عام انتخابات کی آہٹیں، عظیم اتحاد کی کروٹیں


ڈاکٹر منور حسن کمال
عام انتخابات 2019کی تیاریوں میں تمام پارٹیاں اپنے اپنے داؤپیج میں مصروف ہیں۔ جب عظیم اتحاد کی بات شروع کی گئی تو سیاسی گلیاروں میں یہ شور اٹھا تھا کہ اب یوپی اے اپنے اتحادیوں کے ساتھ 2019کے الیکشن میں کامیاب ہوجائے گا، لیکن اچانک ریاستی اسمبلیوں کے نومبر2018 میں ہونے والے انتخابات کے اعلان کے موقع پر بہوجن سماج پارٹی کی سپریمو مایاوتی نے مدھیہ پردیش میں اجیت جوگی کے ساتھ اتحاد کرکے عظیم اتحاد میں شگاف ڈالنے کا آغاز کردیا اور پھر دیگر پارٹیوں کے بیانات در بیانات نے عظیم اتحاد کی حکومت بنانے کے خواب کو خواب ہی رہنے دیا۔ اگرچہ مایاوتی نے یوپی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی اور کانگریس صدر راہل گاندھی کی تعریف کرتے ہوئے مکمل انکار نہیں کیا ہے، لیکن بہ ظاہر اس کے آثار مفقود نظر آرہے ہیں کہ اب اتحاد پر کوئی مستحکم لائحہ عمل سامنے آئے گا۔ حالاں کہ کانگریس اور مایاوتی کے سامنے گورکھپور، پھولپور اور کیرانہ ضمنی انتخابات کے نتائج ہیں، جن میں مشترکہ طور پر لڑے گئے الیکشن کے سبب حکمراں بی جے پی کو ناقابل یقین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن سماج وادی پارٹی کے صدر اور یوپی کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو بڑی مضبوطی سے اس بات پر قائم ہیں کہ عظیم اتحاد ضرور بنے گا۔
فی الحال مدھیہ پردیش، راجستھان اور دیگر ریاستوں میں اسمبلی انتخاب کے لیے نشستوں کی مختلف پارٹیوں میں تقسیم اور امیدواروں کے ناموں کی فہرستیں تیار ہورہی ہیں۔ کانگریس، بی جے پی، بہوجن سماج پارٹی اور عام آدمی پارٹی سبھی اپنے اپنے امیدوار طے کررہی ہیں۔ اس طرح 2019سے پہلے ان اسمبلی انتخابات کو عام انتخابات کا سیمی فائنل کہا جارہا تھا اور لگ رہا تھا کہ عظیم اتحاد ایک نئی تاریخ رقم کرے گا، لیکن پہلے مرحلے میں ہی اس نے کروٹیں لینی شروع کردی ہیں۔ حالاں کہ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو ابھی بھی پرامید ہیں کہ اسمبلی انتخابات میں نہ سہی عام انتخابات میں عظیم اتحاد ضرور بنے گا۔ اگر عظیم اتحاد قائم ہوتا ہے اور تمام پارٹیاں ایک بینر تلے انتخابات لڑتی ہیں تو بی جے پی جو پورے زورشور سے مشن 2019 کی تیاریوں میں مصروف ہے، اسے تقریباً 7ریاستوں میں سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہی وہ ریاستیں ہیں جو 2014میں بی جے پی کی جیت میں بنیادی پتھر ثابت ہوئی تھیں۔ بی جے پی کو 2014 میں 282 نشستیں ملی تھیں، جس میں 196نشستیں انہی 7ریاستوں سے حاصل ہوئی تھیں۔ ان ریاستوں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہیں کہ پارلیمنٹ کی کل 543نشستوں میں سے 273نشستیں انہی ریاستوں کی ہیں۔
اترپردیش جہاں سب سے زیادہ لوک سبھا کی 80نشستیں ہیں، 2014کے انتخابات میں بی جے پی نے 71 اور اس کی اتحادی پارٹیوں نے 2نشستیں حاصل کی تھیں، لیکن اب گورکھپور، پھولپور اور کیرانہ کے ضمنی انتخابات میں بدترین شکست کے بعد بی جے پی نے انتخابات جیتنے کے لیے اپنے پرانے ایشو رام مندر کی تعمیر کو زورشور سے اٹھانا شروع کردیا ہے۔ آر ایس ایس سربراہ جہاں پہلے اس ایشو پر عدالت کے فیصلے کے منتظر نظر آتے تھے، اب پارلیمنٹ میں قانون بناکر مندر کی جلد تعمیر کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ لیکن اگر عظیم اتحاد جیسا کہ شروع میں ظاہر ہوا تھا، اسی طرح انتخابات لڑتا ہے تو حالات پہلے جیسے تو بہرحال نہیں رہیں گے۔ اترپردیش کے بعد مہاراشٹر ملک کی دوسری سب سے بڑی ریاست ہے۔ یہاں لوک سبھا کی 48 نشستیں ہیں۔ گزشتہ عام انتخابات میں یہاں بی جے پی کو 23 اور اس کی اتحادی شیوسینا کو18نشستیں ملی تھیں، لیکن اب شیوسینا سے سخت رخ اور آپسی بگاڑ کے سبب یہاں صورت حال مختلف ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد بہار ہے جہاں لوک سبھا کی 40نشستیں ہیں۔ 2014کے عام انتخابات میں یہاں بی جے پی کو 22 اور اس کی معاون پارٹیوں کو 9نشستیں حاصل ہوئی تھیں، لیکن یہاں بھی اگر عظیم اتحاد بنتا ہے یا کوئی اور نیا گٹھ جوڑ سامنے آتا ہے تو حالات کیا رُخ اختیار کریں گے؟ کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ یہاں مسلم اور یادو ووٹ جو لالویادو کے راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے، وہ کسی اتحاد کو ووٹ دے گا یا بکھر جائے گا، یہ عام انتخابات سے قبل ہونا واضح مشکل نظر آتا ہے۔ گجرات جو بی جے پی کا ایک بڑا مرکز مانا جاتا ہے۔ وزیراعظم اور بی جے پی صدر کی جائے پیدائش ہونے کے سبب اسے مرکزی مقام حاصل ہے، یہاں کانگریس پورے زورلگارہی ہے۔ اگر تمام اپوزیشن پارٹیاں کسی اتحاد کی شکل میں مل کر بی جے پی کا مقابلہ کرتی ہیں تو یہاں سخت مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ یہاں ہاردک پٹیل، الپیش ٹھاکر اور جگنیش میوانی کا سہ فریقی سورج کب بام عروج پر پہنچ جائے، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ آندھراپردیش جہاں لوک سبھا کی 25نشستیں ہیں۔ یہاں 2014 کے عام انتخابات میں بی جے پی نے تیلگودیشم پارٹی کے ساتھ عام انتخابات لڑے تھے۔ بی جے پی کو 2اور تیلگودیشم پارٹی کو 15نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ اب ان کے درمیان اتحاد نہیں ہے، تیلگودیشم کس رُخ جاتا ہے، اسی سے یہاں کی صورت حال واضح ہوگی۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان کا معاملہ یہ ہے کہ مدھیہ پردیش میں 29 اور راجستھان میں 25نشستیں ہیں۔ مدھیہ پردیش میں 29میں سے 27اور راجستھان کی تمام 25نشستیں بی جے پی کے حصے میں آئی تھیں، لیکن موجودہ وقت میں بی جے پی کے سامنے کانگریس بہت مضبوط پوزیشن میں ہے، اس سے بی جے پی کی مشکلیں یقیناًبڑھ گئی ہیں اور اس کا صحیح پتا تو ان ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے بعد ہی چل سکے گا، لیکن فی الحال بی جے پی ہار کے خوف سے پسینے میں شرابور نظر آرہی ہے۔ اسی لیے وہ اپنے سدابہار فارمولوں پر کھل کر بولنے لگی ہے تاکہ کانگریس یا آئندہ اگر عظیم اتحاد بنتا ہے تو ان کے مقابلے کے لیے اس کی جھولی خالی نہ ہو۔ اس لیے کہ شدید مہنگائی، پٹرول، ڈیژل کے نرخ میں آگ اور رافیل سودے کے روپ میں اس کے سامنے ایسے کئی محاذ ہیں، جن پر اس کی شکست یقینی ہوسکتی ہے۔ نومبر اور دسمبر2018 میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سے یہ بات کافی حد تک واضح ہوجائے گی کہ عام انتخابات 2019میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔سیاسی گلیاروں میں یہ بھی خبریں عام ہیں کہ ریاستی انتخابات الگ ایشوز پر لڑے جاتے ہیں اور عام انتخابات دوسرے ایشوز پر، لیکن جو بڑے ایشوز اس وقت اژدہا کی شکل میں منھ کھولے کھڑے ہیں۔ ان کا تعلق ہر سطح پر نظر آتا ہے۔ نہ مہنگائی ہی ایسا ایشو ہے، جو ریاستوں میں الگ ہو اور مرکز میں الگ، نہ پٹرول، ڈیژل ایسا ایشو ہے، جس کا تعلق الگ الگ مقام پر الگ ہو اور رہی بات رافیل سودے کی تو وہ اس قدر عام ہوچکا ہے کہ سیاست کی دنیا میں قدم رکھنے والے نوآموز بھی اس سے پوری طرح واقف ہوچکے ہیں۔ اگر عظیم اتحاد کی شکل میں اپوزیشن عام انتخابات لڑتا ہے، جس کے امکان فی الحال معدوم ہوتے نظر آرہے ہیں تو بی جے پی کو بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ لیکن جیسا کہ اسمبلی انتخابات سے عین قبل کانگریس، بہوجن سماج پارٹی، سماج وادی پارٹی اور آپ نے اپنی اپنی نشستوں کا اعلان کردیا ہے۔ اب لگتا ہے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد ہی عظیم اتحاد کی شکل واضح ہوپائے گی۔یوپی اے اپنی سابقہ اتحادی پارٹیوں کے ساتھ عام انتخابات لڑے گا یا کانگریس اکیلے ہی عام انتخابات میں میدان میں اترے گی۔ اگر عظیم اتحاد بنتا ہے تو بدرالدین اجمل بھی اس کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتہ ہی اعلان کیا ہے کہ وہ عظیم اتحاد میں شامل ہوں گے۔ عظیم اتحاد مستحکم صورت میں سامنے آتا ہے یا ابھی مزید کروٹیں لیتا ہے، یہ بھی دسمبر میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد ہی واضح ہوسکے گا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام پارٹیاں اپنے تمام ایشوز خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے، ان کو پس پشت ڈال کر عظیم اتحاد کی شکل میں عام ووٹر کے سامنے ایک مضبوط متبادل پیش کریں، جس سے ان کا وقار بھی قائم رہے اور ملک کو ایک مضبوط اور مستحکم حکومت ملے، تاکہ اس وقت ملک کو جن ناقابل بیان ایشوز کا سامنا ہے، ان سے وہ کامیابی کے ساتھ نمٹ سکے۔