طارق چھتاری کے فن پر ایک دستاویزی کتاب


حقانی القاسمی
ناقدری تخلیقی قوتوں کو مضمحل اور پژمردہ کردیتی ہے اور ایسے میں توانا ذہن بھی ناتواں ہوجاتے ہیں۔ ہم جس بے حس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں ،وہاں ناقدری کی روش عام ہے، جس کا شکوہ غالب اور دیگر بڑے شعرا نے بھی کیا ہے۔ ایسے ناقدر شناس معاشرے میں کسی تخلیق کار کی زندگی میں ہی اس کی قدرشناسی کا سلسلہ شروع ہوجائے ،تو یقیناًیہ اس کی خوش نصیبی ہے۔ اردو کے معتبر فکشن نگار اور فکشن ناقد طارق چھتاری کی خوش بختی یہ ہے کہ ان کی شخصیت اور فن کے حوالے سے کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور کئی رسالوں کے گوشے بھی منظرعام پر آچکے ہیں،جن میں صلاح الدین پرویز (مرحوم) کی ادارت میں شائع ہونے والا آواں گارد مجلہ سہ ماہی ’’استعارہ‘‘ کا باب طارق چھتاری خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ طارق چھتاری کے افسانوں کا انگریزی کے علاوہ ہندوستان کی بیشتر زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے اور اردو کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی وہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسکالر احمد علی جوہر نے ان کے افسانوں پر تحقیقی مقالہ تحریر کیا ہے ،جو شائع ہوچکا ہے ،تو ڈاکٹر راشد انور راشد نے طارق چھتاری پر ایک بہت اہم کتاب تحریر کی ہے، جبکہ طارق چھتاری ایک ایسی شخصیت ہیں ،جو خاموشی کے ساتھ ادب کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں، ان کے اندر نہ شہرت طلبی ہے اور نہ ہی وہ تشہیری حربے استعمال کرنے کے عادی ہیں۔اس تعلق سے پروفیسر انیس اشفاق نے بڑی اہم بات لکھی ہے کہ: ’’طارق چھتاری کے اندر سبیلوں اور وسیلوں کو ڈھونڈنے کی وہ خواہش نظر نہیںآتی، جو نام نہاد اور برخود غلط ادیبوں کو تمغوں اور خطابوں کے حصول کے لیے بے چین رکھتی ہے۔‘‘ اس بے نیازی کے باوجود اگر طارق چھتاری کے افسانے تنقید کے مرکزی حوالوں میں شامل رہتے ہیں، تو یہ ان کی تخلیقی ہنرمندی اور بے پناہ ترسیلی قوت کا روشن ثبوت ہے۔
’’باغ کا دروازہ‘‘ ان کی شناخت کا ایک روشن حوالہ ہے۔ اس مجموعے میں ان کے کئی شاہکار افسانے ہیں ،جن کے تعلق سے اکثر تنقیدی حلقوں میں گفتگو ہوتی رہی ہے، خاص طور پر نیم پلیٹ، پورٹریٹ، گلوب، چابیاں ان کے ایسے افسانے ہیں، جو کسی بھی عالمی افسانوی انتخاب میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔
طارق چھتاری نے افسانے میں اسلوب اور موضوع کی سطح پر جو تجربے کیے ہیں، ان کی داد ہر بڑے ذہن نے دی ہے اور ان کے فنی نبوغ کا بیشتر ناقدین نے بھی اعتراف کیا ہے، جس کا ثبوت ڈاکٹر حامد رضا صدیقی (شعبۂ اردو، مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ) کی مرتب کردہ کتاب ’’طارق چھتاری : گنجینۂ معنی کا طلسم ‘‘ بھی ہے،جس میں بہت وقیع اور بیش قیمت تحریریں شامل ہیں۔ ان مضامین میں طارق چھتاری کے فنی امتیازو اختصاص کے حوالے سے مشاہیر نے جو کچھ بھی لکھا ہے، اس سے نہ صرف طارق چھتاری کے فن ؛بلکہ فکشن کے مضمرات کی تفہیم بھی آسان ہوجاتی ہے۔ نظام صدیقی، شافع قدوائی، سید خالد قادری، محمود ہاشمی، انیس اشفاق، حسین الحق، علی احمد فاطمی، صغیر افراہیم، سلیمان اطہر جاوید، سلام بن رزاق، عبدالصمد، انیس رفیع، معین الدین جینابڑے، صلاح الدین پرویز، اقبال واجد، مولا بخش، مشتاق صدف، معید الرحمن اور آفتاب عالم نجمی نے اپنے تنقیدی مضامین میں طارق چھتاری کی تخلیقی انفرادیت، موضوعاتی تنوع، تمثیلی رمزیاتی بیانیہ، داستانوی تمثیلی فضا، ثقافتی اضافیت، تہذیبی زوال اور تصادم، اقدار کی شکست و ریخت، موضوع کی مناسبت سے بیانیے کا تعین، ترسیلی مہارت اور ٹریٹمنٹ وغیرہ کو روشن کیا ہے۔ اس طرح ان کی تخلیقی شخصیت کے تمام زاویوں کو بہت ہی عمدگی سے سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مقالہ نگار حضرات یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہیں کہ طارق چھتاری معاصر عہد کے ایک ایسے تخلیقی فن کار ہیں، جنھوں نے افسانے میں اسلوب و موضوع کی سطح پر کچھ نئے زاویے تلاش کیے ہیں اور اردو افسانے کے افق کو وسعت عطا کی ہے۔ ان تحریروں کے علاوہ تجزیے کے ذیل میں حامدی کاشمیری، رتن سنگھ، سکندر احمد، کوثرمظہری، خالد جاوید، صفدر امام قادری، طارق سعید، امتیاز احمد، احمد رشید علیگ، معید رشیدی جیسے اہم نام شامل ہیں، جنھوں نے طارق چھتاری کے شاہکار افسانوی متون کا نہایت معروضی تجزیہ کیا ہے۔ سکندر احمد نے طارق چھتاری کے افسانہ ’’باغ کا دروازہ‘‘ کے تعلق سے لکھا ہے کہ: ’’یہ اپنی پیچیدہ اور مرکب ساخت کی بنا پر ناولٹ ہی کہلائے گا ،افسانہ نہیں،یہ کثیر الاقساط بھی ہے اور اس میں تاثر کا انتشار بھی ہے۔ ’’باغ کا دروازہ‘‘ میں ہیئت ،مواد اور طریقۂ کار کے حوالے سے جو پیچیدگی اور کثیرالجہتی پائی جاتی ہے، افسانے اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔‘‘ سکندر احمد کے اس خیال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ طارق چھتاری کے افسانوں کے ان تجزیوں سے طارق چھتاری کے افسانوی بیانیے اور متون کی تفہیم کا جو زاویہ ابھرتا ہے، وہ نئی نسل کے تجزیہ نگاروں کے لیے بھی بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
کتاب کے مرتب ڈاکٹر حامد رضا صدیقی نے اپنے مبسوط مقدمے میں طارق چھتاری کی شخصیت اور فن کا بہت معروضی اور منطقی جائزہ پیش کیا ہے۔ ان کے مقدمے سے وہ سارے زاویے بھی ذہن میں روشن ہوجاتے ہیں ،جو ایک فنکار کے باطن میں مخفی ہوا کرتے ہیں۔ کتاب میں شامل تمام مضامین اتنے وقیع ہیں کہ ہر ایک مضمون پر گفتگو طوالت کا باعث ہوگی؛ اس لیے صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب ایک ماڈل ہے ان افراد کے لیے ،جو کسی بھی تخلیقی شخصیت کے حوالے سے کتاب مرتب کرنا چاہتے ہیں۔ حسنِ ترتیب اور حسنِ انتخاب کے لیے کتاب کے مرتب حامد رضا صدیقی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ آخر میں شافع قدوائی کا یہ اقتباس اس کتاب کی معنویت اور افادیت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ: ’’اس کتاب میں طارق چھتاری کے افسانوں سے متعلق نظری مضامین کے علاوہ نمائندہ افسانوں کے خیال انگیز تجزیے شامل ہیں، اس آپادھاپی اور خوداشتہاری کے دور میں طارق چھتاری کا تخلیقی رویہ گئے زمانوں کے ان عالمو ں کی یاد تازہ کرتا ہے ، جو نام و نمود سے دور رہ کر علم و ادب کی آبیاری میں ہمہ تن مصروف رہتے تھے، کسی فنکار کے فن پر کتاب مرتب کرنا کوئی خاص بات نہیں ہے، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس فنکار کی بے محابا تعریف کے بجائے معروضی طور پر اس کے تخلیقی نابغہ کی حرکیات سے قارئین کو واقف کرایا جائے۔ اس ضمن میں کتاب کا مقدمہ بہت اہم رول ادا کرتا ہے اور ڈاکٹر حامد رضا صدیقی کا مقدمہ اس اجمال کی تفصیل پر گواہ ہے،کتاب کے مرتب نے مضامین کے انتخاب اور طارق چھتاری کے افسانوں کے تجزیوں کے شمولیت میں بھی خاصی دقتِ نظر کا ثبوت دیا ہے، جس کے لیے وہ تحسین کے مستحق ہیں۔‘‘
اس کتاب کا انتساب فکشن کے معتبر ناقد پروفیسر خورشید احمد کے نام ہے۔ اگر انتساب کے علاوہ پروفیسر خورشید احمد جیسے بالغ نظر نقاد اورفکشن کے اچھے پارکھ کی کوئی تحریر بھی طارق چھتاری کے افسانے کے حوالے سے شامل ہوجاتی، تو اس کتاب کی وقعت اور معنویت میں مزید اضافہ ہوجاتا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*