Home قومی خبریں سوال اٹھانے کو’’دیش ورودھ‘‘سے جوڑناچوری کوچھپانے کی کوشش:کانگریس

سوال اٹھانے کو’’دیش ورودھ‘‘سے جوڑناچوری کوچھپانے کی کوشش:کانگریس

by قندیل

حکومت کو رافیل سودے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے،بدعنوانی کی رقم کس کی جیب میں گئی
نئی دہلی:10؍ مارچ (قندیل نیوز)
وزیر اعظم نریندر مودی کی فرانس کے صدر ایمینیل میکرو کے ساتھ بات چیت کے درمیان آج کانگریس نے این ڈی اے حکومت پر رافیل لڑاکا طیارے سودے کو لے کر حملہ بولتے ہوئے اسے اصل گھوٹالہ بتایا اور حکومت سے اپنا موقت واضح کرنے کو کہا ہے۔کانگریس کے ترجمان ٹام وڈکن نے کہا کہ لڑاکا طیارہ خریدنے کے لئے ہندوستان کو قطر اور مصر جیسے ممالک کے مقابلے میں زیادہ پیسہ دینا پڑا۔پارٹی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی حکومت کو یہ جواب دینا چاہیے کہ دولت کہاں گئی۔نہوں نے کہا کہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ یہ دولت کس کی جیب میں گئی۔وڈکن نے کہا کہ ان کی پارٹی گزشتہ تین دن سے یہ معاملہ اٹھا رہی ہے۔لیکن جواب میں حکومت یا بی جے پی کی جانب سے ایک بھی لفظ نہیں کہا گیا ہے۔انکار بھی نہیں کیا گیا۔ بی جے پی نے کانگریس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کو گمراہ کرنے کے ’جھوٹ پھیلا رہی ہے۔مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہاکہ رافیل لڑاکا طیارے کی فراہمی کے لئے 7.5 ارب یورو کے سودے میں بدعنوانی کا الزام لگانا’’غیرذمہ دارانہ اور قوم مخالف‘‘ہے۔انہوں نے ایک پروگرام میں کہاکہ بدعنوانی کہاں ہوئی؟ کیا اس قسم کا الزام غیر ذمہ دار اورقوم مخالف ہے؟ادھر کانگریس نے آج اس مسئلے کو دوبارہ طول دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا رخ اس بلی کی مانند ہے جو آنکھ بند کرکے اور یہ مان کردودھ پی رہی ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہاہے۔وڈکن نے کہاکہ حکومت، وزارت دفاع کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے۔وہ کیا چھپانا چاہتے ہیں؟انہوں نے کہاکہ آپ یو پی اے کو بدعنوان کہتے ہیں ۔اگر یہ بدعنوانی نہیں ہے توکیا ہے۔یہ ایک دھوکہ ہے جس پر این ڈی اے کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔

You may also like

Leave a Comment