سر سید ڈے:حقیقی صورت حال اور کرنے کے کام

سید احمد اُنیس ندوی
اسلامک سینٹر، مدینہ کالونی ،فیروزآباد
آج 17 اکتوبر ہے، پوری دنیا میں علیگ برادری اور سر سید سے عقیدت و تعلق رکھنے والے افراد سر سید ڈے کی مبارکباد دے رہے ہیں اور مختلف جگہوں پر پروگرام منعقد ہو رہے ہیں،ان سب چیزوں کی شرعی اور دینی حیثیت کیاہے، اُس سے ہر ایک بخوبی واقف ہے، مجھے ایک دوسرے پہلو پر کچھ روشنی ڈالنی ہے۔سر سید ڈے پر مختلف مضامین پڑھنے کا اتفاق ہوا، مگر حیرت ہوئی کہ اکثر مضامین کا رُخ یہ تھا کہ سر سید کے دور میں صرف ایک وہی انسان تھے، جو قوم کے مخلص تھے، باقی یا تو دقیانوس قسم کے مولوی تھے ،جن کی سوچ و فکر بڑی تنگ تھی یا پھر ہر معاملے سے بے خبر افراد تھے۔ایک اکیلے سر سید تھے ،جو قوم کی فلاح و ترقی کے لیے تڑپ رہے تھے،میرے خیال میں کوئی بھی سمجھدار آدمی اس بات سے اتفاق نہیں کرے گا اور سچی بات یہ ہے کہ ایسی بات کہنا تو خود سر سید پر ایک الزام ہے؛کیونکہ ایسا کوئی دعوٰی تو میرے علم کے مطابق کبھی سر سید نے بھی نہیں کیا اور جس نے بھی سر سید کی تحریریں پڑھی ہیں ،وہ بخوبی جانتا ہے کہ سر سید اپنے وقت کے کبار علما بالخصوص حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی کے بڑے قدردان تھے اور دینی امور میں وہ اُن سے ہی مشورہ طلب کرتے تھے، مولانا نانوتوی کے سانحۂ وفات پر سر سید نے جو مضمون لکھا تھا ،وہ مولانا کے تعلق سے ان کے احترام اور رواداری کا بہترین نمونہ ہے،کوئی شک نہیں کہ بہت سے معاملوں میں باہمی اختلاف کے باوجود جس تعلق اور ادب کا مظاہرہ سر سید نے کیا، وہ قابل رشک ہے۔
بہت سے مضامین اور انکا منفی رُخ ہی دراصل اِس تحریر کے وجود میں آنے کا ذریعہ بنا ہے۔
اب آئیے اس تمہید کی روشنی میں ذرا اس پہلو پر غور کریں:جس وقت بھارت انگریزی طاقتوں کے پنجوں میں جکڑا ہوا تھا، اُس وقت ہمارے اسلاف نے بالخصوص علماے کرام نے طویل عرصے تک عسکری میدان میں انگریزوں کا مقابلہ کیا، مگر کچھ عرصے کے بعد ان کا یہ احساس پختہ ہو گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ ابھی عسکری فتح شاید مقدر نہیں ہے اور اُسی وقت اُن کو اس خطرے کا بھی شدت سے احساس ہو گیا کہ انگریز صرف عسکری میدان میں نہیں ؛بلکہ تعلیمی، ثقافتی، فکری ہر میدان میں ہم کو شکست دینے کے لیے پوری قوت کے ساتھ کام کر رہے ہیں،اس بات نے علماے کرام و دیگر ہمدردانِ قوم کی راتوں کی نیند اڑا دی۔
