شیخ العالم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام یک روزہ قومی سیمینار کاانعقاد


علمی، ادبی اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف مختلف شخصیات کو اعزازات سے سرفرازکیاگیا

جموں وکشمیر(پریس ریلیز)شیخ العالم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام گذشتہ دنوں جموں و کشمیر کی سرزمین پر ایک تاریخ ساز ادبی سیمینار بعنوان ’’اکیسویں صدی میں اردو ادب‘‘کا ہوٹل شہنشاہ پیلس،ڈلگیٹ سرینگرمیں انعقاد کیا گیا۔جس میں ریاست اور بیرونِ ریاست کے نامور ادیبوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔سیمینار میں ملک کی کئی مشہور و معروف یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں سے ریسرچ اسکالرس نے مقالات پڑھے جس میں کشمیر یونیورسٹی،سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر،جموں یونیورسٹی،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،جواہر لال نہرو یونیورسٹی،دہلی یونیورسٹی،دیوی اہلیہ یونیورسٹی،برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال،ساگر یونیورسٹی ایم پی،پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔علاوہ ازیں رام پوریوپی،مالیر کوٹلہ پنجاب،بہار،دہلی کے قلم کار،ادیب ، اساتذہ اور صحافی بھی سیمینارمیں موجود رہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ سیمینار میں اردو زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کی اچھی خاصی تعداد تھی۔سیمینار دو سیشن پر مشتمل تھا،پہلے سیشن میں دس جبکہ دوسرے سیشن میں بھی دس مقالہ نگاروں نے مقالات پڑھے۔افتتاحی سیشن کے آخر میں جموں و کشمیر کی چند معتبرعلمی و ادبی اور سماجی شخصیات وحشی سعید،فاروق مضطر،ڈاکٹر رفیق مسعودی،ڈاکٹر مشتاق عالم قادری اور بشیر چراغ کو انعام و اکرام سے نوازا گیا۔ ادارے کے صدر غلام نبی کمار نے بتایاکہ وہ تمام حضرات اردواور کشمیری زبان کی ہمہ جہت ترقی کے لیے ہمہ تن کو شاں رہتے ہیں اور خصوصاً وحشی سعید،فاروق مضطر اور مشتاق عالم قادری اردو ادب میں سرگرم کردار ادا کررہے ہیں۔رفیق مسعودی اور فاروق مضطر کی غیر موجودگی میں ان کا ایوارڑ ان کے نمائندے پرویز مانوس اور اقبال افروزکو دیا گیا۔اس سیمینار کو منعقد کرانے میں جموں اینڈ کشمیر بینک،قادری ادبی فاؤنڈیشن‘دہلی اور ہمالین ایجوکیشن مشن راجوری‘جموں کا جزوی تعاون حاصل تھا۔