صاحبو! بات تو کر لو کبھی دانائی کی

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 13

 فضیل احمد ناصری

زندگی اپنی ہے رعنائی و شہنائی کی
بات کرتے ہیں مگر معرکہ آرائی کی

بھیڑ کی شکل ہے اور لب پہ وفا کے نغمے
پر جسے دیکھیے، جیتا ہے وہ تنہائی کی

چاہتے سب ہیں خدا کی ہو توجہ ہم پر
عادتِ بد ہے مگر عاشقِ ہر جائی کی

کوئی طاغوت سےکہہ دے تو اسےہم جانیں
ایسی تیسی تری منحوس مسیحائی کی

حادثہ کوئی ہو، باطل نظر آتا ہے تمہیں
صاحبو! بات تو کر لو کبھی دانائی کی

ہے جنوں خام ترا، عشق ہے ناکام ترا
مشق کر اور ابھی بادیہ پیمائی کی

عصرِحاضر کی صحافت کو مٹادے یارب
بات کرتی ہے تو خاتون کی انگڑائی کی

ان کو مسلم نہ کہو، صاحبِ آزر جانو
جن خبیثوں نےکلیسا میں جبیں سائی کی

آج بھی جرأتِ فاروقؓ ہو بیدار اگر
جاں نکل جائے گی کسرائی و دارائی کی

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*