طلاق ثلاثہ بل کا کیا ہوا؟

معوذ سید
28 دسمبر 2018 کو لوک سبھا میں منظور ہونے والا تحفظِ مسلم خواتین (طلاق ثلاثہ) بل اور 8 جنوری 2019 کو منظور ہونے والا شہریت ترمیمی بل دونوں آج 13 فروری 2019 کو آئین کی دفعہ 107 کی رو سے پارلیمنٹ میں ساقط قرار دے دیے گئے، تقریباً دو ہفتے قبل وزیرِ پارلیمانی امور نریندر سنگھ تومر نے اپوزیشن پارٹیوں سے میٹنگ کے بعد واضح کر دیا تھا کہ کہ حکومت دونوں مذکورہ بِلز کو راجیہ سبھا میں پیش نہیں کرے گی ـ
بنیادی طور پر پارلیمنٹ میں کسی بل کو ایکٹ کی حیثیت حاصل کرنے کے لیے بالترتیب تین مراحل سے گزرنا ہوتا ہے، لوک سبھا کی منظوری، راجیہ سبھا کی منظوری اور صدرجمہوریہ کی منظوری. آئین کی دفعہ 107 کی پانچویں اور آخری شق کے مطابق "اگر کوئی بِل لوک سبھا میں منظور ہو چکا ہو اور راجیہ سبھا میں زیرِ غور (پینڈنگ) ہو تو ایسا بِل لوک سبھا کے تحلیل ہو جانے کی صورت میں ساقط ہو جائے گاـ” یعنی اس بل کو لوک سبھا میں جو منظوری ملی تھی وہ کالعدم ہو جائے گی اور نئی لوک سبھا قائم ہونے کے بعد اسے نئے سرے سے دوبارہ لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا. مذکورہ بل کے ساتھ ایسی ہی صورتِ حال پیش آئی. آج 13 فروری 2019 موجودہ حکومت کی مدت میں پارلیمانی اجلاس کی کارروائی کا آخری دن تھا، اس کے بعد اپریل مئی میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں لوک سبھا تحلیل ہو جائے گی اور سترہویں لوک سبھا قائم ہو گی. چونکہ طلاق ثلاثہ بل لوک سبھا میں منظور ہو چکا تھا اور راجیہ سبھا میں اس کے زیرغور رہنے کے دوران ہی لوک سبھا تحلیل ہو جائے گی، لہٰذا آئین کی دفعہ 107 کی رو سے طلاق ثلاثہ بلور شہریت ترمیمی بل ساقط قرار پا گئے اور لوک سبھا میں بی جے پی کی واضح اکثریت کی جانب سے انہیں جو منظوری ملی تھی وہ کالعدم ہو گئی، اب اپریل-مئی میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی سترہویں لوک سبھا میں اس بل کو دوبارہ پیش کیا جانا ہو گا جہاں اسے دوبارہ بحث و تمحیص اور ترمیم و رائے شماری کے مراحل سے گزر کر راجیہ سبھا کا رخ کرنا ہو گاـ