سیکولرزم کوختم کرنے کی سازش خطرناک: مولاناارشدمدنی

ممبئی :19؍جنوری (قندیل نیوز)
نوی ممبئی میں تربھے ایس ٹی ڈپوکے وسیع عریض میدان میں کھچا کھچ بھرے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے مولا ناسید ارشد مدنی نے یہ کہا کہ جمعیۃ علمائے ہند 99برسوں سے ملک میں یکجہتی اور مذہبی رواداری کی دعوت دے رہی ہے اور آج اس کی ضرورت کل کے مقابلے میں زیادہ ہوگئی ہے۔جمیعۃ علمائے ہند کی 100سالہ تاریخ قومی یکجہتی کے پیغام سے عبارت ہے۔ مولاناسید ارشد مدنی نے کہا کہ مسلمانوں نے 1803سے لے کر 1947تک ڈیڑھ سو برس جنگ آزادی کی لڑائی لڑی ہے ،اور اس روشن تاریخ کی بدولت جمعیۃ علمائے ہند کے بزرگوں نے ملک کی آزادی کے موقع پرآنکھ سے آنکھ ملا کر جمہوری دستور کا مطالبہ کیا جس کو کانگریس کے رہنماؤں نے قبول کیا۔مولانامدنی نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا خطرہ اسی دستور کو ہے اور اگر خدا نخواستہ ملک کے حالات اسی رخ پر چلتے رہے جو صورت حال اس وقت ہے تو اس دستور کوختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔اور اس کا نقصان صرف مسلمانوں ہی کو نہیں بھگتنا پڑے گا بلکہ ملک کی تمام اقلیتیں اس کی زد میں آئیں گی۔مولانا مدنی مدظلہ نے زور دے کر کہا کہ ملک میں گؤ ہتھیا کو غنڈہ گردی کے ذریعہ روکنے کے بجائے اس سلسلے میں قانون بنایا جائے اور میں پہلے بھی یہ مطالبہ کرچکا ہوں اور آج بھی اس اسٹیج سے یہ صدا بلند کرتا ہوں اور یہ امید کرتا ہوں کہ آپ سبھی لوگ اس کی تائید کریں گے،بعد ازاں حضرت مدنی نے اپنی تقریر کو درمیان میں روک کر دیگر مذاہب کے رہنماؤں کے ساتھ اور ایک زنجیر بنا کر کھڑے ہوکر گائے کو قومی جانور بنانے کی تحریک کی۔شری سوامی اگنی ویش (صدر بندھو امکتی مورچہ)نے اپنی تقریر میں کہا کہ ذات پات اور بھید بھاؤ کی موجودہ سیاست اقتدار کی کرسی تک پہونچا سکتی ہے مگر ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ہے۔ سکھ مذہب کے رہنما پروفیسرڈاکٹر راویل سنگھ(ہیڈ ڈپارٹمنٹ آف پنجاب یونیورسٹی آف دہلی) نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ کو انتہا پسندی کا طعنہ دیا جاتا ہے تو اس درد کو ہم بخوبی سمجھتے ہیں کیونکہ اسی(80) کی دہائی میں ہماری قوم کو بھی انہی حالات سے دو چار ہو نا پڑاتھا۔ انہوں نے کہا کہ مظلوموں کی حمایت ہمارے مذہب کی تعلیم ہے اور ہم ا?پ کی پریشانی میں پورا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔جین مت کے نمائندے نے مسلمانوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام صرف آپ ہی کا مذہب نہیں ہے بلکہ یہ پورے عالم کے لئے ہے اور مسلمانوں کو اپنے بند خول سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ مولانا سید حسن اسجد مدنی (دیوبند)نے کہا کہ اپنے اپنے مذہب اور شعار پر قائم رہتے ہوئے ملک کے تمام باشندے جینے ،رہنے اور بسنے کا حق رکھتے ہیں ،اور ہم مسلمان یہیں کی مٹی سے پیدا ہوئے اور یہیں کی مٹی پر سر رکھ کر اپنے خدا کو سجدہ کرتے ہیں اور مر کر اسی مٹی کا پیوند بنتے ہیں ،اور اس کے باوجود یہ کہا جاتا ہے کہ ہم ملک سے وفا داری کا ثبوت دیں۔محمدنسیم صدیقی سابق چیئرمین اقلیتی کمیشن)نے کہا کہ جس طرح آج کا یہ اسٹیج ملک کی گنگا جمنی تہذیب کامنظر پیش کر رہا ہے ٹھیک اسی طرح جب ہمارا ملک زندگی کے تمام شعبوں میں خواہ وہ پارلیمنٹ کا ایوان ہو یا وزارت کی کرسیاں ،حکومتی ادارے ہوں یا تجارت وغیرہ کے مراکز اسی جیسی حصہ داری پر مبنی کیفیت کاخوشنما منظر پیش نہیں کرتے تب تک صحیح معنوں میں ملک کی ترقی نہیں ہو سکتی۔