شرار جستجو

شرار جستجو
مصنف:قیصر ضحی عالم
صفحات:125، قیمت:80 روپے
ناشر: قومی کونسل برائے بروغ اردو زبان،نئی دہلی
مبصر :ڈاکٹر ہمایوں اشرف، شعبۂ اردو،
ونوبا بھاوے یونیورسٹی، ہزاری باغ 825301 (جھارکھنڈ)
’شرار جستجو‘ زبان و ادب کے تعلق سے تحریر کردہ قیصر ضحی عالم کے 12مقالات کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب پہلی بار 1983 میں بہار اردو اکادمی، کے مالی تعاون سے شائع ہوئی تھی لیکن بعض وجوہ سے اردو کے عام قارئین تک اس کی رسائی ممکن نہیں ہو پائی۔ لہٰذا بعد میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے زیر اہتمام اس کا دوسرا ایڈیشن منظر عام پر آیا۔ یہ یقیناًایک مستحسن قدم ہے۔ اس کتاب کے مشمولات کے عنوانات ہیں۔ اردو انگریزی ذو لسانی آمیزش، حکم و التجا اردو شاعری میں، مروجہ اور روز مرہ کے چند فقرے، انگریزی اخبارات میں دخیل ہندوستانی الفاظ، ادب اور اخلاقیات، کچھ لسانیات کے متعلق، یزداں و اہرمن، قرۃ العین حیدر بحیثیت افسانہ نگار، پت جھڑ کی آواز۔ایک تجزیہ، آرنلڈ کا مذہبی نقطۂ نظر، جدید شاعری کے چند پہلواورفراق گورکھپوری۔چند تاثرات۔یہ مقالات متنوع موضوعات کے حامل ہیں۔ ان میں سے بعض کا تعلق لسانی امور سے ہے اور بقیہ ادبی جو ان کے عملی اور تاثراتی تنقید کے نمونے ہیں۔ لسانیاتی زمرے کے مضامین میں اردو انگریزی ذو لسانی آمیزش، انگریزی اخبارات میں دخیل ہندوستانی الفاظ، مروجہ اور روز مرہ کے چند فقرے اور کچھ لسانیات کے متعلق تازہ بہ کار، اہم اور معلوماتی ہیں۔
انھوں نے انگریزی صحافت میں ہندی اور اردو الفاظ کے استعمال کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ انگریزی صحافت میں بھی کثیر تعداد میں ہندوستانی الفاظ دخیل رہے ہیں۔ انگریزی ایک ایسی زبان ہے جس نے ہمیشہ دوسری زبان کے الفاظ کو اپنانے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس ضمن میں مصنف نے اردو فکشن، شاعری اور صحافت سے متعدد مثالیں بھی پیش کی ہیں جن میں انگریزی الفاظ اور محاورے بکثرت استعمال ہوئے ہیں۔
’مروجہ اور روز مرہ کے چند فقرے‘ میں پٹنہ اور گیا کے علاقے میں رائج مگدھی بولی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے قیصر ضحی صاحب نے یہ بتایا ہے کہ یہ بولی اودھی سے متاثر ہوئی اور ا س کے بعداس نے کچھ اور بھی اثرات قبول کیے۔ اسی طرح ’کچھ لسانیات کے متعلق‘ میں بھی اہم اور بہت حد تک کار آمدباتیں سامنے آئی ہیں۔ یہ مضامین لسانیات سے مصنف کی خصوصی دلچسپی اور مسلسل تحقیق و تفتیش کے مظہر ہیں۔
’حکم و التجا اردو شاعری میں‘ ایک قیمتی مضمون ہے جس میں حکم و التجا کے لب و لہجے اور ادائیگی کی وضاحت و صراحت کرتے ہوئے متعدد شعرا کے کلام سے اس کی مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں۔ موضوعاتی اعتبارسے یہ ایک منفرد مضمون ہے۔
’ادب اور اخلاقیات‘ اور ’یزداں واہرمن‘ بہت ہی فکر انگیز مضامین ہیں۔ اوّل الذکر مضمون میں مصنف نے بجا فرمایا ہے کہ کسی اعلیٰ اخلاقی تصور کے بغیر زندگی میں نہ تو کوئی تنظیم آسکتی ہے اور نہ ہی ادب میں حسن پیدا ہو سکتا ہے۔ اعلیٰ اخلاقی قدروں سے ہی زندگی سنورتی اور نکھرتی ہے۔ موخر الذکر مضمون ولیم و اٹسن کی ایک اہم نظم "Ormazd And Ahriman”کے تجزیے پر محیط ہے۔ مصنف نے اپنے تجزیاتی مطالعہ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ واٹسن کی مذکورہ نظم زرتشتیوں کے عقیدے سے مزین ہے اور اس میں شاعر نے یزداں اور اہرمن کی سر د جنگ کا ذکر بہت ہنر مندی سے کیا ہے۔
آرنلڈ کے مذہبی نقطۂ نظر کی وضاحت بھی انھوں نے خوب کی ہے۔ آرنلڈ کا خیال ہے کہ عیسائی مذہب کی Poetic Beautyہی اس کی نمایاں ترین خوبی ہے۔ قیصر ضحی صاحب کا یہ مضمون اس کے اسی خیال کے گرد طواف کرتا نظر آتا ہے۔
اگلے مضمون میں انھوں نے اردو کی جدید شاعری کا تجزیاتی مطالعہ بہت عمدگی کے ساتھ کیا ہے۔ وہ ادب میں تجربے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن تجربے کے نام پر انتشار پسندی کے سخت مخالف نظر آتے ہیں۔
قرۃ العین حیدر کے حوالے سے ان کے دونوں مضامین ان کی عملی اور تاثراتی تنقید کے عمدہ نمونے ہیں۔
فراق گورکھپوری پر تحریر کردہ مضمون تاثراتی نوعیت کا ہے۔ اس میں فراق کی شخصیت اور ان کے ادبی معتقدات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چونکہ یہ مضمون فراق کی وفات کے فوری بعد احاطۂ تحریر میں لایا گیا تھا، اس لیے اس میں توصیفی پہلو کچھ زیادہ ہی غالب ہے۔
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ’شرار جستجو‘ میں شامل مضامین دلچسپ اور معلوماتی ہیں۔ اردو میں اس نوع کے مضامین خال خال ہی لکھے جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے احمد یوسف نے اپنے دیباچہ بعنوان ’باتیں چند‘ میں قیصر ضحی عالم کے سلسلے میں آ نے والے دنوں میں ایک اچھے نقاد کی آمد کی بشارت دی ہے۔ بلا شبہ اس کا شمار اردو کی چند اچھی کتابوں میں کیا جائے گا اور اردو کے عوام و خواص قارئین، متعلمین، اساتذہ کرام اور محققین کے لیے یہ کتاب یقیناًسود مند ثابت ہوگی۔ کاغذ عمدہ، طباعت دلکش اور قیمت بھی بہت کم ہے۔ یہ کتاب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی سے بہ آسانی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*