Home قومی خبریں طلاق بل کے خلاف امارت شرعیہ کی تحریک جاری رہے گی : قائم مقام ناظم امارت شرعیہ 

طلاق بل کے خلاف امارت شرعیہ کی تحریک جاری رہے گی : قائم مقام ناظم امارت شرعیہ 

by قندیل

پٹنہ:(قندیل نیوز ،عادل فریدی)
اسلام اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ آخری مذہب ہے جس مین قیامت تک کے انسانون کے لئے ہدایت وکامیابی پوشیدہ ہے، مسلمان اس کی ہر ہدایت اور ہر قانون کو درست اور ضروری سمجھ کر مانتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا شبلی القاسمی نے پریس کے لیے جاری بیان میں کیا ۔ مولانا نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ اسلام کے ایک قانون کو تسلیم کیا جائے اور دوسرے کسی قانون پر اس کا دل مطمئن نہ ہو بلکہ مسلمان وہی ہے جس کا دل ودماغ اسلام کے ہر قانون پر راضی اور مطمئن ہو اس لئے مسلمان دنیا کی تمام تکلفیں بر داشت کر لیتاہے، مگر اپنے اسلام کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا، مسلمان اس بات کو اچھی طرح جانتے اور مانتے ہیں کہ اسلام کا ہر قانون محکم ہے، جس میں کسی طرح کی تبدیلی یا کمی زیادتی کی اجازت کسی فردِ بشر کو نہیں ہے، خود قرآن کے لانے والے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرآن کریم کی گواہی موجود ہے کہ نبی اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا کہا ہوا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ’’آپ کہہ دیجئے یہ میرا اختیارہی نہیں کہ میں اسلام کے کسی حکم کو بدل دوں، اس واضح حقیقت کے ہوتے ہوئے اگر کوئی فرد یا جماعت یا ملک ایسا قانون مسلمانوں پر مسلط کردے تو یہ اس کی بیوقوفی اس کے علم ودانش کی سطحی ہونے کی علامت ہے، مرکزی حکومت نے طلاق مخالف بل لوک سبھا سے منظور کر ا لیا ہے، او رپوری قوت جھونک رکھی ہے کہ کسی طرح راجیہ سبھا سے منظور ہو کر قانون کی شکل اختیار کرلے، حکومت کا یہ قانون ملک کے جمہوری نظام کو ختم کرنے اور یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی طرف پیش قدمی ہے۔ ملک کا ہر انصاف پسند شہری اس بات کا احساس کر رہا ہے کہ یہ قانون مسلم معاشرہ کو برباد کرنے کی پلاننگ، ان کے گھریلونظام کو درہم برہم کرنے اور مسلم نوجوانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کی خطرناک سازش کا حصہ ہے، مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ جس طرح نکاح سے قبل ایک خاتون دوسرے مرد کے لیے اجنبیہ ہے اور وہ مرد اس خاتون کے لئے اجنبی ہے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے حرام ہیں جب تک کہ وہ نکاح کے رشتہ میں نہ آجائیں، اسی طرح طلاق کے وقوع کے بعد دونوں ایک دوسرے کے لئے حرام ہوجاتے ہیں۔ حکومت کا یہ قانون کہتا ہے کہ طلاق دینے سے بھی وہ اس کی بیوی رہے گی ، گویا یہ قانون مسلم معاشرہ کو گندگی میں مبتلا کرنے کا قانون ہے، جبکہ دنیا کے تمام مسلم ممالک میں اور مسلمانوں کے تمام مسلک میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، صرف ایک دو مسلکوں اور بعض مسلم ممالک میں اتنی سی بات ہے کہ ایک مجلس کی دی گئی تین طلاق ایک سمجھی جائے گی ، مسلمانوں کا کوئی ملک اورکوئی طبقہ اور مسلک یہ نہیں کہتا کہ تین طلاق دینے سے طلاق ہوتی ہی نہیں ہے۔ حکومت کا یہ قانون بتاتا ہے کہ ایک بھی طلاق نہیں ہوئی، ظاہر بات ہے یہ شریعت اسلام میں کھلی ہوئی مداخلت ہے اور مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کرنا ہے جو خود اس ملک کے اساسی دستور کے خلاف ہے، ایسا کالا قانون مسلمانوں پر مسلط کیا جائے اور مسلمان خاموش تماشائی بنا رہے، ایسا نہ پہلے ہوا اور نہ آئندہ مسلمان ایسا کر سکتے ہیں، مسلمان اپنی ہر قیمتی چیز کی قربانی دیکر اسلام کی حفاظت کرتا رہاہے، ان کی قربانیوں کی تاریخ گواہ ہے۔ اس ملک میں کئی بار مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی کوشش ہوئی مگر مسلمانوں نے اور ملی قائدین نے پورے اتحاد کے ساتھ ایمانی حمیت اور اسلامی جرأت کا مظاہرہ کیا اور حکومت نے اپنا قانون واپس لیا، ابھی ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ریاستوں اور اضلاع میں مسلم خواتین کے ذریعہ اس قانون کی مخالفت میں مضبوط آواز بلند کی جائے ان کے اجلاس، احتجاج اور خاموش مظاہروں کا اہتمام کیا جائے، خواتین کے ذریعہ متعلقہ افسران ،صدر جمہوریہ اور سیاسی رہنماؤں کو اس بل کے خلاف میمورنڈم دیئے جائیں او رذرائع ابلاغ ومیڈیا کے ذریعہ یہ بات مضبوطی سے ملک کے حکمرانوں کے سامنے لائی جائے کہ یہ بل خواتین اسلام کے اوپر ظلم ونا انصافی ہے ۔ لہذا اس بل کو واپس لیا جائے، ہم یہ سمجھتے ہیں یہ وقت کا تقاضا ہے، دین کی پکار ہے، اور ہر مسلمان کے ضمیر کی آواز ہے جسے منظم طور پر جرأت کے ساتھ اور مسلسل تحریک کی شکل میں انجام دینا چاہئے، مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی عام مسلمانوں سمیت مسلمانوں کے ذمہ دار طبقہ علماء، ائمہ اور دیگر مذہبی اور ملی فکر رکھنے والی شخصیات اور مذہبی اداروں سے اس بات کی اپیل کی ہے۔ ظالم کو اس کے ظلم سے روکنا انصاف کا تقاضا بھی ہے اور یہی اسلام کی تعلیم بھی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرماجانے کے بعد جب بعض جگہوں سے اسلام کے خلاف آواز اٹھنے لگی ، اس وقت خلیفۂ اول حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جس جرأت کا مظاہرہ کیا وہ ہماے لیے نمونہ اور سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ، اس وقت آپ کا یہ اعلان تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف میں لکھا ہے، أ ینقص الدین و انا حی (دین مٹتا رہے اور میں زندہ رہوں، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں کتر بیونت ہو اور میں دیکھتا رہوں ، یہ ابو بکر سے کیسے ہو سکتا ہے ۔)
اس لیے امارت شرعیہ اپنے امیر شریعت کی ہدایت مطابق اور ناظم امارت شرعیہ کی نگرانی میں اس کالے قانون کے خلاف پوری قوت اور تسلسل سے مسلمانوں میں تحریک کے سلسلہ کو جارے رکھے گی ، جملہ مسلمانوں اور مذہبی فکر رکھنے والے حضرات سے اپنے اپنے حلقوں میں اس تحریک کو قوت کے ساتھ مسلم پرسنل لا بورڈ کی ہدایت کے مطابق چلانے کی اپیل ہے۔
واضح رہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس وقت مسلم خواتین کے احتجاجی اجلاس اور مطاہرے کی ضرورت پر زور دیا ہے ، ساتھ ہی اس اجلاس کا اہتمام پردہ کے ساتھ پر سکون ماحول میں خاموشی کے ساتھ کرنے کی ہدایت دی ہے ، ان کے ہاتھوں میں تختیاں ہوں گی ، جن پر لکھاہو ’’طلاق مخالف بل واپس لو، مسلم پرسنل لا میں مداخلت برداشت نہیں ،مسلم پرسنل لا زندہ باد‘‘ وغیرہ اور جلوس کے اختتام پر گورنر یا ضلع مجسٹریٹ کو اس بل کے خلاف ایک میمورنڈم بھی سونپیں اور ان سے مطالبہ کریں کہ اسے صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم تک پہونچائیں ۔

You may also like

Leave a Comment