سی بی آئی میں مبینہ اکھاڑپچھاڑکی حقیقت!

عبدالعزیز
عام طور پر میڈیا میں عوام و خواص کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ تفتیشی ادارہ سی بی آئی میں دو بڑے افسران یعنی ڈائرکٹرآلوک ورما اور راکیش استھانہ میں آپسی جنگ چھڑگئی تھی، ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے تھے، جس سے ادارہ بدنام اور مجروح ہو رہا ہے اور اسی وجہ سے حکومت کو رات کے اندھیرے میں بے ضابطگی کے ساتھ دونوں افسران کو چھٹی پر بھیج دینا پڑا اور دونوں کے دفاترسیل کردیئے گئے، آلوک ورما کی ماتحتی میں جتنے افسران کام کر رہے تھے، ان کو ٹرانسفر کر دیا گیا، اس اقدام پر جس کی بھی نظر پڑے گی، وہ فوراً سمجھ جائے گا کہ معاملہ دو افسرا ن کی جنگ کا نہیں ،کچھ اور ہے؛ کیونکہ سارے افسران کو کسی دفتر سے آناً فاناً ہٹا دیا جائے یا ٹرانسفر کر دیا جائے، اس سے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔
حقیقت میں معاملہ بہت گمبھیر ہے، نریندر مودی نے وزیر اعظم کی گدی پر براجمان ہوتے ہی گجرات میں جس طرح آمرانہ حکومت کر رہے تھے، بالکل اسی طرح پورے ملک میں حکومت کرنے کا منصوبہ بنایا، سب سے پہلے سی بی آئی کو اپنے قبضہ میں کرنے کیلئے راکیش استھانہ کو جو گجرات کیڈر کے افسر ہیں، ڈائرکٹر بنانے کی کوشش کی؛ لیکن تنہا ایک شخص سی بی آئی کے ڈائرکٹر کا تقرر نہیں کرسکتا ہے ؛بلکہ وزیر اعظم، چیف جسٹس آف انڈیا اور اپوزیشن لیڈر کی سہ رکنی تقرری کمیٹی ہوتی ہے ،جس کی وجہ سے نریندر مودی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے، بعد میں انھوں نے آلوک ورما (ڈائرکٹر) کے اعتراض کے باوجود اپنے منظور نظر افسر راکیش استھانہ کو اسپیشل ڈائرکٹر بنانے میں کامیاب ہوگئے۔
استھانہ کی کہانی یہ ہے کہ پہلے انھیں سابق وزیر داخلہ، ایل کے اڈوانی نے اپنے دورِ حکومت میں گجرات کے دورہ پر آتے جاتے پسند کرلیا، بعد میں اپنے شاگرد رشید نریندر مودی سے اس کا تعارف کرایا، استھانہ نے اڈوانی کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ان کے رول ماڈل سردار ولبھ بھائی پٹیل ہیں اور صرف اس وجہ سے اڈوانی نے ان کو اپنا بنالیا تھا، جب اڈوانی گجرات جاتے ،تو ان کی محافظت کی ذمے داری استھانہ کو دی جاتی، سردار پٹیل کے بعد استھانہ مودی بھکت ہوگئے، نریندر مودی نے گودھرا ریلوے اسٹیشن پر ٹرین میں آگ لگنے کے واقعہ کی انکوائری ان کے سپرد کردی تھی،ابتدائی پولس انکوائری میں کہا گیا تھا کہ ٹرین میں آگ اچانک اور حادثاتی طورپر لگی، استھانہ نے انکوائری میں آگ لگنے کے واقعہ کو منصوبہ بند بتایا اور ایک مسلمان حاجی داڑھی والے کی طرف اشارہ کیا، جس سے پورا الزام مسلمانوں پر تھوپ دیا گیا، نریندر مودی نے اسی کو بنیاد بناکر مسلمانوں کے خلاف بیان دیا اور نتیجتاً پورے گجرات میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا، بعد میں استھانہ کو سہراب الدین انکاؤنٹر کیس میں بھی انکوائری کا کام سونپا گیا ،جس میں امیت شاہ کو استھانہ نے کلین چٹ دے دی، اس طرح امیت شاہ کے بھی وہ قریب ہوگئے۔
آلوک ورما نے جب استھانہ کے تقرر کا مسئلہ زیر بحث لایا، تو نوٹ دیا کہ استھانہ ایماندار شخص نہیں ہے ؛بلکہ متنازعہ شخصیت کا حامل ہے، اسے اس تفتیشی ادارے میں نہ لیا جائے، اس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ،مگر مودی جی کو سی بی آئی کو اپنے قبضے میں رکھنا تھا ؛اس لیے ورما کی ایک نہ چلی۔
