سرسید اور غالب:دقیانوسی سماج کے اینٹی ہیرو


حقانی القاسمی
انحرافی اذہان کو معاشرہ کبھی برداشت نہیں کرپاتا!
سرسید اور غالب انحرافی ذہن کی عظیم ترین مثالیں ہیں، دونوں کی راہیں الگ الگ تھیں، مگر منزل ایک، معتوب رہے، مگر دونوں ہی مستقبلیت پسند اور عندلیبِ گلشنِ نا آفریدہ تھے؛ اس لیے ماضی کی مریضانہ داخلیت پسندی میں محصور افراد نے ان دونوں کو ذہنی اور فکری طور پر جلاوطن کردیا؛ تاکہ معاشرہ یا سماج پر ان کی فکر و نظر کے اثرات نہ پڑسکیں اور معاشرہ اسی پرانی روش پر برقرار رہے۔
اس طرح کے اذہان ،جو فردافروزی کی روایت سے جڑے ہوتے ہیں، ہمیشہ معتوب رہے ہیں، معتزلیوں کی فکری اور عقلی روایت کے خلاف ہنگامہ بھی شاید اس لیے تھا کہ وہ منطقی اور معروضی ذہن رکھتے تھے اور سرسید اور غالب بھی اسی معروضیت اور منطقیت کے مجرم ہیں؛ اس لیے بعض قدامت پسند دقیانوسی اور ذہنی طور پرانحطاط پسند طبقے نے سرسید کو بھی معتزلیوں میں شمار کیا اور غالباً غالب کے بارے میں بھی یہی رائے ہوتی، اگر وہ بھی سرسید جیسی کسی تعلیمی، سماجی، اصلاحی تحریک کے علمبردار ہوتے، مگر غالب ان سب چیزوں میں محصور رہنے والے شخص نہیں تھے، ان کے تخیل کی پرواز بہت بلند تھی، ان کے زمان و مکان ہی الگ تھے، کہاں سماج، اس کے رسوم و قیود اور کہاں غالب جیسا خود بیں ا ور آزاد:
بندگی میں بھی اتنے آزاد و خودبیں ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا
اس طرح کا اَنا پسند اور ایغو اسٹ شاعر ظاہر ہے معاشرے کی اصلاح یا تعلیم کی تحریک جیسے غیرضروری معاملات سے دلچسپی نہیں لے سکتا،سرسید بھی غالب کی طرح وسعت آشنا ذہن کے حامل تھے،مگر دونوں ذہنوں میں تھوڑا سا فرق ہے، سرسید بہت ہی زیادہ سائنٹفک ذہن کے تھے اور غالب کے یہاں Imagination کا عمل زیادہ تھا اور تخیلاتی پیکر سے ان کی دلچسپی بھی کم نہیں تھی، مگر سرسید کی معروضیت ا ور غالب کی تخیل پسندی کے درمیان بھی ایک گہرا ربط ہے، دونوں ہی خواب دیکھتے تھے، عظیم ترین خواب! مگر خوابوں کے پیچھے دوڑ نہیں لگاتے تھے، بلکہ خواب میں حقیقت کا رنگ بھرنے کی کوشش کرتے تھے، جبکہ اس وقت کا پورا معاشرہ خواب پسند تھا، خوابوں کے پیچھے پیچھے بھاگنے والا اور ایسے ایسے خواب، جن کی کوئی حقیقت، کوئی معنویت نہیں،یہی وجہ ہے کہ ایک پورا معاشرہ خوابوں کی نذر ہوگیا اور اسے خواب کے بدلے عذاب ہی عذاب ملے۔ برطانیہ سے نفرت بھری ہوئی تھی اور ہندوستانیوں کی رگوں سے لہو کے بجائے انگریزوں کے لیے نفرت بہتی تھی، ایسے حالات میں بھی سرسید اور غالب دونوں میں ایک نقطۂ اشتراک یہ بھی ہے کہ یہ دونوں ہی انگریزوں کے طرف دار تھے یا کم ازکم انگریزوں کی غیرضروری مخالفت کے عادی نہیں تھے، ایسے وقت میں ،جبکہ پورا ملک اور معاشرہ انگریز استعماریوں کے خلاف متحد تھا اور رگ و ریشے میں بھی سرسیدا ور غالب نے