،ص:۲۵)
۱۵۔لوگ غربت کے باوجود کتابیں جمع کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے،جیساکہ ابراہیم الحربی کے واقعے سے اس کی مثال پیش کی جاچکی ہے،اس کی وجہ یہ تھی کہ صاحبِ کتاب ہونااُس وقت کے مسلم معاشرے میں سماجی وقار و عظمت کی نشانی سمجھا جاتا تھا،اسی ابراہیم الحربی کے بارے میں آتا ہے کہ اس کی غربت کو دیکھتے ہوئے اس سے کسی نے چڑانے کے لیے دریافت کیا:
’’یہ کتا بیں تم نے کیسے جمع کیں؟تووہ یہ سن کر غصہ ہوگیااور جواب دیا:اپنے خون پسینے سے جمع کی ہیں‘‘۔(تاریخ بغداد،ج:۶،ص:۳۳)
۱۶۔خلفاو امرابڑے بڑے اہلِ علم کے کتب خانے حاصل کرنے کی کوشش میں رہتے تھے؛چنانچہ جب امام احمد بن حنبلؒ کا انتقال ہوگیا،تو خلیفہ متوکل علی اللہ نے ان کے صاحبزادے کے پاس اپنا آدمی بھیجا کہ وہ امام احمد کا کتب خانہ سرکار کے ہاتھوں فروخت کردیں،مگر امام کے بیٹے نے اس سے انکار کردیا۔ (تاریخ الاسلام،ص:۸۲)
۱۷۔کتب خانوں اور کتابوں سے اس دور کے لوگوں کو اتنی محبت تھی کہ بسااوقات وہ اپنے بچوں اور عبادت سے بھی غافل ہوجاتے تھے؛چنانچہ ایک واقعہ مروی ہے کہ ابومعشر فلکی بغداد کے راستے حج کے سفر پر نکلا،وہاں اسے علی بن یحی منجم کے کتب خانے کا پتا چلا،تو اس کے کتب خانے جاپہنچااور پھر کتابوں میں ایسا مشغول ہواکہ اسے اپناسفرِ حج بھی یاد نہ رہا۔(معجم الادباء،ج:۵،۴۶۷)اسی قسم کا واقعہ یاقوت الرومی کے ساتھ بھی پیش آیا تھا۔(معجم البلدان، ج:۵، ص:۱۱۴)
۱۸۔اس زمانے میں اہلِ عرب اپنے بچوں کو تلواروں اور کتاب بازاروں میں جانے کی ترغیب دیتے تھے،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس طرح سیاسی و وملکی حفاظت کے نقطۂ نظر سے زرہ و تلوار کی ان کے نزدیک اہمیت تھی،اسی طرح ذہن و فکر کی ترقی و ثروت مندی کے لیے وہ کتابوں کی ضرورت و اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔
۱۹۔جو لوگ خلفاو امرااور وزیروں کی خدمت میں کتابیں پیش کرتے،انھیں مال و دولت اور قیمتی تحائف سے نوازاجاتا تھا؛چنانچہ جب وہب بن ابو اصیبعہ نے وزیر کمال الدین کی خدمت میں اپنی کتاب’’عیون الانباء فی طبقات الاطباء‘‘پیش کی،تواس نے اسے بہت سے مال اور خلعتِ فاخرہ سے نوازا۔(عیون الانباء فی طبقات الاطباء،ج:۳،ص:۲۸۶۔۲۸۷)
۲۰۔اس زمانے میں آج کی طرح کتابوں کی طباعت کا معقول انتظام تو تھا نہیں،مصنف خود ہی اپنے ہاتھوں سے اپنی کتاب کی کتابت کرتا تھا؛چنانچہ حفاظتی تدبیر کے طورپرعصرِ عباسی کے اہلِ قلم و اصحابِ تصنیف اپنی ایک کتاب کے تین نسخے تیارکرتے تھے ؛تاکہ اصل نسخہ ضائع نہ ہوجائے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہو،تو اس کی ایک یا دو کاپیاں موجود رہیں۔
۲۱۔لائبریری وزیروں کے محل کا لازمی حصہ ہوتی تھی؛چنانچہ کاتبوں کا مستقل انتظام ہوتا تھا اور بسا اوقات ان کے لیے چالیس چالیس تخت لگوائے جاتے تھے؛چنانچہ ابویوسف یعقوب بن ابوشیبہ اور ابو عبید محمد بن عمران المرزبانی کے محلوں کا یہی حال تھا۔(تاریخ بغداد،ج:۱۲،ص:۲۸۱،کتاب المنتظم، ج:۳، ص: ۱۳۶)
۲۲۔ان کتب خانوں میں دین و دنیا میں نفع بخش ہر قسم کی کتابیں پائی جاتی تھیں۔ اس دور کا ایک شاعر کہتا ہے:
مامن کاتب الا ستبقی
کتابتہ وان فنیت یداہ
فلا تکتب بکفک غیر شيء
یسرک في القیامۃ أن تراہ
(ایک مصنف جو کچھ لکھتا ہے،وہ باقی رہتاہے،بھلے ہی اس کے ہاتھ فنا ہوجائیں(مصنف مرجائے)لہذا تم اپنے ہاتھ سے ایسی ہی چیزیں لکھو،جنھیں دیکھ کر تمھیں قیامت کے دن مسرت حاصل ہو)
۲۳۔ماں باپ اپنے بچوں کو کتب بینی اور کتابیں جمع کرنے کی تاکید کرتے تھے؛تاکہ معاشرے میں انھوں نے محنت و مشقت کے بعد جو عزت و وقار حاصل کی ہے،وہ باقی رہے۔بدیع الزماں ہمدانی اپنے بھانجے سے کہتا ہے:
’’جب تک تمھیں علم سے شغف ہے،تعلیم گاہ سے انس ہے،قلم دوات تمھارے ساتھی ہیں اور کاپی تمھاری ہمدرد دوست ہے،تب تک تم میرے لیے میرے بیٹے جیسے ہو؛لیکن اگر تم نے اس سلسلے میں کوتاہی سے کام لیا،تومیرا،تمھارا کوئی رشتہ باقی نہیں رہے گا‘‘۔(الرسائل،ص:۱۵۲)
المختصریہ کہ علم دوستی،کتب بینی اور کتابیں جمع کرنے کے غیر معمولی شوق و جذبے کے اعتبار سے اس دور کے عوام و خواص سب ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے،وہ لوگ کتابیں پڑھنے،انھیں حاصل کرنے،لائبریریاں قائم کرنے اور انھیں سجانے سنوارنے کواپنا فریضہ سمجھنے کے ساتھ سماجی و معاشرتی وقار و اعتبار کے حصول کا ذریعہ بھی سمجھتے تھے۔علم و کتاب کے عام رواج کا نتیجہ یہ تھا کہ سیکڑوں یا ہزاروں میں سے کوئی ایک بندہ،جسے علم و مطالعے سے کچھ زیادہ دلچسپی نہ ہوتی،وہ بھی سماجی standardکو برقرار رکھنے کے لیے کتابیں خریدتا اور اپنے گھر میں لائبریری ضرور قائم کرتا تھا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*