عاجز کہ جسے چین نہ تھا بسترِ گل پر

 
شمس تبریز قاسمی،موتیہاری
ہندوستانی صوبوں میں سے صوبہ بہار کو ایک اعلی اور ممتاز مقام حاصل ہے اور اس سرزمین کو یہ افتخار میسر ہے، کہ فقیہ، محدثین، نابغہ روز گار ادباء، شعراء اور اولیا اللہ اورقدآور شخصیات کا مسکن ہونے کا شرف حاصل ہے. ایک وقت ایسا تھا جب کہ لوگ دور دراز سے علوم و فنون سیکھنے کے لیے یہاں کا رخ کرتے تھے او یہاں کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ابتدا سے لے کر انتہائی درجات تک کی مکمل تعلیم کا معقول اور مناسب نظام تھا؛اسی لیے یہاں کے طلبہ کو تحصیل علم کے لیے بہار سے باہر جانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی. بہار کی اس علمی کمال کا اعتراف حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی نے بھی کیا ہے،لکھا ہے کہ:
”بہار مجمع علماء بود ”. یعنی بہار سربرآوردہ علماء کا مرکز تھا.
(ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت،. مصنف:مناظر أحسن گیلانی. ج:1ص:31 سن اشاعت:جمادی الثانی 1407ھ236فروری 1987ء.تیسرا ایڈیشن)
اردو ادب کی تاریخ میں دلی، لکھنؤ اور دکن کو اردو شعر و ادب کے اسکول قرار دیے گئے ہیں؛ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سرزمین بہار بھی شروع سے اب تک علوم و فنون جیسے موتیوں کا صدف رہی ہے اور اس سرزمین نے شعر و ادب کے ایسے ایسے آفتاب و ماہ تاب پیدا کیے ہیں، کہ ان کی جلالت شان کی وجہ سے کوئی انھیں آنکھ بھر کے دیکھ بھی نہیں سکتا ہے؛تبھی تو حمید عظیم آبادی نے کہا ہے کہ:
بِہار کی بھی شرکت ہے بہارِ گلشن میں
لہو سے ہم نے بھی سینچا ہے باغِ اردو کو
خیر! آسمان ادب کے جھلملاتے ہوئے انھیں ستاروں میں ایک الگ شان سے چمکتا ہوا کوکبِ سیارہ کا نام ثانی? میر، روشن ضمیر، انسانیت،شرافت اور وضعداری کی منھ بولتی تصویر، ملت کے غم خوار، دبستان عظیم آباد کے گوہر آبدار اور اقلیمِ سخن کے تاجدار پدم شری ”ڈاکٹر کلیم عاجز” ہے، جن کے کلام کو پڑھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے، کہ خواجہ میر درد سے رنگ تصوف، غالب سے فلسفیانہ رنگ و آہنگ، ناسخ سے شوخیاں، آتش سے سوز و گداز، میر تقی میر سے انداز بیاں، اکبر الہ آبادی سے طنز و مزاح اور عصر جدید کے اساتذہ سے جدت طرازیاں مانگ کر ان کی ذات تعمیر کی گئی تھی. 11/اکتوبر 1926ئکو اس بلبلِ ہزار داستان کی پیدائش بہار کے ایک مرد خیز گاؤں ”تیلہاڑا” میں ہوئی، جس سرزمین کے متعلق کسی شاعر نے کیا خوب کہا:
یہ بستی اب بھی بازار ختن ہے باکمالوں سے.
غزال آنکھیں چراتی ہیں عظیم آباد والوں سے.
ڈاکٹر کلیم احمد عاجز کی ایک خاص شناخت تھی. قدیم تہذیب و ثقافت کے پاسدار، پرانی وضع داری اور رکھ رکھا?کے قائل۔ وہ پرانی قدروں اور روایتوں کےآمین وپاسبان تھے۔ اپنی سرزمین، تہذیب و تمدن اور اپنی مٹی سے عشق کی حد تک محبت کرتے تھے او ریہ محبت ان کی رگ وریشے میں آخری سانس تک، خون کی طرح گردش کرتی رہی۔ پرانے زمانے کے شرفاء کا لباس:پاجامہ، کرتا، شیروانی اور ٹوپی آپ کا خاص لباس تھا۔ یہ لباس آپ کے لیے باعثِ افتخار تھا۔ کبھی بھی نئے زمانے کے گیٹپ نے انھیں مرعوب نہیں کیا؛یہی وجہ ہے کہ آپ سات سمندر پار، امریکہ اور کناڈا جیسے ممالک میں بھی ممتاز رہیاور ہندوستانی تہذیب و تمدن کے نقیب بنے رہے.