انگریزوں کی طرف داری کی اور انگریزوں پر لگائے گئے غیرضروری جذباتی اتہامات کا دفاع کیا، غالب نے ہندوستانی سپاہیوں کو نمک حرام تک کہااور اس وقت جہاد کے نام پر برپا شورش کو خودکشی سے تعبیر کیا؛کیونکہ غالب کو ہندوستان کا مآل معلوم تھا، انھیں مستقبل کا اندازہ تھا، انھیں ہندوستان کے سیاسی زائچے سے بھی آگہی تھی اور آگے کیا ہونے والا ہے، اس کا پوراپتا تھا، اس جوشِ جنوں کا بھی اندازہ تھا، جو انگریزوں کے خلاف موجزن تھا اور اس کے فوری طور پرحباب میں بدلنے کابھی،وہ جانتے تھے کہ ہندوستانی عوام کی سائیکی اور نفسیات کیا ہے اور یہ بھی کہ ایک معاشرہ جب اقتصادی طور پر محروم و مجبور ہو، تو پھر وہ کس طرح پینترے بدلتا ہے، ان تمام رموز و نکات سے واقف تھے اور پھر وہی ہوا کہ جو انگریزوں کے شدید مخالف تھے ،بعدمیں انگریزوں کے حامی بن گئے، مسئلہ صرف اپنے اقتصادیات کے استحکام کاتھا، نہ جانے کتنے ایسے جیون لال تھے ،جو انگریزوں کی مخبری کرتے تھے اور بعدمیں ا یسے ہی انگریزوں کے مخبر تاریخ کی ذرا سی غلطی یا ذراسی تحریف سے مجاہدینِ آزادی کی صف میں بھی شامل ہوگئے۔
غالب اور سرسید دونوں کے پاس فیوچر ویژن تھا اور دونوں ہی معاشرے کے اینٹی ہیرو تھے، گو بعدکے حالات نے انھیں قوم کا اور سماج کا ہیرو بنا دیا، غالب بنیادی طور پرا س صنعتی انقلاب سے بہت متاثر تھے ،جو مستقبل میں ایک اہم ترین طاقت بن کر ابھرنے والا تھا، جب انھوں نے انگریزوں کے ٹیلی گراف کو دیکھا، تو انھیں محسوس ہوا کہ یہ اقتدار کا مستقبل ہے؛ چنانچہ وہ انگریزوں کی سائنسی ایجادات اور صنعتی آلات سے نہایت متاثر تھے، یہی ٹیلی گراف ہے ،جسے جدید دور میں ’’میڈیا پاور‘‘ کہہ سکتے ہیں، پوری دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہیں، جن کا میڈیا پر کنٹرول ہے، یہودی اس کی روشن مثال ہیں، دنیا کی اہم ترین خبررساں ایجنسیوں اور اداروں پر ان کا مکمل کنٹرول ہے، غالب نے اس تعلیمی اور صنعتی ترقی کے نقطے کو محسوس کرلیا تھااور انھیں ا چھی طرح ادراک تھا کہ ایسٹ انڈیاکمپنی کی کامیابی اور پورے ہندوستان پر تسلط کاراز کیا ہے؟ تکنیک اور تعلیم یہی دو ہتھیار تھے ،جن کی بنیاد پر ایسٹ انڈیا کمپنی پورے ہندوستان پر اپنے اقتدار کا جال پھیلاتی رہی اور مغل سلطنت زوال پذیر ہوتی رہی، غالب نے کلکتے کا جو قصیدہ لکھا ہے ،وہ یوں ہی اور بے معنی نہیں ہے، وہ اس اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ کلکتہ اس وقت مغربی فکر و دانش کا مرکز تھا اور کلکتہ شہر نے انگریزوں کے تعلیمی نظام کا مثبت اثر قبول کیا تھا، یہی وجہ ہے کہ یہ بات اس زمانے میں مشہور تھی کہ کلکتہ جو آج سوچتا ہے، ہندوستان کل سوچے گا اور یہی بات علی گڑھ کے تعلق سے بھی کہی گئی، آج کے تناظر میں بھی کسی حد تک کلکتہ کے تعلق سے یہ بات کہی جاسکتی ہے یا پھر ہر اس شہر کے تعلق سے، جس نے موجودہ ٹیکنالوجی سے مثبت اثر قبول کیا ہے، غالب کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ مغلیہ سلطنت کا زوال تو اسی وقت ہوگیا تھا، جب مرہٹوں نے لال قلعہ پر قبضہ کرلیا تھا، یعنی اورنگ زیب کے انتقال کے 70 سال بعد ہی مغل سلطنت کاخاتمہ ہوچکا تھا اور صرف اس کا ’’بجوکا‘‘باقی تھا۔
