سوشل میڈیاپر اردو رسم الخط کی تبدیلی کامسئلہ!


عظیم اختر
M: 9810439067
کمپیوٹر اور اس کی دنیا کے بارے میں ہماری معلومات نجی اداروں اور دکانوں کام کرنے والوں کی طرح نہایت ہی قلیل ہے۔ لیپ ٹاپ وغیرہ کو صرف دیکھا ہے۔ اسکولوں کی چھوٹی کلاسوں میں پڑھنے والے بچوں کی طرح ہمیں موبائل پر وہاٹس اپ، فیس بک وغیر کو کھولنا اور آپریٹ کرنا نہیں آتا لیکن چند دن پیشتر جب عید سعید کے پر مسرت اعلان کے بعد ہمارے دوستوں، ملنے جلنے والوں اور احباب و اقارب نے وہاٹس اپ اور فیس بک پر عید سعید کے منظور پیغامات بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا اور ہمارے بچوں نے ہماری سماجی مقبولیت اور شہرت پر ایمان لاتے ہوئے ہمیں چند گھنٹوں میں درجنوں پیغامات موصول ہونے کی نوید سنائی ،تو ہمیں ان پیغامات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور پڑھنے کا شوق پیدا ہوا، یہ شوق اپنی جگہ بجا تھا ؛کیونکہ ہم عید و بقرعید کے موقعوں پر عزیز و اقارب اور دوستوں کو ڈاک کے ذریعے مبارکبا ددینے والی پیڑھی سے تعلق رکھتے ہیں اور ڈاک کے ذریعہ بھیجے گئے یہ تہنیتی پیغامات ڈاک کے ہر کاروں کی کارکردگی کی وجہ سے اکثر اتنی تاخیر سے پہنچتے کہ نماز دوگانہ ادا کرنے کے لیے سلوائے ہوئے نئے کپڑے خاصے میلے کچیلے ہو چکے ہوتے اور یہاں چاند کے مطلع پر نمودار ہوتے ہی پیغامات کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا؛ چنانچہ شوق کو پورا کرنے کے لیے گھر کے ایک بچے کی مدد سے وہاٹس ایپ اور فیس بک کو آپریٹ کرنے کا سبق سیکھا، بڑی پرانی کہاوت ہے کہ بڈھے طوطے مشکل سے ہی بولنا سیکھتے ہیں ؛لیکن پتہ نہیں یہ اس بچے کے ادب و احترام کا نتیجہ تھا یا ہماری ذہانت کا اعجاز کہ ہم تھوڑی ہی دیر میں وہاٹس ایپ اور فیس بک آپریٹ کرنا سیکھ گئے۔
اردو الفاظ کا جامہ پہنے ہوئے انگریزی اور دیو ناگری رسم الخط میں لکھے ہوئے درجنوں منظوم پیغامات پڑھ کر ہمیں دہلی اردو اکیڈمی کے موجودہ وائس چیئر مین کا یہ مژدۂ جانفزا بے ساختہ یاد آگیا کہ اردو کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جوڑ توڑ کرکے اور سیاسی سفارشوں کی بیساکھیوں کے طفیل اردو کے اس قسم کے نیم سرکاری اداروں کے اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے والے اردو کے ورکنگ اور ریٹائرڈ پروفیسر خوشامد اور چاپلوسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشاعروں، قوالیوں اور اس قسم کے اور دوسرے گانے بجانے یا دوسرے لفظوں میں ثقافتی پروگراموں میں اردو زبان و تہذیب سے ناواقف ہجوم کو اردو کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کا نام دے کر اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے ؛تاکہ اردو زبان کے بنیادی مسئلے سے ناواقف اور لاعلم اربابِ اقتدار سیاستدانوں کے الطاف و کرم کے دروازے ان پر یوں ہی کھلے رہیں، جبکہ اردو کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ آج اکثریتی طبقے کے گھروں، علاقوں اور کاروباری جگہوں پر اردو کے لیے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو ہی چکے ہیں، مسلمانوں کے قبرستانوں میں قبروں کے کتبے اور مساجد میں نماز کے اوقات اور چندے و عطیات کے اخراجات کی تفصیل دیوناگری لِپی میں ہی دیواروں پر چسپاں نظر آتی ہے،یہی حال اردو زبان و تہذیب سے ناواقف شاعروں کے سامعین کی اس بھیڑ کا ہے، جو مشاعرہ سننے کے لیے نہیں صرف دیکھنے کے لیے آتی ہے، ترنم باز شاعروں اور متشاعرات کی گائیکی سے لطف اندوز ہوتی ہے، کانوں کو بھلے لگنے والے شعروں کو ہندی لپی میں نوٹ کر کے اردو سے اس دلچسپی کا مظاہرہ کرتی ہے، جو دیوناگری رسم الخط سے آگے کبھی نہیں بڑھتی،دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو سے یہ دلچسپی دیوناگری رسم الخط کی مرہونِ منت ہے، جس کو اردو کی عوامی مقبولیت کا نام دے کر کمر تھپتھپائی جاتی ہے اور اردو کے شاندار مستقبل کی نوید سنائی جاتی ہے۔
