شخصیت پرستی:دوانتہاؤں کے بیچ کا راستہ

محمد فہد حارث
نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں ہر طبقے میں شخصیت پرستی اس حد تک راسخ ہوچکی ہے کہ ہم اس کے لیے اپنے بنیادی اصولوں تک سے انحراف کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں، مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اس وقت برصغیر پاک و ہند میں شاید ہی کوئی ایسا مسلک موجود ہو، جو اس موذی مرض کا شکار نہ ہو،مقلد ،غیر مقلد، حنفی، شافعی، منکرِ حدیث، اہل قرآن غرض ہر گروہ یہاں اس بیماری میں سر سے پیر تک لت پت ہے، کہنے کو ہر ایک دعویٰ یہی کرتا ہے کہ ہمارے اصول قرآن و حدیث سے ثابت اور ان کی دَین ہیں؛ لیکن یہ سارے معاملات صرف اس وقت تک ہی نظر آتے ہیں ،جب تک اپنے مسلک کے علما کے تسامحات پر نظر نہیں پڑتی۔
جو لوگ فریقِ مخالف کے علما کے چھوٹے سے چھوٹے تسامحات کو نہیں بخشتے ،وہ اپنے علما کی عقاید کی غلطیوں تک کی تاویلیں کرنے کو تیار رہتے ہیں اور عذر دیتے ہیں کہ ان کے دوسرے کام بہت بڑے تھے؛ لیکن اصل بات تو یہی ہے کہ اگر ان کے اصلاحی کام بہت بڑے تھے ،تو ان کی پیش کردہ گمراہیاں بھی تو بہت بڑی ہیں، اس کے متعلق سب سے مناسب بات تو یہی ہے کہ اس کو اپنے علما کا تسامح مان کر سکوت اختیار کیا جائے؛ لیکن بجائے سکوت اختیار کرنے کے اس کی تاویلیں کرکے ان کے تسامح کو تسامح ہی نہیں رہنے دیا جاتا، چلیں یہ بھی قابلِ قبول ہوتا اگر ہمارے احباب کی یہ پالیسی سب کے لیے برابر ہوتی؛لیکن شومیِ قسمت کہ ایسا بھی نہیں ہوتا، اپنے علما کی ہر مبتدع تعلیم لکڑ ہضم پتھر ہضم ہوجاتی ہے؛ لیکن دوسرے مسلک کے عالم کی انہی تعلیمات کا پرچار کرکے ان کو مشرک، مبتدع اور نہ جانے کیا کیا قرار نہیں دیا جاتا۔
دل تو بڑا چاہ رہا ہے کہ مثالاً کچھ نام و امثال پیش کردوں؛ لیکن جانے دیجیے ،بات نکلے گی ،تو بہت دور تک جائے گی؛ بلکہ چلیں کر ہی دیتا ہوں،ایک پورا ٹولہ موجود ہے، جو حُبِّ صحابہؓ کے نام پر سید مودودی کو گستاخِ صحابہؓ ثابت کرنے میں لگا رہتا ہے، چلیں مان لیا کہ سید مودودی گستاخِ صحابہ ہیں ؛لیکن جن بنیادوں پر آپ سید مودودی کے لیے گستاخی کا فتویٰ لے کر آتے ہیں ،صحابہؓ کی جناب میں اس سے زیادہ سخت عبارات آپ کے اپنے اکابر کی پیش کی جاسکتی ہیں، جائیے اور ذرا معاینہ کیجئے’’خارجی فتنہ‘‘ للمؤلف قاضی مظہر حسین کا،’’ حادثۂ کربلا کا پس منظر‘‘ للمؤلف علامہ عبدالرشید نعمانی کا وغیر وغیرہ۔ سیدنا معاویہؓ کے خلاف سید مودودی کی کردہ جسارت کی صداے بازگشت ان کتب میں نظر نہ آئیں ،تو کہیے گا؛ لیکن چونکہ سید مودودی مخالف مسلک کے تھے ،سو ان کی مٹی پلید کی جاسکتی ہے، جبکہ اپنے مسلک کے عالم کوسو گناہ بھی معاف ہیں۔
