طلاق ثلاثہ بل:اپوزیشن کی مخالفت جاری راجیہ سبھاکی کاروائی پھر ملتوی

نئی دہلی 4جنوری (قندیل نیوز)
لوک سبھامیں اپنی اکثریت کی بنیادپربی جے پی نے کسی کی ایک نہ سنی تھی لیکن اب راجیہ سبھامیں اس کی ایک نہ چل پارہی ہے۔طلاق ثلاثہ بل پر راجیہ سبھا میں بحث شروع ہوئی لیکن اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شدید مخالفت کی وجہ سے حکومت بیک فٹ پر نظر آئی ۔ ہنگامے کے بعد ایوان کو کل تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن طلاق ثلاثہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجے جانے کے مطالبے پرقائم ہے ، وہیں حکومت کی جانب سے کہا گیاہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ واضح ہو کہ کانگریس مسلسل اس بل کو سیلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔اس کے ساتھ تمل ناڈوکی دونوں پارٹیاں،بیجوجنتادل،ایس پی،این سی پی،راجد،ترنمول کانگریس اورلیفٹ پارٹیاں بھی ہیں۔ساتھ ہی این ڈی اے کی تیدپپاکے اپوزیشن کے خیمے میں جانے سے بی جے پی سرکارکی پریشانیاں اوربڑھ گئی ہیں۔ اس سے قبل آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈمستقل اپوزیشن پارٹیوں کے رابطے میں ہے اوران پردباؤبنائے ہوئے ہے جس کے بعدکانگریس کواپنی پالیسی تبدیل کرنی پڑی جس نے لوک سبھامیں دوہرارویہ اپنایاتھا۔بورڈکی طرف سے کانگریس کوواضح پیغام دیاگیاہے کہ مسلمان اس کے رویے سے سخت ناراض ہیں،سیکولرزم اورآئین کی حفاظت کرنی ہوتووہ اس مسلم مخالف بل کی کھل کرمخالفت کرے۔جس کے بعدوہ پریشرمیں آگئی اورساتھ ہی دیگراپوزیشن پارٹیوں کے اتحادکودیکھتے ہوئے اسے بھی اپنارویہ بدلناپڑاہے۔بورڈنے اس سلسلے میں تمل ناڈوکی دونوں پارٹیوں کے سربراہان کاشکریہ اداکیامزیداس کے اراکین نے کانگریس کے غلام نبی آزاد،احمدپٹیل،کپل سبل اورآنندشرماسے ملاقات کرکے ذہن سازی کی۔ مزیدلوک سبھامیں خاموش رہنے والی ترنمول کانگریس کی بھی ذہن سازی کی گئی جس کے بعداس نے بھی راجیہ سبھامیں اپوزیشن کاساتھ دیااورخودممتابنرجی بل کی مخالفت میں سامنے آگئی ہیں۔جنرل سکریٹری بورڈمولانامحمدولی رحمانی بذات خودسبھی اپوزیشن پارٹیوں کے رابطے میں ہیں۔واضح ہوکہ بدھ کوراجیہ سبھا میں بل پیش کر دیا گیا تھا، لیکن اپوزیشن کے بھاری ہنگامے کی وجہ سے بحث شروع نہیں ہو سکی تھی۔کانگریس تین طلاق بل کے اس حصے پر اعتراض کر رہی ہے ۔جس میں شوہر کو تین سال کی جیل ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ اسی میں ترمیم کی مانگ کو لے کر کانگریس نے بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کی پرزور وکالت کی ہے ۔کانگریس کی اس مانگ کو ترنمول کانگریس ، سماجوادی پارٹی سمیت کئی چھوٹی پارٹیوں کی حمایت ملی ہے اس کا واضح نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ہنگامہ ہوتا رہا اور راجیہ سبھا کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔کانگریس کے سنیئرلیڈرآنندشرمانے سرکارکوگھیرتے ہوئے کہاکہ حکومت اگرخواتین کے تئیں اتنی ہمدردہے توریزرویشن بل پیش کرے۔ واضح ہو کہ اگر سیلیکٹ کمیٹی کے پاس بل چلاگیا تو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں بچے دو دنوں میں تین طلاق کے خلاف بل پاس نہیں ہو پائے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومت بھی بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کے لیے تیار ہو گئی ہے۔مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کل بھاری ہنگامے کے درمیان تین طلاق بل کو ایوان میں پیش کیا تھا۔ پرساد نے کہا کہ جان بوجھ کر تین طلاق بل کو لٹکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔روی پرساد نے غیر معقول دلیل دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی بہت بڑی تعداد میں تین طلاق دیا جا رہا ہے۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے۔ خوش قسمتی کی بات تو یہ ہوتی کہ کئی ہزار خواتین بے آسرا آشرم کے سہارے جی رہی ہیں ان کے گذر اوقات کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ۔