شعبہ اردو دہلی یونی ورسٹی میں قاضی عبد الستار کی رحلت پر تعزیتی جلسے کا انعقاد

نئی دہلی، 30؍ اکتوبر(پریس ریلیز)
شعبہ اردودہلی یونی ورسٹی میں قاضی عبدالستار کی یاد میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا جس کی صدارت کرتے ہوئے شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے سابق صدر پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ قاضی عبدالستار خود اپنے آپ میں ایک دبستان تھے۔ ان کا اسلوب ، لب ولہجہ اور وضع قطع سب مختلف تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے یہاں گل افشانی گفتار تھی ان کی یہ خاصیت تھی کہ وہ بیان کو بیانیہ بنا دیا کرتے تھے۔ وہ اپنے شاگردوں کی بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے، ان کی تحریروں کو بغور پڑھتے اور سنتے تھے۔ دہلی یونی ورسٹی کے سینئر استاد پروفیسر ابن کنول نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ قاضی صاحب سے میرا رشتہ تقریبا پینتالیس سال پرانا ہے ۔ وہ ہمیشہ شفقت ومحبت سے پیش آتے تھے۔ قاضی صاحب اپنے اسلوب کے خود ہی موجد اور خاتم تھے۔ ان کا طرز بیان منفرد تھا۔ آٹھویں دہائی میں علی گڑھ میں موجود سبھی نوجوان افسانہ نگاروں نے قاضی اسکول کے منفرد اسلوب اور موضوع سے استفادہ کیا۔ اردو میں مولانا محمد حسین آزاد، مولانا ابوالکلام آزاد اور قاضی عبدالستار اپنے اسلوب کی وجہ سے ہمیشہ علیحدہ شناخت رکھیں گے۔ قاضی عبدالستار مرحوم نے اپنے شاگردوں کی ہر طرح اور ہر موڑ پر رہنمائی کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد سید محمد اشرف، غضنفر، طارق چھتاری، صغیر افراہیم، پیغام آفاقی وغیرہ ادب کے آسمان پر چھائے ہوئے ہیں۔ قاضی صاحب اپنے شاگردوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ شعبہ اردو کے استاد ڈاکٹر محمد کاظم نے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک عظیم فن کار کو کھودیا ہے۔ وہ بڑی بے خوفی کے ساتھ اپنی بات سب کے سامنے رکھتے تھے۔ وہ ایک عظیم اور زندہ جاوید فن کار تھے۔ سینٹ اسٹیفن کالج کے استاد ڈاکٹر شمیم احمد نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا قاضی عبدالستار ایک منفرد تاریخی ناول نگار اور افسانہ نگار تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر علی احمد ادریسی ، ڈاکٹر ناصرہ سلطانہ، ڈاکٹر شاذیہ عمیر اور نورین علی حق نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ڈاکٹر احمد امتیاز، ڈاکٹر شمیم احمد ، ڈاکٹر سرفراز جاوید، شاداب شمیم، شاہد اقبال، توصیف خاں کے علاوہ پروگرام میں کثیر تعداد میں طلبا نے شرکت کی۔