سپریم کورٹ کا زیر التوا فیصلہ اور سی بی آئی

عبدالعزیز
گزشتہ بدھ کی رات کے اندھیرے میں 2 بجے سی بی آئی کے ڈائرکٹر آلوک ورما اور اسپیشل ڈائرکٹر راکیش استھانہ کو جبریہ طور پر چھٹی پر بھیج کر ایک ایسے شخص کو ،جس کا نام ناگیشور راؤ ہے، جو اپنی بدعنوانی کے لیے ملک بھر میں جانا جاتا ہے،عارضی طور پر سی بی آئی کا ڈائرکٹر بنا دیا گیا، جو کسی طرح بھی قانون کے دائرے میں نہیں آتا، سپریم کورٹ نے سی بی آئی ڈائرکٹر مسٹر آلوک ورما کے پٹیشن پر تین ججوں والی بنچ نے چیف جسٹس آف انڈیا مسٹر رنجن گگوئی کی سربراہی میں گزشتہ جمعہ کے دن سماعت کی،سپریم کورٹ نے اپنے عارضی فیصلے میں سی بی آئی کے ڈائرکٹر اور اسپیشل ڈائرکٹر کے رشوت خوری کے الزامات کی انکوائری کے لیے سی وی سی کی طرف سے ایک ریٹائرڈ جج کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا اور انکوائری کی مدت دس روز رکھی گئی، اس طرح سی وی سی پر بھی سپریم کورٹ نے اعتماد نہیں کیا؛کیونکہ حکومت اور سی وی سی کی ملی بھگت سے ہی گزشتہ بدھ کی رات کو جو سی بی آئی کے دفتر پر یلغار ہوئی اور جس سے سارا معاملہ سامنے آیا، حکومت اور سی وی سی کے علم میں یہ بات ہے کہ ڈائرکٹر کی مدت کارکردگی دو سال کے لیے سپریم کورٹ سے مقرر کی گئی ہے اور ڈائرکٹر کو وزیر اعظم، چیف جسٹس آف انڈیا اور اپوزیشن لیڈر کی کمیٹی مقرر کرتی ہے اور وہی کمیٹی ڈائرکٹر کو ہٹانے، ٹرانسفر کرنے یا اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہے، اس کے باوجود حکومت اور سی وی سی نے لاقانونیت کا زبردست مظاہرہ کیا، سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ اچھا کیا کہ حکومت کی طرف سے عارضی ڈائرکٹر ناگیشور راؤ کے پرکو پوری طرح کتر دیا،اس پر کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے پر روک لگا دی، صرف انتظامی امور کے لیے اسے باقی رکھا گیا ہے، سی بی آئی کے ڈائرکٹر کے لیے سپریم کورٹ سے جو دو سال کی مدتِ کارکردگی مقرر کی گئی ہے اور ایک خاص کمیٹی کو اس کی تقرری کرنے یا ہٹانے کا حق دیا گیا ہے، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے اگر آلوک ورما کو ڈائرکٹر کے عہدے پر بحال کر دیا ہوتا، تو یہ زیادہ مناسب اور موزوں اس لیے ہوتا کہ آیندہ کوئی ادارہ یا حکومت آج کی حکومت کی طرح ایسا غیر قانونی کام انجام دینے کی ہمت نہیں کرتی اور نہ ہی سی وی سی کو حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے کا آئندہ کوئی جرأت اور حوصلہ ہوتا، اب یہ بات عام ہوگئی ہے کہ حکومت اور سی وی سی نے یہ قدم محض اس لیے اٹھایا کہ رافیل ڈیل کے معاملے میں ڈائرکٹر آلوک ورما ایف آئی درج کرنے والے تھے، 4 اکتوبر کو ارون شوری، پرشانت بھوشن اور یشونت سنہا نے سی بی آئی کے ڈائرکٹر سے اس کے دفتر میں ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ رافیل ڈیل کے معاملے میں رشوت خوری کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جائے، حکومت کو سی بی آئی کے ڈائرکٹر کے قدم اٹھانے کی کسی طرح خبر ہوچکی تھی ،جس کی وجہ سے حکومت کو بدنامی سے بچنے لیے رات کی تاریکی میں غلط قدم اٹھانا پڑا، حکومت اس قدم کے اٹھانے کی وجہ سے بدنامی سے بچ نہیں سکی؛کیونکہ ایک طرف ڈائرکٹر کو غیر قانونی طور پر جبریہ چھٹی دی گئی اور دوسری طرف پھر اپنے ایک منظور نظر افسر کو عارضی طور پر سی بی آئی کے ڈائرکٹر کا عہدہ سونپا گیا ،جو بدنام زمانہ ہے، نریندر مودی نے پہلے بدنامِ زمانہ راکیش استھانہ کو ڈائرکٹر بنانا چاہا تھا، جب اس میں کامیابی نہیں ہوئی ،تو اسے اسپیشل ڈائرکٹر بنا دیاتھا۔
سپریم کورٹ میں جو 12 نومبر کو سی بی ڈائرکٹر آلوک ورما کے پٹیشن پر سماعت ہوگی، امید یہی ہے کہ راکیش استھانہ کی ہمیشہ کے لیے چھٹی ہوسکتی ہے؛ کیونکہ ان کی رشوت خوری ثابت ہونے کا پورا امکان ہے، جہاں تک ڈائرکٹر آلوک ورما پر راکیش استھانہ کی طرف سے الزام کی بات ہے، تو وہ الزام برائے الزام ہے، اس کا ثابت ہونا مشکل ہے؛ لیکن خدشہ یہ ہے کہ حکومت وقت آلوک ورما کے پیچھے پڑ جائے گی اور کسی نہ کسی طرح ان پر کوئی الزام ایسا عائد کرنے کی کوشش کرے گی؛ تاکہ ان کو ان کے عہدے پر سپریم کورٹ کسی قیمت پر بحال نہ کرسکے، اگر ایسا ہوگیا، تو سی بی آئی کا جو بھی ڈائرکٹر ہوگا، ا س کے سر پر ہمیشہ حکومت کی تلوار لٹکتی رہے گی، اس کو جو تھوڑی بہت آزادی حاصل ہے ،وہ بھی سلب ہوجائے گی،ظاہر ہے کہ سپریم کورٹ ان باتوں کو مد نظر رکھے گی اور کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی ،جس سے سی بی آئی کے ڈائرکٹر کے پنکھ کٹ جائیں اور کوئی کام آزادانہ طور پر نہ کرسکیں، اگر ورما کے حق میں فیصلہ نہیں ہوا ،تو موجودہ حکومت اور آئندہ حکومتوں کو اختیار زیادہ مل جائے گا، جو ملکی نظام کے لیے مفید نہیں ہوگا، ضرورت اس بات کی ہے کہ سپریم کورٹ کچھ ایسا فیصلہ کرے ، جس سے سی بی آئی آزادانہ طور پر اپنا کام انجام دے سکے اور حکومت یا سی وی سی اس کے کام میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرسکے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068