4 اکتوبر 2018ء کو ارون شوری، یشونت سنہا اور پرشانت بھوشن نے سی بی آئی کے ڈائرکٹر آلوک ورما سے ان کے دفتر میں جاکر ملاقات کی تھی اور رافیل فائٹر (فرانس) کے معاملے کے خلاف ایف آئی آر کرنے کا مطالبہ کیا تھا، ورما نے ایف آئی آر درج کرنا چاہا یا کردیا، جس کی وجہ سے حکومت نے ورما کے خلاف اپنی آنکھیں لال پیلی کرلیں اور استھانہ کواس کے خلاف اکسایا، ورما نے الزام لگایاتھاکہ معین قریشی کے معاملے میں استھانہ نے تین کروڑ کی رقم رشوت میں لی تھی، اس کے خلاف پہلے سے ہی ایف آئی آر کر رکھا تھا، استھانہ نے حکومت کے اشارے پر ڈائرکٹر الوک ورما پر بھی الزام لگا دیا کہ انھوں نے بھی دو کروڑ روپے رشوت لی ہے، اسے کاؤنٹر الزام تراشی کہہ کر آلوک ورما کے ایف آئی آر کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا میں اس کو خوب اچھالا گیا اور تاثر آیا کہ سی بی آئی میں دو بڑے افسران میں گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی ہے، حکومت نے غیر قانونی کارروائی کی کہ دونوں بڑے افسران کے ساتھ آلوک ورما کے ماتحت افسران کو بھی ٹرانسفر کر دیا، حکومت کے اس قانونی اقدام کی وجہ سے آلوک ورما نے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس کی شنوائی جمعہ کے دن ہوگی، پرشانت بھوشن نے ،جو ملک کے بڑے وکیل ہیں، کہاکہ کسی بڑے چور کے خلاف ایف آئی آر کر دیا جائے اور چور ایف آئی آر کرنے والے کے خلاف بھی الزام چوری کا لگائے، تو اسے کیسے قابل قبول سمجھا جاسکتا ہے اور اسے کیسے آپسی لڑائی پر محمول کیا جاسکتا ہے، یہ سراسر رافیل ڈیل کی انکوائری کو ٹھپ کرنے اور طشت ازبام کرنے پر روک لگانے کی کوشش ہے۔
دہلی میں کانگریس حکومت کے آخری زمانے میں انا ہزارے کی سربراہی میں دہلی میں کرپشن کے خلاف زبردست مظاہرہ ہوا تھا، لگاتار کئی دنوں تک یہ ہوتا رہا، جب حکومت نے لوک پال بل پاس کرانے اور قانون بنانے کی بات مان لی، تو انا ہزارے کی بھوک ہڑتال ختم ہوئی، احتجاج کرنے والوں کے ساتھ تمام اپوزیشن پارٹیاں تھیں اور بی جے پی، آر ایس ایس والے آگے آگے تھے، بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ لوک پال بل اقتدار میں آتے ہی پاس کرادے گی اور سی بی آئی، جو سپریم کورٹ کے ایک ریمارک کے مطابق پنجرے کا طوطا ہے، اسے آزاد اور خود مختار ادارہ بنا یا جائے گا، مگربی جے پی یا مودی کے اقتدار میں آتے ہی ملک میں جو کچھ ہوا، وہ دنیا کے سامنے ہے، سی بی آئی ،جو ہندستان کا سب سے بڑا تفتیشی ادارہ ہے، جس پر لوگ کچھ بھروسہ کرتے تھے ،کسی بھی بڑے معاملے میں سی بی آئی جانچ کی مانگ کی جاتی تھی ،اس کے سب سے بڑے افسر کو اس کے عہدے سے اس لیے ہٹا دیا گیا یا چھٹی پر بھیج دیا گیا کہ اس نے اپنے ایک ماتحت کی رشوت خوری پر انگشت نمائی کی اور حکومت وقت کی رافیل ڈیل اسکیم کے خلاف ایف آئی آر درج کرانا چاہا، اب پورے طور پر معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، امید ہے کہ سپریم کورٹ آلوک ورما کو پھر سے ان کے عہدے پر بحال کرنے کا فیصلہ کرے گی؛ کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوا ،تو معاملہ آگے چل کر اور بھی خراب اور سنگین ہوجائے گا، جو بھی سی بی آئی ڈائرکٹر کچھ کرنا چاہے گا اور اس کی زد حکومت پر آئے گی ،تو اس کا اپنے عہدہ پر رہنا دوبھر ہوجائے گا، پھر کون افسر ہوگا، جو صحیح قدم اٹھانے کی جرأت کرے گا؟
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*