ہمیں یاد ہے کہ آج سے چار پانچ دہے قبل عصمت چغتائی ، معصوم راہی رضا اور بشیر بدر وغیرہ جیسے مشاہیرِ ادب نے اردو کے شاندار و تابناک مستقبل اور فروغ کے لیے دیو ناگری رسم الخط اپنانے کی کھل کر وکالت کی تھی، جس کی اردو کے ہر طبقے نے شدید مخالفت کی تھی، اس وقت اردو کے رسم الخط کو تبدیل کرنے کا مشورہ دینے کے پسِ پشت کیا محرکات کار فرما تھے اور اور کن سیاستدانوں کے ایما پر اردو والوں کو یہ زریں مشورہ دیا گیا تھا، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا؛ کیونکہ عام اردو والوں نے شدید ردِ عمل کے غبار میں یہ مشورہ دب گیا ؛لیکن اردو کے اس مخصوص رسم الخط کو دیوناگری لپی کا جامہ پہنانے کے لیے اگر اربابِ اقتدار نے اردو تعلیم کو تھری لنگویج فارمولہ کی انی پر چڑھا کر اردو رسم الخط کے فروغ و ترویج پر بڑی خوبصورتی سے قدغن لگا دی، تو دوسری طرف اردو کے نیم سرکاری اداروں کے مفاد پرست ذمہ داروں نے اردو ادب کو دیوناگری لپی میں ڈب کر کے اور انٹرنیٹ پر ڈال کر اردو سے دلچسپی رکھنے والوں کو فارسی رسم الخط سیکھنے کے جھنجھٹ سے ہی آزاد کر دیا اور اب اردو کا یہ خصوصی رسم الخط مدارسِ دینیہ اور اردو کے پرائمری اسکولوں میں تعلیم پانے والے طلبہ تک ہی محدود ہو کر رہا گیا۔
اکثریتی طبقے کے گھرانوں اور خاندانوں میں اردو کے چلن کا تو اب کوئی سوال بھی نہیں پیدا ہوتا؛ لیکن ملک کے جن طبقے نے اردو کو اپنی مادری زبان قرار دینے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی ، آج اسی طبقے کے اس نوے فیصدی گھرانوں اور خاندانوں کے اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم پانے والے بچوں اور بچیوں کے لیے اردو رسم الخط ایک ایسے رسم الخط کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے حروفِ تہجی سے بھی وہ پوری طرح واقف نہیں ہیں،البتہ گھر کے اردو ماھول اور خاندان کے بڑے بوڑھوں کے دم قدم سے ان کی روز مرہ کی زندگی میں اردو ابھی زندہ ہے جو ان کی عام بول چال اور دیوناگری لپی میں لکھی ہوئی تحریروں میں جا بجا جھلکتی ہے اور ان کے اردو داں ہونے کا احساس دلاتی ہے۔
اس دن وہاٹس ایپ اور فیس بک وغیرہ پر رومن اور دیوناگری لپی کا لبادہ اوڑھے ہوئے آنے والے عید سعید کے تہنیتی پیغامات کی کثرت کو دیکھ کر ہمیں پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ اردو رسم الخط کی تبدیلی کا عمل بڑی خاموشی سے شروع ہو چکا ہے اور یہ انٹر نیٹ، وہاٹس ایپ اور فیس بک وغیرہ اردو کے رسم الخط کی تبدیلی میں بڑا اہم رول ادا کر ہے ہیں، جس کا ہمارے اکابرین اردو کو ابھی تک احساس بھی نہیں ہوا ہے، آج رسم الخط کی تبدیلی کا دبے پاؤں عمل شروع ہوا ہے، اس تبدیلی میں ابھی اردو لفظوں کا استعمال باقی ہے، اگلے چند دہوں میں اردو الفاظ کے استعمال اور معنی سے ناواقفیت کی وجہ سے ان کے ہندی متبادل لفظوں کا استعمال بھی شروع ہوجائے گا ،جس کو اردو کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا؛ لیکن ہمارے اکابرینِ اردو آنکھوں پر کالا چشمہ لگائے اردو کی غیر معمولی عوامی مقبولیت کا راگ ہی الاپتے رہیں گے۔