عزیز کیوں نہ ہو خاکِ رہِ وطن مجھ کو؟
یہ میرے ساتھ میرے پیرہن میں آئی ہے
وہ ایک عالم گیر، شہرت یافتہ اور زندہ دل شاعر تھے۔وہ تقریباً چھ دہائیوں تک اردو شعر و ادب کی زلف پریشاں کو سجاتے سنوارتے رہے اور اس اس کے چہرے کے خد وخال کو درست کر کے، اسے حسن و رعنائی کے اعلی معیار پر پہونچانیکے لیے، مثل شمع اپنی وجود کی فکر کیے بغیر لگے رہے.
سلگا اور شے ہے، جل کے مرجانے سے کیا ہوگا؟
جو ہم سے ہورہا ہے کام، پروانے سے کیا ہوگا؟
آپ کا ایک خاص انداز تھا، غزل کا ایک الگ، صاف و شفاف، چمکتے ہوئے بلوری پیمانہ تھا، جس سے میر تقی میر کا انداز انگڑائی لیتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور آپ کے اشعار کے رنگ آہنگ اور سوز و گداز خدائے سخن کے سوز و گداز سے جشمک زنی کرتے ہیں اور آپ کی شاعری میں میر کا گہرا رنگ پایا جاتا ہے. چناں چہ ”جمیل مظہری” کچھ یوں رقم طراز ہیں:
”…اور اب تو میر کے رنگِ سخن میں ایسے اشعار کہنے لگے ہیں، کہ میر کے دیوان میں کوئی انھیں شامل کردے، تو بڑے بڑے مدعیانِ فکر و نظر کو یقین ہوجائے، کہ میر کے شعر ہیں”
) کلیات کلیم عاجز، ص:69(
اور یقیناً یہ انداز آپ کا طرہ? امتیاز بن گیا۔ بھیڑ میں بھی آپ کی غزل دور سے ہی پہچانی جانے لگی۔ آپ کے اس رنگ و انداز پر لوگ جھومتے، سر دھنتے، کبھی آہ تو کبھی واہ کرتے۔ کبھی ان کی باچھیں کھلتیں، تو کبھی سسکیاں بھرتیاورکبھی آبدیدہ ہوتے۔چنا چہ ”سید علی عباس صاحب” فرماتے ہیں، کہ:
”میں نے 1952ء میں پہلی بار” کلیم عاجز ”کو دیکھا اور سنا اور ایسے ہی حیرت ومسرت ہوئی، جو ایک نجومی کو ہوتی ہے، جب وہ اپنی دور بین میں اچانک ایک ایسے انوکھے سیارے کو آسمان کی خلاؤں میں گردش کرتے دیکھتا ہے، جس کے بارے میں نہ اس نے کبھی پڑھا تھا نہ سنا تھا133.. کچھ دیر چپ کھڑے رہنے کیبعد اس نے ترنم میں اپنی غزل شروع کی اور فضا میں ایک عجیب سی نغمگی چھا گئی. جہاں تک مجھے یاد آتا ہے، وہ غزل یہ تھی:
مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں، کہ بَہار نے مجھے کیا دیا؟
تری آرزوتو نکال دی، ترا حو صلہ تو بڑھادیا
گو ستم نے مجھے ہر اک طرح مجھے ناامید بنادیا
یہ میری وفا کا کمال ہے، کہ نباہ کرکے دکھادیا
کوئی بزم ہو کوئی انجمن، یہ شعار اپنا قدیم ہے
جہاں روشنی کی کمی ملی؛ وہیں اک چراغ جلادیا
تجھے اب بھی میرے خلوص کا نہ یقین آئے، تو کیا کروں؟
ترے گیسوؤں کو سنوار کر، تجھے آئینہ بھی دکھا دیا
یہ غریب عاجزبیوطن یہ غبارِخاطرِانجمن
یہ خراب جس کیلییہوا، اسی بیوفا نے بھلا دیا.
