عالمی کتاب میلہ میں قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام مذاکرے کا انعقاد


نئی دہلی:(پریس ریلیز)
عالمی کتاب میلہ 2019کی تھیم معذوروں سے متعلق رکھی گئی ہے۔ اس تھیم کے انتخاب سے معذوروں کے تئیں حکومت ہند کا نیک جذبہ اجاگر ہوتا ہے۔ حکومتی سطح پر ملک کے اندر عزت مآب جناب نریندر مودی جی نے معذوروں کو بااختیار بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں جو قابل تعریف ہیں۔یہ باتیں قومی اردوکونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے عالمی کتاب میلہ میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیراہتمام منعقدہ مذاکرہ بہ عنوان ’شمولیت : بااختیار بنانے کی جانب پہلا قدم ‘ میں استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان معذوروں کے تعلق سے معاشرے اور سماج کو اپنی سوچ اور نظریے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔جسمانی طو رپر معذور ہونے کے باوجود اگر کوئی ذہنی طور پر صحت مند ہے تو ہم اسے معذور نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ ہوتا ہے۔ انھوں نے اسٹیفن ہاکنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جسمانی طور پر معذور ہونے کے باوجود انھوں نے اپنی سوچ و فکر سے دنیا کے سامنے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے جو ان کے نام کو رہتی دنیا تک قائم رکھیں گے۔ اس لیے ہمیں معذوروں کے تئیں مساوی جذبہ رکھنے کی ضرورت ہے اور انھیں سماج کے مین اسٹریم میں لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے مزید کہا کہ کونسل برایل رسم الخط میں اردو سکھانے کی ایک کتاب شائع کرے گی تاکہ نابینا حضرات بھی اردو سیکھ سکیں۔

اس موقع پر قومی اردو کونسل کے وائس چیئرمین اور اس پروگرام کے مہمان خصوصی ڈاکٹر شاہد اختر نے بھی پر مغز گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ معذوروں کو لوگوں کی سوچ اور ان کے برتاؤ پر دھیان دینے کے بجائے اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر منزل کی طرف گامزن ہونا چاہیے ۔ دنیا ایسے ہی لوگوں کو عزت و وقار کی نظر سے دیکھتی ہے جن میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ موجود ہوتا ہے ۔ انھوں نے معذوروں کے تئیں معاشرے میں اخلاقی تعلیمات کو عام کرنے پر زور دیا ساتھ ہی ایسے لوگوں کی خدمات پر اردو میں ایک کتاب شائع کرنے کا مشورہ دیا۔انھوں نے کہا کہ خصوصی ضروریات کے حامل لوگ تاریخ بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور مثالیں موجود ہیں کہ ایسے لوگ کامیابی کی بلندیوں پر پہنچے ہیں۔مذاکرے میں شریک فیض اللہ خان نے کہا کہ معذورں کے تئیں اختیار اور حقوق کی بات تبھی کارگر ہوگی جب ہم اپنی سوچ و فکر میں مثبت تبدیلی لائیں گے۔ ڈاکٹر اصغر علی نے کہا کہ ایسے اہم موضوع پر مذاکرہ کرانا ہی معاشرے کی مثبت سوچ کو اجاگر کرتا ہے۔ ہمیں اس موضوع پر اور غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر سوربھ رائے نے کہا کہ حکومتی سطح پر معذوروں کے لیے قانون کا نافذ ہونا تو ٹھیک ہے لیکن اس سے بڑھ کر ہماری ذمے داری بنتی ہے کہ ہم ان کے تعلق سے کیسا رویہ رکھتے ہیں۔ پروفیسر نصر شکیل رومی نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ کو معذور تسلیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے اندر صحت مند لوگوں کے مد مقابل کچھ کر دکھانے کا جذبہ ہونا چاہیے۔ ہمیں حکومت اور دوسرے فلاحی اداروں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیں خود کو تیار کرنا ہے اور اپنی خود اعتمادی سے دنیا کو بتانا ہے کہ ہم معذور نہیں ہیں ۔اس پروگرام میں کونسل سے شائع شدہ تین کتابوں کا اجرا بھی کیا گیا۔ قومی اردو کونسل کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی نے سبھی مہمانوں کا تعارف پیش کیا اور اس پروگرام کی نظامت کے فرائض بھی انجام دیے۔ ڈاکٹر عبد الحی نے سبھی شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ نیشنل بک ٹرسٹ کے مین ایڈیٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے این بی ٹی کی جانب سے بھی شکریہ ادا کیا او ر سبھی مہمانوں کو نئے سال کا کلینڈر بھی تحفے میں پیش کیا۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر شمس اقبال اور این بی ٹی کے دیگر اسٹاف کا اہم رول رہا ۔