اب آجائیے ذرا ایک اور جہت کی طرف، ہمارے ہاں ایک مسلک علم الغیب، ارواح کے حاضر ہونے، نذرونیاز، وحدت الوجود، حلول کے نظریات کی بنا پر بریلوی مسلک کے اکابر کی غیر معین تکفیر کا قائل ہے اور ان عقاید کے حامل افراد کو برملا مشرک قرار دیتا ہے، یہاں تک کہ ان کے جید علما غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے والوں کو ازروے قرآن مرتد تک قرار دیدیتے ہیں اور اپنے فتاویٰ میں صاف لکھتے ہیں کہ جو حضرات یہ عقیدہ رکھیں کہ مرنے کے بعد بھی ارواح اس دنیا میں آتی جاتی ہیں، تو ایسے افراد کی تکفیر کی جائے گی اور اس سلسلے میں ابن نجیم نے جو کنز الدقائق کی شرح بحر الرائق میں تحریر کیا ہے کہ جو یہ مانے کہ مشائخ کی روحیں حاضر ہوتی ہیں اور ان کو علم بھی ہے، وہ کافر ہیں کو بطور استدلال نقل بھی کیا جاتا ہے؛ لیکن افسوس صد افسوس کہ جب انہی گمراہ کن نظریات کی تعلیمات ان حضرات کے اپنے پسندیدہ علماکی صوفیانہ تعلیمات پر مشتمل کتب میں سے دکھائی جاتی ہیں، تو فوراً تاویلوں کے بکھیڑے شروع ہوجاتے ہیں، گویا جو نظریات رکھ کر بریلوی مسلک کفر و شرک کا مرتکب ہوتا ہے، انہی گمراہ کن نظریات کی تعلیم دے کر آپ کے پسندیدہ اکابر موحد رہتے ہیں ،جبکہ بریلوی مسلک اپنے ان نظریات کی تائید لاتا بھی آپ کے اکابر کی کتب سے ہی ہے۔
پھر جب آپ یہ دیکھتے ہیں کہ تاویل کا دھندہ نہیں چل پارہا، تو فوراً ارشاد فرمادیتے ہیں کہ ہمارے اکابر پر ان کی’’ان‘‘ تعلیمات کے باوجود علما نے فتویٰ نہیں لگایا ،تو ہم کیوں لگائیں؟ ہاں سید مودودی پر، بریلویوں پر ہم اس لیے فتویٰ بازی کرتے ہیں کہ ان پر ہمارے علما نے فتویٰ لگائے ہیں، لو جی قصہ ہی ختم! یہ ارشادات آتے ہیں ان اصحاب کی طرف سے جو منہجِ محدثین سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور تقلید کو علی الاعلان شرک فرماتے ہیں؛ لیکن جیسے ہی بات اپنے علما کی شخصیات اور گمراہ کن نظریات کی آتی ہے، تو فوراً تقلیدی ذہن اختیار کرلیا جاتا ہے، اہلِ دیوبند کے امداد اللہ مہاجر مکی اپنی کتاب میں وحدت الوجود کی تعلیم دیں، تو مشرک ؛لیکن بعینہٖ وہی تعلیم شاہ ولی اللہ انفاس العارفین، در ثمین، فیوض الحرمین، فیصلہ وحدت الوجود و الشہودمیں دیں، تو فوراً ان کی تاویلیں شروع، تو بھئی یہ تاویلیں آپ امداد اللہ مہاجر مکی کے لیے کیوں نہیں کرتے؟ زیادہ اصرار کرو ،تو فرماتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ سے ہماری حدیث کی سند آتی ہے، ان پر طعن اپنی اسناد پر طعن ہوگا، گویا اگر فاطمہ بنت محمدؓ چوری کریں، تو ان کو معافی ہوگی ،جبکہ فاطمہ مخزومیہ کا ہاتھ کاٹ دیا جائیگا،پھر یہ تاویل بھی ’’ عذر گناہ از بدتر گناہ‘‘ کی قبیل سے ہے، کیا آپ کے ذخیرۂ حدیث میں مبتدع ثقہ حضرات سے روایات نہیں لی گئیں؟ کیا وہاں روایت لینے کے سبب آپ نے رواۃ کے میلانات کی نفی کردی تھی؟ تو پھر یہاں نفی کیسی؟ کم از کم اصول تو ایک سا رکھیے سب کے لیے، کوئی نہیں کہتا کہ آپ اپنے اکابر کی تکفیر کریں ؛لیکن کم از کم ان کی غلط باتوں کو غلط تو جانیں، ان کا دفاع تو نہ کریں اور اس سے کم ہلکی معصیت والی باتوں کے لیے فریقِ مخالف کے علما کو بھی معذورسمجھیں؛ لیکن آپ کا سارا زور دوسرے مسلک کے علما پر ہی چلتا ہے۔