غالب جدید ذہن کے تھے، ان کے سامنے آئینۂ ادراک روشن تھا، حقیقت پسندانہ ذہن کی وجہ سے انھوں نے ہمیشہ انگریزوں کی ترقی کے راز پر نظر رکھی اور تقدیرِ امم اور اسبابِ زوال و عروج پر بھی ان کی نگاہ تھی، انھیں معلوم تھا کہ فرسودہ، کند اور زنگ آلود ہتھیاروں سے ایک ترقی یافتہ قوم سے جنگ لڑنا ناممکن ہے اور نہ ہی ان سے فتح حاصل کی جاسکتی ہے؛ چنانچہ انھوں نے مستقبل کے اس نشان کومحسوس کرلیا تھا اور ان کا ذہن اس ’’گرمیِ نشاطِ تصور‘‘ سے معمور تھا، جس کی بنا پر ان پر مستقبل کے نشانات ہویدا ہوتے تھے، انھوں نے اپنے ایک دوست کو لکھا : ’’میاں کس قضیے میں پھنساہے؟ فقہ پڑھ کرکیا کرے گا؟ طب و نجوم و منطق و فلسفہ پڑھو، جو آدمی بنا چاہے۔‘‘ اور جب سرسید احمد خان نے غالب سے آئین اکبری پر تقریظ لکھنے کے لیے کہا، تو غالب نے کہا : ’’ابھی آپ پرانے آئینِ جہاں بانی کی ترتیب و تصحیح میں لگے ہوئے ہیں، حالانکہ زندگی کا نیا آئین کلکتے تک پہنچ گیاہے۔‘‘ غالب کا صاف اشارہ برطانوی آئین کی طرف تھا، جس کے سامنے آئینِ اکبری کی بھلا کیا اہمیت اور بساط تھی! غالب کے مستقبلیت پسند ذہن نے ہر اس خطرے کو محسوس کرلیا تھا، جوا ستعماریوں کی وجہ سے ہندوستان کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی افق کو لاحق تھے، انھوں نے اس سیلابِ بلا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ،جس کے سامنے پورا جوشِ جنوں قطرے سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں تھا،یہ سیلابِ بلادراصل انگریز سامراج کا وہ شکنجہ تھا، جس میں پورا ہندوستان جکڑا ہوا تھاا ور غالب صحیح طور پر قد و گیسو میں قیس و کوہکن کی آزمائش دیکھ رہے تھے اور ایسے میں غالب کی کشمکش یہ تھی:
ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا مرے آگے
سرسیدا حمد خان اور غالب دونوں کی ایک ہی ذہنی راہ تھی، دونوں کی سوچ کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی تھیں، دونوں کی فکر کائناتی تھی اور اس میں تخیل کے بجائے حقیقت پسندانہ عناصر کی آمیزش زیادہ تھی، وہ اپنی آنکھوں سے کائنات اور مستقبل کا منظرنامہ دیکھ رہے تھے اور ان کے لوحِ دل پر مستقبل کے الہامات اور اشارات روشن ہورہے تھے اور یوں بھی ماضی کو سامنے رکھ کر مستقبل کا سراغ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہوتاہے،جب انسان کسی بھی فکر کی گہرائی میں ڈوب جائے ،تو اس فکر اور مسئلے کے تمام زاویے اور جوانب روشن