غزل تمام ہوئی، تو نہ پوچھیے! سننیوالوں کا کیا حال ہوا؟ ہر دل میں بس ایک ہی خواہش تھی کاش! یہ نوجوان کچھ دیر اور غزل سراہتا133وہ گئیاور لگا ان کے ساتھ مشاعرے کی ساری رونق بھی چل دی. اپنے دل کا یہ حال تھا، جو بَہار کے رخصت ہونے کے بعد کسی چمن کا ہو”.
غزل جو سنتا ہے میری عاجز! وہ مجھ کو حیرت سے دیکھتا ہے
کہ دل پہ گزری ہے قیامت؛ مگر جبین پہ شکن نہیں
سخن عاجز کا کیوں پیارا لگے ہے؟
یہ کوئی درد کا مارا لگے ہے
ان کی شاعری دکھے دلوں کی صدا اور شکستہ دلوں کی آواز ہے۔ دکھ بھروں کی حکایتیں ہیں اور دل جلوں کی کہانیاں ہیں۔ آہ و نالہ ودرد ہیں اور سوزِ دل کی حرارتیں ہیں. ان کے یہاں غمِ جاناں اور غمِ دوراں؛ دونوں ہی ہیں؛ مگراس طرح دونوں کا امتزاج اور سنگم ہے، کہ غمِ ذات غمِ دوراں ہو گئے ہیں اور انھوں نے اپنی فنکارانہ مہارت و صلاحیت سے آپ بیتی کو جگ بیتی بنا دیا ہے اور بڑے ہی چابک دستی سیان کو آفاقیت اور عمومیت سے بغل گیر کر دیا ہے.
بیدم! اس انداز سے کل یوں ہم نے کہی اپنی بیتی
ہر ایک نے سمجھا محفل میں یہ میرا ہی افسانہ تھا
۔ ڈاکٹر کلیم احمد عاجز کی زندگی درد و کرب اور مصائب و آلام سے عبارت رہی؛ مگر کمال یہ تھا، کہ جبیں پہ شکن نہیں.
غموں کے بوجھ سے کانپے گا، تھرتھرائے گا
مگر مزاج جو پوچھوگے، مسکرائے گا
ابھی انھوں نے جوانی کی دہلیز پر قدم ہی رکھا تھا کہ والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا. ابھی اس واقعے کو کزرے ہوئے کچھ ہی دن ہوئے تھے، کہ چرخ ستم گر نے بھائی کو چھین کر غم کو مزید دو بالا کر دیا۔ والد اور بھائی کے غم ابھی تازہ ہی تھے کہ ۶۴۹۱ میں بہار کے چھپرہ ضلع میں ہونے والے فرقہ وارانہ فساد کی آگ کی لپٹ نے ان کے آبائی وطن تیلہاڑہ تک کو اپنی لپیٹے میں لے لیا، جس نے ان کی گلشن کی ہریالی کو خزاں میں تبدیل کر دیا؛ کیوں اس میں ان کی والدہ، بہن اور دوسرے بہت سے قریب ترین اعزہ و اقرباء اور رشتہ دار شہید ہو گئے۔ اس پورے سانحہ کا نقشہ ’’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘‘ کے طویل مقدمہ میں کلیم عاجز نے کھینچا ہے۔ اس میں ایسی تاثیر اور سحر بیانی ہے کہ پڑھنے والا آہیں بھرنے لگتا ہے۔
کلیم احمد عاجز اپنے گذرنے والے سانحات و واقعات کو ذہن و دل میں زندہ اور تازہ رکھنا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے جو طرز اسلوب اختیار کیا وہ بہت سحر انگیز اور اثر انگیز ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ کلیم عاجز اپنی زبان میں اس کی دل کی بات کہ رہے ہیں۔
جھومتے ہیں سب میرے اشعار پر
میرے دل میں سب کے دل کی بات ہے
کلیم صاحب ایک حساس، نازک مزاج او رزندہ دل شاعر تھے۔ ان کا ملی اور سیاسی شعور بھی بہت ہی پختہ اور بالیدہ تھا۔ انہوں نے اپنی غزلوں کے پس پردہ ملی و سیاسی مسائل اور حالات حاضرہ پر زبردست تبصرہ اور چوٹ کیا ہے۔ ۲۷۹۱ میں جب بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا تو اس وقت ان کا یہ شعر کافی مشہور ہواتھا۔