اُس وقت تک تعلیمی میدان میں یہ ثنویت نہیں تھی،ایک ہی ادارے سے علم شریعت اور علم کائنات پڑھنے والے حضرات نکل رہے تھے، ایسی نازک صورت حال میں علماے کرام کی جماعت نے بالخصوص مولانا محمد قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ نے حالتِ اضطراری کے طور پر یہ طے فرمایا کہ فی الحال ہم اپنے اُس علمی سرمایے کی حفاظت کا کام اپنے سر لے لیتے ہیں ،جس کا تعلق براہِ راست قرآن مجید، احادیثِ مبارکہ، فقہ اسلامی اور ان کے متعلقات سے ہے (حالانکہ اس وقت بھی حضرت نانوتوی علیہ الرحمہ نے بہت سے عصری اور سائنسی علوم اپنے نصاب میں شامل فرمائے تھے، جیسے سنسکرت، حساب،ہیئت وغیرہ)اور اسی بنیاد پر دار العلوم دیوبند کی اور اُس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں مدارس اسلامیہ کی بنیاد ڈاکی گئی اور علما کی اس جماعت نے اپنا ہدف اور مقصد یہ متعین کیا کہ ہم کو دینِ متین کی صحیح رہنمائی کرنے والے افراد ملتے رہیں اور علمی سرمایے کی پوری حفاظت ہو، ٹھیک اسی زمانے میں سر سید احمد خان مرحوم پورے درد و کرب کے ساتھ مسلم قوم کی شکست کے اسباب تلاش رہے تھے، کافی غور و فکر کے بعد سر سید اس نتیجے پر پہنچے کہ امتِ مسلمہ کی تنزلی کا ایک بنیادی سبب مسلمانوں کا عصری علوم کے میدان میں پیچھے رہنا ہے، مزیر سر سید کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ ابھی انگریزوں کو عروج مل رہا ہے اور شاید طویل عرصے تک یہ عروج باقی رہے گا؛ لہذا عقلمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ انگریزوں کے ساتھ تعلیم اور ثقافت کے میدان میں کاندھے سے کاندھا ملایا جائے اور اس دوری کو ذرا کم کیا جائے،اسی بنیاد پر سر سید احمد خان نے پوری ہمدردی اور خلوص کے ساتھ علی گڑھ میں مسلم اسکول کی بنیاد ڈالی۔ درمیان میں یہ بات بھی ذکر کرتا چلوں کہ سر سید کوئی انگریزوں کے ایجنٹ یا اسلام مخالف طاقتوں کے پروردہ نہیں تھے، وہ قومِ مسلم کے بہت ہمدردر اور خیر خواہ تھے اور اُن کی یہ فکر اسی ہمدردی کی وجہ سے تھی؛لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مادی ترقی کی فکر ان پر کچھ اس قدر حاوی ہوئی کہ ان کے مزاج میں عقل پرستی آ گئی اور نیچرزم سے وہ متأثر ہونے لگے،دوسری طرف چونکہ وہ عربی اور دیگر معقولات سے بھی واقف تھے اور بعض مؤرخین کے مطابق انہوں نے باضابطہ دینی تعلیم کو ماہر اساتذہ سے حاصل کیا تھا؛ لہذا اس بنیاد پر وہ علومِ شرعیہ میں بھی اپنے کو رائے دینے کا اہل سمجھتے تھے۔
چنانچہ نیچرزم کے نظریے سے متأثر ہونے کے بعد جب وہ تفسیر قرآن مجید لکھنے بیٹھے یا اسلامی عقائد پر خصوصا مغیبات، جیسے فرشتے، جنت و جہنم کے تعلق سے گفتگو کرنے کے لیے انہوں نے قلم اٹھایا، تو وہ عجیب و غریب قسم کی باتیں لکھ گئے،ظاہر ہے ان تمام باتوں کا تعلق ایمان بالغیب سے ہے ،مگر جب انسان پر عقل پرستی کا غلبہ ہوتا ہے، تو ان باتوں کی وہ ایسی منگھڑت تاویل کرتا ہے کہ بس اللہ کی پناہ!