Home قومی خبریں طلاق بل : پارلیمنٹ میں کانگریس ایم پی سشمیتا دیوی کی سخت مخالفت

طلاق بل : پارلیمنٹ میں کانگریس ایم پی سشمیتا دیوی کی سخت مخالفت

by قندیل

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سارے سوالات پرحکومت سے جواب مانگا،ایوان خاموش وزیرقانون پوائنٹ نوٹ کرنے لگے

نئی دہلی ۔28دسمبر(قندیل نیوز)
طلاق ثلاثہ بل پر آسام سے کانگریس کی رکن پارلیمان سشمیتا دیو ی نے بل کی پرزور انداز میں مخالفت کی اور انہو ں نے وزیر قانون سے کئی سخت سوالات بھی پوچھے ۔مخالفت کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں کہاکہ بل میں تین طلاق دینے والوں کیلئے کریمنل ایکٹ کے تحت سزا دینے کی بات کی گئی ہے جو ناقابل قبول ہے ۔مسلم ملکوں میں تین طلاق پر پابندی ہے لیکن کہیں بھی اسے کریمنل ایکٹ کے تحت نہیں رکھاگیاہے ،اس بل سے خواتین کے مسائل مزید پیچیدہ ہوں گے ۔انہوں نے وزیر قانون نے سوال کیا کہ کس بنیاد پرآپ نے ایک سول معاملہ کو کریمنل ایکٹ کے تحت کیا ہے ۔سشمیتا دیو ی نے پوچھاکہ سپریم کورٹ نے اس بارے میں بہتر کام کیاہے ،طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دیئے جانے کے بعد اس پر سز ااور قانون کی ضرورت نہیں ہے ،انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق طلاق نہیں ہوئی گویا میاں بیوی کا رشتہ برقرار ہے ،لیکن یہ قانون شوہر کو تین سالوں کیلئے جیل بھیج دے گا ۔انہوں نے ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ذرا سوچئے اگر میرے شوہر کو تین سالوں کیلئے غیر ضمانتی سزا کے تحت جیل بھیج جائے گا اس وقت مجھ پر کیا گزرے گی ،انہوں نے کہا یہ کون ساانصاف ہوگا بغیر کسی جرم کے کسی بیوی کے شوہر کو جیل بھیجائے جائے گا۔انہوں نے وزیر قانون سے یہ بھی سوال کیاجب شوہر جیل میں ہوگا تو ان کے بچوں کی کفالت کون کرے گا ،کیا حکومت ان کے نان ونفقہ کی ذمہ دار ہوگی ۔سشمیتا دیوی نے یہ بھی پوچھاکہ کیا حکومت ایسی خاتون کے تحفظ کو یقینی بنائے گی جس کا شوہر جیل میں ہوگا ۔انہوں نے صاف لفظوں میں کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد کسی قانون کی ضرورت نہیں ہے ،حکومت کو چاہیئے کہ وہ مسلم خواتین کو بااختیار بنانے اور اقتدار میں شراکت پر توجہ دے اس کی ضرورت ہے ۔
ہم آپ کو بتادیں کہ جب سشمیتا دیوی بول رہی تھیں اس وقت پورا ایوان خاموش تھا ،مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد بھی ان کی تقریر کے دوران کچھ پوائنٹس نوٹ کرتے ہوئے نظر آئے

You may also like

2 comments

نورکوثر پورنوی 28 دسمبر, 2017 - 21:20

دوسروں کی برائی بھاتی نہی انکو
اپنی برائی نظر آتی نہی انکو
خود زندہ جلا دیتا ہے اپنی گھر کی بہو کو انکے نزدیک زندہ جلانا تو ٹھیک ہے پر الگ کرنا ٹھیک نہیں
ایسے فرقہ فرست لوگ ہیں

ابو سفیان 29 دسمبر, 2017 - 20:13

طلاق جیسے غیر ضروری مدعوں میں الجھا کر اصل مدعوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس وقت میڈیا کے پاس طلاق کے سوا کوئی خبر دکھلانے کی فرصت ہی نہیں ہے

Leave a Comment