شاید وہ جلدی میں تھا!

نایاب حسن
چھوڑگیامجھ کو علوی
شاید وہ جلدی میں تھا
یہ شعراردوکے نابغہ شاعرمحمد علوی کاہے،جوآج مرحوم ہوگئے،ویسے تو علوی صاحب جلدی نہیں گئے،کہ 1927سے2018کی مدت یقیناً کم نہیں ہے،مگر ان کے جیسے زرخیزذہن،خلاق طبیعت اور قطرے میں دجلہ دیکھ لینے کی صلاحیت سے لیس شاعر کاجانایقیناً جلدی ہی جانا ہے۔انھیں پہلی بار دوسال قبل جشنِ ریختہ میں سنا،پھرپڑھا،ان کے شعروں میں بڑی واقعیت اور حقائقِ زندگی کی سچی تصویریں ہیں،سادے لفظوں ،چھوٹی بحروں،ہلکی پھلکی تعبیروں میں بڑی سے بڑی بات کہہ دیتے ہیں،مثال کے طورپراوپرکاشعرجس غزل کاہے،اس کے بقیہ اشعار دیکھ لیجیے:
کیا کہتے کیا جی میں تھا
شور بہت بستی میں تھا
پہلی بوند گری ٹپ سے
پھر سب کچھ پانی میں تھا
چھتیں گریں گھر بیٹھ گئے
زور ایسا آندھی میں تھا
موجیں ساحل پھاند گئیں
دریا گلی گلی میں تھا
میری لاش نہیں ہے یہ
کیا اتنا بھاری مَیں تھا
آخر طوفاں گزر گیا
دیکھا تو باقی مَیں تھا
محمودایازنے محمد علوی کے پہلے شعری مجموعہ’’خالی مکان‘‘کے پیش لفظ میں لکھاتھاکہ’’علوی بچوں کی طرح شاعری کرتے ہیں‘‘،جس کی تشریح شمس الرحمن فاروقی نے ان کے دوسرے شعری مجموعہ’’آخری دن کی تلاش‘‘کے پیش لفظ میں یوں کی کہ’’ ان کا ذوقِ تجسس وتحیر آج بھی اتناہی تازہ ہے،جتناننھے بچوں کا ہوتا ہے،جو ہرنئی چیزکو شوق اور دلچسپی سے دیکھتے ہیں اور اس سے ایک معصوم اور بے غرض مسرت حاصل کرتے ہیں‘‘۔محمودصاحب نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’’علوی احساس اور آنکھ کے شاعرہیں‘‘۔اول الذکرکتاب کا سنِ اشاعت1963ہے اور ثانی الذکرکا1968،ہم نے انھیں جب پہلی بارعلوی صاحب کو شعرپڑھتے اور انھیں محسوس کرتے ہوئے دیکھا،تو یقین ساہوگیا کہ سترپچہترسال بعدبھی وہ بچوں ہی کی طرح معصوم،متجسس اور بے غرض ہیں،مولانا دریابادی کی تعبیر’’پیرِ نابالغ‘‘کے مصداق!مذکورہ مجموعوں کے علاوہ’’تیسری کتاب‘‘،’’چوتھاآسمان‘‘،’’خالی مکان‘‘،’’رات ادھرادھرروشن‘‘بھی ان کے اہم شعری مجموعے ہیں،آخرالذکرکتاب کی ضخامت لگ بھگ پونے چھ سوصفحات ہے۔محمد علوی کے فکر و فن پر اسی کی دہائی میں ہی ایک دلچسپ کتاب’’محمد علوی:ایک مطالعہ‘‘کے نام سے کمارپاشی نے مرتب کی تھی،جس میں مجتبیٰ حسین،زبیر رضوی،مخمورسعیدی،شمیم حنفی،شمس الرحمن فاروقی،وزیر آغا،حامدی کاشمیری،عتیق اللہ،ابوالکلام قاسمی ،وارث علوی،مغنی تبسم،بلراج کومل وغیرہم کے مضامین ،تجزیے ،تاثرات وغیرہ شامل تھے۔اس کے علاوہ بھی ان کی شخصیت و شاعری پر کافی کچھ لکھا گیا ہے۔
بہرکیف وہ اس وقت ہندوستان ہی نہیں ،پوری اردودنیاے ادب و شعرکے نابغہ وممتازشاعر تھے،خداے پاک انھیں اپنی رحمتوں سے نوازے۔