کچھ ایسا ہی سر سید سے بھی ہوا (اللہ ان کی غلطیوں کو معاف فرما کر اُن پر رحم فرمائے) اور انہوں نے بعض باتیں ایسی سنگین نوعیت کی لکھ دیں کہ اُن پر علما کو سخت نوٹِس لینا پڑااور اگر علما وہ سخت نوٹِس نہ لیتے، تو اللہ تعالی کے یہاں ماخوذ ہوتے،احقاقِ حق اور ابطالِ باطل علما کے فرائض منصبی میں سے ہے،سر سید کی دینِ متین کی تشریح سے متلعق بہت سی تحریرات انتہا درجے کے انحراف پر مبنی ہیں اور اچھی طرح یاد رکھیے کہ علماے کرام نے سر سید پر جو تنقید کی تھی، وہ تنقید اس لیے نہیں تھی کہ سر سید مدرسہ چھوڑ کر کالج بنا رہے تھے؛ بلکہ اس لیے تھی کہ سر سید نیچرزم سے مغلوب ہو کر دین کی تشریح کر رہے تھے ،جس کی وجہ سے انحراف کا دروازہ کھلتا جا رہا تھا،مزید وہ انگریزی کی تعلیم کی دعوت دے رہے تھے ،مگر درحقیقت اس دعوت کے ساتھ ساتھ غیر شعوری طور پر انگریزیت کے عام ہونے کا شدید خطرہ تھا اور اس انگریزیت سے حفاظت کا کوئی منصوبہ بھی سر سید نے پیش نہیں کیا تھا، علماے کرام نے سر سید کو کبھی غیر مخلص نہیں سمجھا ،مگر ان کے ان انحرافات پر تنقید کر کے اپنا دینی فریضہ ادا کیا،یہاں مراد اُس زمانے کے اکابر اہلِ علم اور ان کی راہ پر رہنے والے علما ہیں،باقی پھر جس نے جو کیا ،وہ ہماری مراد نہیں اور ہم ان کی طرف سے ہرگز صفائی بھی نہیں دے رہے ہیں۔
اب اس طرح سے دو حلقوں نے دو کام اپنے ذمے لے لیے، علماے کرام کے حلقے نے تشریعی علوم کی حفاظت اور سر سید اور ان کے نظریے کے حاملین نے علومِ عصریہ کے میدان میں مسلمانوں کی ترقی کی فکریا کسی کہنے والے نے کہا کہ حضرت نانوتوی کو اُس وقت اسلام کی شدید فکر ہوئی اور سر سید مرحوم کو مسلمانوں کی!
اب آئیے ذرا نتیجے پر غور کریں!
آج پورے بر صغیر کے چپے چپے پر مساجد، مدارس، مقررین، مصنفین، دینی کتب خانوں کا جو عظیم ذخیرہ ہے، وہ انہی مدارس کی دین ہے، آج نہایت معمولی تنخواہوں پر کام کرنے کے لیے اگر کوئی جماعت تیار رہتی ہے ،تو وہ ائمہ، علما و مؤذنین کی جماعت ہے، آج ہر جگہ ایسے مخلص، قوم کے ہمدرد علما موجود ہیں، جو بلا کسی مالی منفعت کے اپنے حصے کا کام کرنے کو (اگرچہ وہ مکمل حصہ نہیں ہے) پوری طرح تیار ہیں،یقیناًاس طبقے میں بھی بہت سی کوتاہیاں ہو سکتی ہیں اور ہیں، مگر بہرحال ان صفات میں تو یہ طبقہ لاثانی ہے۔
دوسری طرف یقیناًسر سید کے اسکول اور یونیورسٹی نے لاکھوں ڈاکٹرس، انجینئرس اور ماہر پروفیشلنلز دیے ہیں اور بلا شبہ یہ بھی ایک بڑا کام ہوا ہے، مگر ابتدا میں وہاں سے طلبا جس فکر کے ساتھ نکل رہے تھے، وہ کم از کم اہلِ علم سے تو مخفی نہیں،درمیانی عرصے میں تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی کی محنتوں سے وہاں کے طلبا میں کچھ دینی رنگ آیا، مگر آج بھی اُس فکر کے افراد کی اکثریت کا حال دیکھیے،مریض تڑپ رہا ہوتا ہے، مگر ڈاکٹر صاحب بغیر فیس کے نبض پر ہاتھ رکھنے کو بھی تیار نہیں، آپ کسی ماہر مسلم سائنس داں، وکیل، انجینئر، ٹیچر سے بات کریں کہ ذرا چند ہزار روپے پر قوم کی خدمت کے لیے کام کرو،تو اکثر و بیشتر کا جواب نفی میں ہوگا،دوسروں کو مشورے دینے میں پروفیشنل حضرات سب سے آگے ہیں ،مگر اپنی لاکھوں کی تنخواہوں کو لگا کر قوم کے غریب بچوں کے تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے ان کے پاس سرمایہ نہیں،مدارس سے نکلنے والے اکثر قناعت پسند، صحیح معنوں میں قوم کے ہمدرد ہیں اور یہاں کے متخرجین اکثر فیوچر کی حفاظت کے لیے فکرمند، قوم کے لیے صرف مشورے رکھنے والے ہیں،بات اکثریت کی ہو رہی ہے، باقی مستثنیات ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور بعض ایسی مثالیں بھی ہیں ،جو بالکل برعکس ہیں۔
اب آخر میں دو باتیں :
ایک بات سر سید کے متعلقین سے،وہ یہ کہ آپ صحیح معنوں میں سر سید کے جانشین بنیں ،ان کی قوم کے لیے ہمدردی کے اعتبار سے، مسلمانوں کے لیے موجود ان کے دل میں درد کے اعتبار سے اور دین کی تشریح میں آپ علماے کرام کو ہی اپنا مقتدیٰ سمجھیں،سر سید کے خوابوں کو اس طرح پورا کریں کہ اپنی تنخواہوں میں سے بچا بچا کر عملی طور پر ایسا کام کریں کہ مسلم قوم؛ بلکہ پورے ملک کو بہترین اسکولس، کالجز، ہاسپٹلز، اچھے وکلا و انجینئرز، بہترین تعلیمی نظام معمولی خرچ اور سہولت کے ساتھ دستیاب ہو سکے،یہ کام آپ کے کرنے کا ہے،صرف جلسہ کرنا اور کوئی عزم اور فیصلہ نہ کرنا سر سید کے مشن سے دھوکہ ہے،ان کے خوابوں کو ادھورا چھوڑنے اور اس سے دغا کرنے کے مترادف ہے۔
دوسری بات میں کہنا چاہوں گا علماے امت سے اور امت کے اُس طبقے سے ،جس نے علومِ شرعیہ کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے،وہ یہ کہ بفضل اللہ تعالی آپ نے اب تک حفاظتِ دین کا کام بحسن و خوبی انجام دیا ہے، آپ نے اپنے اخلاص اور قوم کی سچی ہمدردی کا ثبوت پیش کر کے پوری دنیا کو اپنا معترف کیا ہے؛لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس حصے کو آپ نے لیا ہے، وہ اہم اور بہت اہم یقیناًہے، مگر مکمل ہرگز نہیں ہے،زندگی کے لاکھوں شعبے آپ کی دسترس سے دور ہیں، جن شعبوں میں طاغوتی فکر و نظام حاوی ہوتا جا رہا ہے،مزید خوش اخلاقی، اعلی صلاحیت اور دیگر بہت سی جگہوں پر اب آپ کااور ہمارا معیار بھی باقی نہیں رہا، اس کی بھی اصلاح کی ضرورت ہے،اب وقت آ گیا ہے آپ اسی جذبے اور اخلاص کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں اور پوری ہمت اور حوصلے کے ساتھ زندگی کے ان تمام شعبوں کو بھی اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے مضبوط اور سلفِ صالح کے مزاج سے مربوط کوئی ایسا لائحۂ عمل تیار کریں، جو ایک نئے اور روشن مستقبل کی دریافت کا سبب ہو،کیا ڈاکٹرز اور انجینئرز، کیا وکلا اور پروفیشنلز ؛ہر ایک آپ کی نگرانی میں انہی فکروں سے تیار ہو رہا ہو۔
جس دن ملت کے یہ دونوں طبقے اپنے اپنے کام کو بحسن خوبی انجام دینے لگیں گے، تو ان شاء اللہ بہت جلد منظر نامہ تبدیل ہوگا اور ملتِ اسلامیہ ایک بار پھر سربلند ہو کر عالَم کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لے گی۔ان شاء اللہ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*