سید مودودی پر آپ استخفافِ حدیث کی تہمت لگاتے ہیں؛ لیکن جب آپ کے اکابر اپنی صوفیانہ تعلیمات کے ذریعے استخفافِ توحید کا فریضہ انجام دیتے ہیں، تو آپ عذر اور تاویلوں کی طرف رخ فرماتے ہیں، تو پھر یہ عذر و تاویلات سید مودودی کے لیے کیوں نہیں؟ آپ نے کہا کہ ہمارے اکابر اگر صوفیانہ تعلیمات کے زیرِ اثر کہیں استخفاف توحید کی معصیت میں مبتلا بھی ہوئے ،تو اپنی دوسری کتب میں انہوں نے اس کی تلافی بھی کردی اور توحید کو شرح و بسط سے بیان فرمادیا، جناب پھر تو آپ کو سید مودودی کے مداحین کی اس بات کو بھی مان لینا چاہیے، جبکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر سید مودودی نے خلافت و ملوکیت میں تاریخ کے زیرِ اثر کچھ صحابہ پر کلام کردیا، تو کیا ہوا، اپنی دوسری تحاریر میں انہوں نے صحابہ کا بھرپور دفاع بھی تو کیا ہے؛ لیکن وہاں آپ ان کایہ عذر ماننے کو تیار نہیں ہوتے، گویا اپنے اکابر کے لیے اصول الگ اور دوسروں کے علما کے لیے اصول الگ۔
یہ تو حال تھا اس طبقہ کے’’ صرف چند افراد ‘‘کا ،جو تقلید کو شرعی طور پر حرام جانتے ہیں، ورنہ الحمدللہ ثم الحمداللہ منہجِ محدثین سے وابستہ مسلک کے لوگوں کی اکثریت ان دہرے معیارات سے مبّرا ہے، اب آجائیں ان اصحاب کی طرف ،جو تقلید کو ضروریاتِ دین میں سے مانتے ہیں اور حُبّ صحابہ کو دین کا جزو لاینفک جانتے ہیں؛ لیکن یہ جزو صرف اس وقت تک لاینفک ہے ،جب تک کہ کوئی غیر اس کا اقدام کرے، جونہی کوئی اپنا صحابہ پر طعن کرے گا، تو فوراً تاویلوں کے باب کھل جائیں گے، رازی اور جصاص کی دہائیاں شروع ہوجائیں گی، اس وقت واقدی بھی ثقہ و ثبت بنادیے جاتے ہیں، محمد بن اسحٰق بن یسار جو فاتحہ خلف الامام کے معاملے میں ناقابلِ حجت راوی ہوتے ہیں، اپنے اکابر کی طعنِ صحابہ سے متعلق پیش کردہ روایات کے ضمن میں ثقہ ترین ہوجاتے ہیں، فیا للعجب! گویا سید مودودی نے خلافت و ملوکیت لکھی ،تو وہ گستاخ ؛لیکن خارجی فتنہ میں سیدنا معاویہؓ کو خاطی، باغی، جائر، معصیت اور نصوص قرآنی کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دے دیا گیا، تو یہ گستاخی نہیں؛ بلکہ عین تعظیم و توقیر ٹھہری، قاضی طاہر علی الہاشمی نے ’’ناقدینِ معاویہؓ‘‘ لکھی ،تو ایسے ہی نہ لکھ ماری تھی، ان کے پاس عبارات ہیں سیاق و سباق کے ساتھ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان عبارات سے براء ت کا اظہار کیا جاتا اور ان کو اپنے علما کا تسامح قرار دے دیا جاتا؛ لیکن برا ہو شخصیت پرستی کا کہ مفتی وقاص رفیع صاحب نے ’’عباراتِ اکابر اور امیر معاویہؓ‘‘ لکھ کر مرے پر سو درّے والا کام کیا اور سیدنا معاویہؓ کے خلاف مزید فردِ جرم عائد کردیے، یعنی جو کام خلافت و ملوکیت کے دفاع میں ملک غلام علی صاحب نے کیا تھا ،وہ اہلِ دیوبند میں مفتی وقاص رفیع کرگئے، خیر یہ سب کچھ نہیں صرف شخصیت پرستی کے کرشمے ہیں!
کوئی آپ سے یہ نہیں کہتا کہ اکابر کی توہین کریں، ان کو برا بھلا کہیں، اس احقر کا مقدمہ صرف یہ ہے کہ ہر عالم کو اس کا جائز مقام دیجیے، ان کے سہو کو سہو مانیے اور اس کی تاویلیں نہ کیجیے اور دوسرے مسلک کے علما کے سہو کو بھی سہو جانیے، ان پر اس سلسلے میں فتویٰ بازی نہ کیجیے، للہ انصاف و قسط کا دامن تھامے رہیے، اپنے ہی اصولوں سے انحراف بڑی سے بڑی قوم کو ضلالت و پستی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*