اب انسانوں کی بستی کا یہ عالم ہے کہ مت پوچھو
لگے ہے آگ اک گھر میں تو ہمسایہ ہوا دے ہے
اسی طرح جب ملک میں ایمر جنسی نافذ تھی، زبانوں پر تالے لگے ہوئے تھے، قلم کی روشنائی خشک ہو چکی تھی، آنجہانی اندرا گاندھی کے رعب و دبدبہ کے سامنے بڑے بڑے لیڈران بھیگی بلی بنے ہوئے تھے اس وقت بھی کلیم احمد عاجز نے لال قلعہ کی فصیل سے محترمہ اندرا گاندھی کو للکارتے ہوئے کہا تھا:
یہ شہسوار وقت ہیں اتنا نشے میں چور
گر جائیں گے اگر یہ اتارے نہ جائیں گے
جادو وہ ہے جو سر چڑھ کر بولے۔ کلیم عاجز کی شاعری، شاعری نہیں ساحری ہے جو سر چڑھ کر بولتی ہے۔ چناں چہ ان کے زمانے کے بڑے بڑے ادیبوں، شاعروں اور نقادوں نے بھی ان کی صلاحیت و قابلیت کے آگے سر تسلیم خم کیا۔ رگھو پتی سہائے فراق گورکھپوری جیسے انانیت پسند شاعر بھی آپ کی ہوش ربا شاعری سے مخمور ہوئے نہ رہ سکا؛چناں چہ انہوں نے ان الفاظ میں آپ کی شاعری کو سراہا ہے۔
’’میں اپنی زندگی کی اہم خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ مجھے جناب کلیم عاجز صاحب کا کلام خود ان کے منھ سے سننے کے موقعے ملے۔ اب تک لوگوں کی شاعری پڑھ کر یا سن کر پسندیدگی اور کبھی کبھی قدر شناسی کے جذبات میرے اندر پیدا ہوتے رہے۔ لیکن جب میں نے کلیم عاجز صاحب کا کلام سنا تو شاعر اور اس کے کلام پر مجھے ٹوٹ کر پیار آیا۔ ہم آہنگی، محبت اور نا قابل برداشت خوشی کے جذبات میرے اندر پیدا ہو گئے۔ ان کا کلام مجھے اتنا پسند آیا کہ مجھے تکلیف سی ہونے لگی اور کلیم عاجز صاحب پر غصہ آنے لگا کہ یہ کیوں اتنا اچھا کہتے ہیں۔ ان کے اس جرم اور قصور کے لئے میں انہیں کبھی معاف نہیں کر سکتا۔ اتنی دھلی زبان، یہ گھلاوٹ، لب و لہجہ کا یہ جادو جو صرف انتہائی خلوص سے پیدا ہو سکتا ہے اس سے پہلے مجھے کبھی اس موجودہ صدی میں دیکھنے یا سننے کو نہیں ملا تھا۔ میں ان کا کلام سن کر خود اپنا کلام بھول گیا‘‘۔
شاید ڈاکٹر کلیم صاحب اس بات سے بہت ہی اچھی طرح واقف تھے، کہ سادگی بہ ذات خود ایک حسن ہے اور سادگی میں جو قیامت ہے، وہ کسی اور چیز میں نہیں؛ اسی لیے انہوں نے زبان میں سادگی اپنائی تھی؛ لیکن ہاں! ان کی زبان میں سلاست تھی، پیچیدگی اور ژولیدگی نہیں ہے۔ روز مرہ استعمال ہونے والے عام فہم الفاظ کو بھی اپنی فنی مہارت سے، کسی باکمال جوہری کی طرح اپنی شاعری میں اس طرح ٹانک دیا ہے، کہ اس کا حسن اور بھی دو آتشہ ہوگیا ہے۔ عاجز صاحب وارداتِ قلب اور سچے جذبات کے اظہار کے لئے دقت پسندی اور تخیل پسندی سے کام نہیں لیتے ہیں۔ لا ریب انھوں نے میر کی طرح عام بول چال کی زبان کو بھی شاعری کا خوبصورت جامہ پہنایا ہے۔ عام ناقدین شعر و ادب کا خیال ہے کہ کلیم احمد عاجز میر کے پیروکار ہیں اور ان کا اسلوب میر کے اسلوب سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے خود بھی اس کا دعویٰ کیا ہے:
اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں ہے
کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے؟
