طلا ق مخالف بل کے خلاف پٹنہ کی تاریخ میں مسلم خواتین کا سب سے بڑا احتجاجی جلوس 

امارت شرعیہ کی تحریک پر طلاق بل کے خلاف مسلم خواتین 
پٹنہ :(قندیل نیوز؍عادل فریدی )

آج مورخہ ۱۸؍ فروری ۲۰۱۸ء ؁ روز اتوار کو پٹنہ ضلع کی مسلم خواتین نے طلاق مخالف بل (دی مسلم وومین پروٹیکشن آف رائٹ آن میرج) بل ۲۰۱۷ء ؁ کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور ہزاروں کی تعداد میں پٹنہ سائنس کالج سے سبزی باغ موڑ تک خاموش احتجاجی جلوس میں جمع ہو کر سرکار کے سامنے اپنی نا راضگی کا اظہار کیا، آج صبح ہی سے پٹنہ کے تمام مسلم محلو ں سے جوق در جوق مسلم مرد و خواتین کا رخ اشوک راج پتھ کی جانب ہونے لگا دیکھتے ہی دیکھتے پٹنہ سائنس کالج سے لے ک سبزی باغ ، باقر گنج تک کی سڑ ک احتجاج میں شریک ہونے والی خواتین سے بھر گئیں ، ہزاروں کی تعداد میں مرد رضا کار بھی سڑ کوں کے کنارے اور انجمن اسلامیہ ہال کے ارد گرد راستہ کلیر کرانے اور خواتین کو سہولت پہونچانے میں لگے ہوئے نظر آئے، دوسری جانب انجمن اسلامیہ ہال کا اندرونی اور بیرونی پورا حصہ احتجاج میں شریک خواتین سے پُر تھا ،بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے درجنوں مائک بردار مرد حضرات مختلف مقامات پر مقرر تھے اور اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دے رہے تھے ۔ امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے ذمہ داران و کارکنان مستقل جلوس کو منظم کرتے نظر آئے ، امارت شرعیہ کے ناظم مولانا انیس الرحمن قاسمی اور ان کے ہمراہ مولانا محمد شبلی القاسمی نائب ناظم ، ہر محاذ پرسر گرم اور متحرک رہے اور خصوصی ہدایات دیتے رہے۔ مولانا محمد سہیل احمد ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ ، مولانا محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ، مولانا عتیق اللہ قاسمی امام و خطیب جامع مسجد فقیر وارہ ، مولانا معین الدین قاسمی کارگذار سکریٹری تنظیم ائمہ مساجد، مولانا غلام اکبر قاسمی امام و خطیب جامع مسجد مراد پور وکنوینر تنظیم ائمہ مساجد، مولانا ثناء اللہ ازہری امام و خطیب جامع مسجد پیر بہور، مولانا ابرار کریم قاسمی امام و خطیب جامع مسجد بکسریا ٹولہ، مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی مفتی امارت شرعیہ ، مولانا وصی احمد قاسمی نائب قاضی امارت شرعیہ، مولانا رضوان احمد ندوی ،جناب سمیع الحق صاحب نائب انچارج بیت المال،مولانا افتخار احمد نظامی معاون ناظم، مولانا ارشد رحمانی، مولانا مفتی احتکام الحق قاسمی، مولانا مطیع الرحمن شمسی دار القضا ،قاری مجیب الرحمن استاذ تحفیظ القران ، مولانا مجیب الرحمن قاسمی دربھنگوی معاون قاضی امارت شرعیہ، مولانا مجیب الرحمن قاسمی بھاگل پوری معاون قاضی امار ت شرعیہ وغیرہ حضرات سویرے ہی سے اپنی اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصروف ہو گئے، اس احتجاجی جلوس میں جماعت اسلامی بہار ، جمعیۃ علماء بہار، تنظیم تحریک ائمہ مساجد آل بہار کے ذمہ داران کے علاوہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی کنوینرڈاکٹر مہ جبین ناز اور ان کی ساتھی خواتین بازغہ انجم ، ڈاکٹر رضیہ سلطانہ، ناہید طلعت، راشٹریہ سیکولر سیوا منچ کے صدر کوثرخان وغیرہ نے قائدانہ رول ادا کیا۔ اس موقع سے انجمن اسلامیہ ہال میں ہزاروں خواتین سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی ناظم امارت شرعیہ نے فرمایا کہ مسلم خواتین کی یہ بیداری اور ان کا یہ کامیاب جلوس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے ، مگر اپنی شریعت میں ذرہ برابر مداخلت نہیں کر سکتا ۔ مرکزی حکومت نے طلاق بل کے ذریعہ مسلم معاشرہ کو جس طرح تہ و بالا کرنے اورمسلم خواتین سے ان کا دین چھیننا چاہتی ہے یہ ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے ، جسے اس ملک کے تمام انصاف پسند شہری مسلمانوں پر ظلم سمجھ رہے ہیں ۔ آج کے اس احتجاج کے ذریعہ مسلم خواتین حکومت ہند سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ اپنا بل واپس لے اور ملک کے تمام باشندوں کو ان کے مذہب پر جینے کی دستوری آزادی فراہم کرے ۔اس موقع سے جلوس میں شریک تمام خواتین بیک زبان سرکار کے اس بل کے خلاف نعرے لگا رہی تھیں ، ان کے ہاتھوں میں بل کے خلاف ہزاروں تختیاں اور بینر تھے ، جس پر بل کی واپسی کا مطالبہ ، ملک کی سالمیت اور اتحاد کے نعرے کے ساتھ مسلم پرسنل لا بورڈ زندہ با د جیسے نعرے بھی تھے ۔ ساڑھے گیارہ بجے یہ اجلاس جلوس میں تبدیل ہو گیا ، جلوس پٹنہ کی تاریخ میں اس اعتبار سے امتیازی حیثیت رکھتا ہے کہ سر زمین پٹنہ پر صرف مسلم خواتین کا کسی مذہبی ایشو پر اس سے پہلے اتنا بڑا احتجاج درج نہیں کیا گیا تھا ، جہاں لوگوں کی زبان پر سرکار مخالف نعرے تھے ، وہیں امارت شرعیہ کے اس بر وقت اقدام اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے اکابرین کی جرأت کے چرچے بھی ان کی زبانوں پر تھے ۔ جلوس کے اختتام پرانجمن اسلامیہ ہال میں پریس کانفرنس بھی ہوئی اس موقع سے پٹنہ کے ڈی ایم اور گورنر بہار کو اے ڈی ایم کے معرفت میمورنڈم بھی سونپا گیا۔میمورنڈم کا مضمون یہ تھا:
’’ہم مسلم خواتین کا یہ شدید احسا س ہے کہ پروٹیکشن آف رائٹس ان میریج ایکٹ2017بڑی عجلت میں پاس کیاگیا اور اس بل کی تیاری میں کسی مسلمان عالم دین اور دانشوروں سے مشورہ نہیں لیاگیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے 22۔8۔2017کے بعد ایسے بل کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہ بل دراصل دستور ہند کی دفعات اور خواتین وبچوں کے مفادات کے سخت خلاف ہے ۔
ہم اپیل کرتے ہیں کہ اس بل کو فوری واپس لیاجائے اور اس پر نظر ثانی کی جائے ۔ خواتین کے حقوق اور صنف سے عدل وانصاف کیاجائے ۔
ہم صدرجمہوریہ ہند کے حالیہ مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں خطبہ کے دوران مسلم خواتین کے سلسلے میں جو رکیک اور دل آزار حملے کیے گئے اس کی سختی سے نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صدرجمہوریہ کے ان الفاظ اور ریمارکس کو حذف کرے ۔
ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسلم ویمن پروٹیکشن بل کے نام پر مسلم خواتین کی اہانت و دل آزاری نہ کرے اور مسلم خواتین کو دستور ہند میں دئیے گئے حق آزادی واختیارات کو سلب کرنے کی کوشش نہ کرے ۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ صدرجمہوریہ کے خطاب میں سے مسلم خواتین سے متعلق سطور کو حذف کیاجائے اور حکومت کو مشورہ دیاجائے کہ اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے احساسات کو مجروح نہ کرے ۔ ‘‘
احتجاجی جلوس میں شامل خواتین نے سرکار کے سامنے مندرجہ ذیل مطالبات بھی رکھے ۔
ہم پٹنہ ضلع کی مسلم خواتین طلاق مخالف بل (دی مسلم وومین پروٹیکشن آف رائٹ آن میرج) بل ۲۰۱۷ء جو کہ لوک سبھا سے ۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۷ء ؁ کو پاس ہوا ہے ،اس کی زبردست مخالفت کرتے ہیں اور سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد سے جلد اس بل کو واپس لے کیوں کہ:
۱۔ یہ بل مسلم پرسنل لا میں کھلی ہوئی مداخلت ہے ، اور ہندوستانی آئین کی دفعہ۱۴اور ۱۵ کی صریح خلاف ورزی ہے ۔
۲۔ یہ بل خواتین کے خلاف ہے ، بچوں کے حقوق کے خلاف ہے حتی کہ سماج کے خلاف ہے ۔کیوں کہ جب شوہر تین سال کے لیے جیل میں ہو گا تو وہ اس بل کے مطابق بیوی اور بچوں کو گذارا بھتہ کیسے دے گا ؟ اگر وہ روزانہ مزدوری کرتا ہے تو جیل میں رہ کر کس طرح بیوی بچوں کا خرچ اٹھائے گا ،اگر وہ سرکاری نوکری میں ہے تو کیا تین سال جیل میں رہنے کے بعد اس کی نوکری برقرار رہیگی؟نوکری چھوٹ جانے کے بعد وہ کس طرح گذارا بھتہ دے گا؟اس کے علاوہ تین طلاق کو ثابت کرنے کی پوری ذمہ داری مسلم عورتوں پر ڈالی گئی ہے ، یہ عورتوں پر سراسر ظلم ہے۔
۳۔ اس بل کے مندرجات سے پتہ چلتا ہے کہ سرکار نے اس بات پر بالکل غور نہیں کیا کہ جب شوہر تین سالوں کے لیے جیل چلا جائے گا تو اس کے بعد بیوی اور بچوں کو کن خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔طلاق شدہ بیوی اور بچوں کا خرچ کون چلائے گا؟بچوں کی دیکھ بھال کون کرے گا؟کیا جب وہ تین سال جیل میں رہنے کے بعد واپس آئے گا تو وہ اپنی اس بیوی کے ساتھ خوش رہ سکے گا جس کی وجہ سے وہ تین سال جیل میں رہا ہے؟ کیا ان کے تعلقات دوبارہ صحیح ہو پائیں گے ؟
۴۔ بر سر اقتدار جماعت کی طرف سے یہ غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ یہ بل صرف تین طلاق کے خلاف ہے ، مگر حقیقت میں یہ بل پورے نظام طلاق کو ہی ختم کرنے کے لیے ہے ، سرکار کے اس وقت کے اٹارنی جنرل نے خود جسٹس یو یو للت کے سامنے ان کے پوچھنے پر سپریم کورٹ میں یہ قبول کیا تھا کہ سرکار طلاق کے پورے نظام کو ہی ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بل مسلم مردوں کو جیل میں ڈالنے اور اور خواتین کو کورٹ کا چکر لگانے کے لیے مجبور کرنے کے لیے ہے ، ہم مسلم خواتین اس بل کو ایک کالا قانون کے طور پر دیکھتی ہیں اور اس کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں ۔
۵۔اس کے علاوہ یہ بل سماج مخالف بھی ہے ، کیوں کہ اس میں ایک سماجی معاہدہ کو قابل سزا جرم بنایا جا رہا ہے ۔ اس بل کی دفعہ ۷ میں لکھا ہے کہ یہ عمل عدالتی دائرۂ کار کے اندر او غیر ضمانتی ہے ، اس کا مطلب یہ کہ کوئی تھرڈ پارٹی بھی شوہر کے خلاف شکایت کر دے تو اس شوہر کو جیل میں ڈال دیا جائے گا اور اس میں بیوی کی مرضی کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی ۔اسی طرح نکاح ایک سماجی معاہدہ ہے ، لیکن یہ بل اس کو کرمنل ایکٹ کے دائرے میں لے آئے گا جو کہ غیر اخلاقی ق غیر ضروری ہے ۔ سال ۲۰۰۶ء ؁ میں سپریم کورٹ کے معزز جسٹس ایچ کے سیما اور آر وی روندرن نے ایک مقدمہ میں فیصلہ سنایا تھا کہ سول کیس کو کرمنل کیس میں نہیں بدلا جا سکتا ہے کیوں کہ یہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے ۔
۶۔ ہم سبھی مسلم خواتین شریعت میں اور مسلم پرسنل لا میں مکمل یقین رکھتی ہیں اور اس پر عمل کرتی ہیں اور اس بات پر مکمل یقین رکھتی ہیں کہ اسلام میں طلاق کا نظام مسلم عورتوں کے لیے ظلم نہیں بلکہ ان کے لیے ایک نعمت ہے ۔ مندرجہ بالا حقائق کی بنیاد پر اور ان حالات میں ہم مسلم خواتین اس بل کی پرزور مخالفت کرتی ہیں اورسرکار سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ اس بل کو واپس لے کیوں کہ یہ ہندوستانی آئین ، خواتین کے حقوق اور جینڈر جسٹس کے خلاف ہے۔
جلوس کو کامیاب بنانے میں سبزی و اطراف کے ائمہ کرام اور سماجی وسیاسی شخصیات نے اہم رول ادا کیا۔
قندیل

قندیل

قندیل