شردیادو نے دیااشارہ، 2019 میں مودی کے خلاف متحد ہوگااپوزیشن

نئی دہلی: 30 ؍جنوری(قندیل نیوز)
2019 کے لوک سبھا انتخابات کی سیاسی بساط بچھائی جانے لگی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی کی اتحادی پارٹیاں جہاں ایک ایک کرکے بغاوتی تیوراختیارکررہے ہیں۔وہیں حزب اختلاف کی جماعتیں متحد ہونے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کو ایک ساتھ لا کر مودی کے لیے مشکلات کھڑا کرنے کا بیڑا ان دنوں این سی پی صدرشردپوار نے اٹھایا ہے اور ان کے معاون جے ڈی یو کے باغی لیڈر شرد یادو بنے ہیں۔شرد یادو نے کہا کہ مرکز کی مودی اور تمام ریاستوں میں حکمراں بی جے پی حکومتوں کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف عوام میں مسلسل بڑھتے ہوئے غصے کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن کی یکجہتی کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کسانوں اور نوجوانوں کی بدحالی اور فرقہ واریت کے خطرے مسئلہ کو سنجیدگی سے لینے کے لئے اپوزیشن کا استحکام ضروری ہے۔ آج کی میٹنگ میں حزب اختلاف کی پارٹیوں نے ملکی سطح پر بی جے پی حکومتوں کی غلط پالیسیوں پر روشنی ڈالنے کے لئے ابتدائی غوروفکرکیاگیا۔انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ 2019 میں حزب اختلاف مودی کے خلاف متحد ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں حزب اختلاف کے لیڈران اگلے ہفتے دوبارہ ملاقات کریں گے۔ یادو نے کہا کہ جلدہی میٹنگ کی تاریخ طے کرلی جائے گی۔بتا دیں کہ پوار کی دہلی رہائش گاہ پر ہوئی میٹنگ میں کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد، نیشنل کانفرنس کے رہنما فاروق عبداللہ، سی پی آئی کے ڈی راجہ اور جے ڈی یو کے باغی لیڈر شرد یادو شامل ہوئے تھے۔ شرد پوار نے اپوزیشن کی یکجہتی کے معاملے پر اجلاس سے پہلے کانگریس صدر راہل گاندھی اور سونیا گاندھی سے بات چیت کی تھی۔ اس کے بعد ہی اجلاس کا اعلان کیاتھا۔بتادیں کہ 26 جنوری کو ممبئی میں پوور کی قیادت میں ’’آئین بچاؤ‘‘کے نعرے کے ساتھ احتجاج کیا گیا تھا۔ اس میں شرد یادو، ڈی راجہ، ہاردک پٹیل، کانگریس کے سشیل کمار شندے، نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ اور ٹی ایم سی کے دنیش ترویدی سمیت دیگر رہنما شامل ہوئے تھے۔ اس دوران ہی پوار نے اپوزیشن یکجہتی کی منصوبہ طے کرنے کے لئے ذہن رکھنے والی جماعتوں کے رہنماؤں کی 29 جنوری کو دہلی میں میٹنگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