سستاخون بنام مہنگاخون!

دھروگپت(سابق آئی پی ایس افسر)
لکھنؤمیں ایپل کمپنی کے ایریامینیجروویک تیواری کے دو پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں انکاؤنٹرکے نام پر بے رحمانہ قتل سے معلوم ہوتاہے کہ اترپردیش سرکار اوراس کی پولیس کس حد تک وحشی ہوچکی ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ اس قتل کی پورے ملک میں بروقت مذمت کی گئی اور اس نے ملک کی سوئی ہوئی دلال میڈیا کوبھی بیدار کردیا،پھر ریاست کے وزیر اعلیٰ نے مقتول کی بیوہ سے مل کرقاتلوں کو سزادلانے کی یقین دہانی کے ساتھ اسے پچیس لاکھ کا معاوضہ،سرکاری نوکری،گھر اوراس کے بچوں کے نام پر پانچ پانچ لاکھ کی ایف ڈی کا اعلان کیا،اوپر سے دیکھنے میں سرکار کایہ اقدام انسانیت نوازی پر مبنی لگتاہے؛لیکن اس کے پس پردہ طبقاتی ومذہبی تعصب اور سیاسی نفع نقصان کو سامنے رکھنے کی ذہنیت کو جان کراس کی کراہت سامنے آتی ہے۔حالیہ برسوں میں یوپی کی پولیس درجنوں مسلم،دلت اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کا انکاؤنٹرکے نام پر قتل کرچکی ہے، ابھی کچھ ہی دنوں قبل علی گڑھ پولیس نے جھوٹے الزام میں نوشاد اور مستقیم نامی نوجوانوں کو ان کے گھروں سے اٹھاکر قتل کرڈالاہے،اس معاملے میں کوئی ہلچل نہیں ہوئی،نہ لوگوں میں،نہ میڈیامیں اور نہ سرکارمیں ،ایسے درجنوں معاملوں میں نہ توکوئی سرکاری وزیر مقتول کے اہلِ خانہ سے ملنے گیا،نہ ان کے لیے کسی ایس آئی ٹی کی تشکیل ہوئی اورنہ ان کے اہلِ خانہ کے لیے کسی معاوضے کا اعلان کیاگیا،کیافرضی تصادم میں مارے گئے وہ تمام مسلم،دلت اور پچھڑے طبقات کے نوجوان کسی دوسرے ملک یا کسی دوسرے سیارے کی مخلوق تھے؟ویسے بھی اگر پولیس کے ذریعے مارے گئے لوگوں کودیے جانے والے معاوضوں پر ایک نظر ڈالیں ،توان میں غضب کی تفریق دیکھنے کو ملے گی،کسی کو لاکھ،توکسی کو پچاس لاکھ،اس کی تعیین مقتول کی ذات،اس کی سماجی و معاشی حیثیت اور سیاسی اثرورسوخ کو دیکھ کر ہوتی رہی ہے۔
کیا اب وقت نہیں آگیاہے کہ سپریم کورٹ معاوضے کی ایک مساوی پالیسی وضع کرنے کی پہل کرے؛تاکہ پولیس کے ذریعے مارے گئے معصوم لوگوں کوپورے ملک میں بغیر ان کی ذات،برادری،مذہب اور حیثیت کو دیکھے مساوی معاوضہ دینے کی شروعات ہوسکے؟اور معاوضے کی رقم عام لوگوں کے ٹیکس کے پیسے سے نہیں؛بلکہ قاتل پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں سے،ان کے بھتوں اور پنشن سے اور اگر ضرورت پڑے،توان کی جائیداد کونیلام کرکے دی جائے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*