کلیم احمد عاجز کی غزلوں کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے اردو شاعری کو نئے امکانات سے روشناس کرایا، نیا لب و لہجہ عطا کیا، نیا رنگ و آہنگ بخشا، منفرد طرز و ادا سے ہمکنار کرایا۔ میر کے اسلوب کی تجدید کی۔ اسے نئی زندگی بخشی۔ میر کا سادہ مگر پر تاثیر لہجہ جو ماضی کی تاریکیوں میں گم ہو چکا تھا اس میں نئی روح پھونکی۔ انہوں نے پرانی زبان، کلاسیکی الفاظ کو نیا پیرہن عطا کیا۔ اردو غزل کو عشق و عاشقی، لب و رخسار، زلف و کمر کی تنگ دامنی سے نکال کر بڑے بڑے مسائل کو بھلا کر اور میٹھا رس دے کر غزل کے سانچے میں ڈھال دیا.
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
ڈاکٹر کلیم احمد عاجز یک ایسا چھتنار برگد ہیں، جن کے نیچے ہر صنف ادب کو پناہ ملی:چاہے وہ نثر نگاری ہو یا شاعری، انشا نگاری ہو کہ مضمون نویسی؛ کلیم عاجز کی ہر ایک صنف میں اپنا ایک خاص مقام ہے. وہ صرف شاعر ہی نہیں تھے؛ بل کہ ایک ہشت پہلو شخصیت کے حامل تھے۔ جہاں انہیں شاعری پر زبردست کمال حاصل تھا۔ وہیں نثر پر بھی انہیں زبردست درک تھا۔ ان کی نثر اپنی مثال آپ ہے۔ شاعری کی طرح ان کی نثر میں بھی بلا کا جادو اور سحر بیانی پائی جاتی ہے۔ نثر میں انہوں نے اپنی کئی یاد گار کتابیں چھوڑی ہیں:
جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی، یہاں سے کعبہ، کعبہ سے مدینہ، ایک دیس ایک بدیسی، سفر نامہ امریکہ، ابھی سن لو مجھ سے، بہار میں اردو شاعری کا ارتقا، دفتر گم گشتہ، مجلس ادب (خطوط کا مجموعہ) میری زبان، میرا قلم(دو جلدیں) ان کتابوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ کلیم احمد عاجز ایک بہترین نثر نگار اور ایک واضح نقطہ نظر رکھنے والے مبصر اور تنقید نگار تھے۔ ان کی ہر تحریر سوزِ دروں میں ڈوبی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح کلیم احمد عاجز کو سفر نامہ لکھنے میں بھی مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے دو سفر نامے لکھے، جس کے پڑھنے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کے اندر اچھے سفر نامے لکھنے کی بے پناہ صلاحیت تھی۔ ان کے سفر نامے کی ایک خوبی یہ ہے کہ پڑھنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ خود بھی سفر کر رہا ہے۔ یہاں سے کعبہ، کعبہ سے مدینہ۔ اس سفر نامہ حج میں انہوں نے جو منظر نگاری کی ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر لفظ عشق و محبت او رسوز دروں میں ڈوب کر لکھا گیا ہے۔
ڈاکٹر کلیم احمد عاجز۔ غمِ جاناں اور غمِ دوراں دونوں سے آزادی پاکر اور دنیائے آب وگِل کی مصیبتوں اور پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کرکے ۵۱ فروری ۵۱۰۲ کو صبح ۷ بجے اپنے لاکھوں پرستاروں کو روتا بلکتا چھوڑ کر اس دارِ فانی سے دار البقاء کی طرف کوچ کر گئے.
جان دینا ہی پڑی شرحِ وفا کے واسطے
بات نازک تھی، بڑی مشکل سے سمجھائی گئی
ریسرچ اسکالر شیخ الہند اکیڈمی،
دار العلوم، دیوبند
07669514995