ہوجاتے ہیں، چنانچہ آئینِ اکبری کی تدوین و تصحیح کرنے والے سرسید احمد خان نے بھی بعدمیں وہی فکری منہج اختیارکیا ،جو غالب نے کیا تھاا ور قدیم اسلامی فکر کی کتابوں کو انھوں نے غلامی سے تعبیر کیا اور نئے سائنسی علوم اور معارف کے حصول پر زور دیا، دونوں ہی مسلمات سے منحرف اور مفروضات کے مخالف تھے، سرسیدا حمد خان نے لکھا :’’وقت اور اس کی روح سائنسی علوم اور اس کے نتائج سب تبدیل ہوگئے ہیں، قدیم اسلامی کتابیں اسلام کے پیروؤں کو حریتِ فکر اور سادگی کی تعلیم نہیں دیتیں اور نہ ہی وہ عمومی طور پر حصولِ حق میں ا ن کی معاونت کرتی ہیں، اس کے برخلاف وہ دھوکہ دیتی ہیں اور لوگوں سے معنی پوشی کرتی ہیں اور اس کمزوری کو اس طرح پورا کرتی ہیں کہ وہ چیزوں کے بیان میں غلط بیانی اور غیرمتعلق اصطلاحات کو پرشکوہ الفاظ میں پیش کرتی ہیں، یہ کتابیں غلامی کے احساس کو نافذ کردیتی ہیں ا ور لوگوں کو غرور، تکبر، غلط اعتمادی اور خودفریبی میں مبتلا کرتی ہیں، یہ کتابیں ماضی کی تاریخ کو مبہم اور حقائق کو داستان اور قصوں کی شکل دے دیتی ہیں۔‘‘
سرسید اور غالب نے جو کچھ سوچا ،مستقبل نے اس پر مہر ثبت کردی ہے،آج عالمی صنعتی نظام پر ملٹی نیشنل کمپنیاں چھائی ہوئی ہیں اور ان کے تسلط اور غلبے کا راز صرف ٹیکنالوجی کا استعمال ہے، آج سلی کون ویلی کا تسلط پورے عالمی صنعتی نظام پرہے ،تو وہ اسی ٹکنالوجی کا طلسم ہے،آج پوری دنیا انٹرنیٹ کے طلسماتی حصار میں ہے اور یہی ٹکنالوجی کسی بھی ملک کی تقدیر، معاشیات، اقتصادیات اور کلچر کی ترقی کا تعین کرتی ہے، امریکہ صرف اس لیے سپر پاور ہے کہ وہ ٹکنالوجی کے میدان میں سب آگے ہے،غالب اور سرسید نے مستقبل کے منظرنامے میں ا سی کلیدی قوت اور اقتدار کی کنجی کو محسوس کرلیا تھا، جس کی مخالفت مسلمان علما کررہے تھے اور آج وہ اسی ٹکنالوجی سے استفادہ کرنے پر بھی مجبور ہیں،کاش سرسید احمد خان اور غالب کی طرح ٹکنالوجی کے طلسم کو پورا مسلم معاشرہ سمجھ لیتا ،تو آج پوری دنیا میں اسپین جیسی صورتِ حال ہوتی، جس نے سائنس اور تکنالوجی کے میدان میںیورپ اور مغرب کو اپنی برتری کا احساس دلایا تھا، حقیقت یہ ہے کہ غالب اور سرسید کی سوچ اپنے زمانے کے برعکس تھی، مگر اس سوچ میں معاشرے کی تعمیر مضمر تھی، غالب نے کہا تھا:
مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
شاید معاشرے نے اس خرابی میں تعمیری عنصر کو محسوس نہیں کیا؛اسی لیے یہ معاشرہ فکری،ذہنی، سائنسی اور ٹکنالوجی کے اعتبار مفلوج و معطل ہے سے۔ کائنات کا مستقبل صرف ٹکنالوجی سے وابستہ ہے، جس کے پاس یہ ہتھیار ہے، پوری دنیا اس کی مٹھی میں ہے، غالب اور سرسید دونوں اس راز سے واقف تھے؛اس لیے دونو ں ہی عندلیبِ گلشنِ نا آفریدہ تھے، اب جبکہ اس گلشنِ آفریدہ کو تمام کائنات کی نگاہیں دیکھ رہی ہیں ،تو وہ دونوں عندلیب آسودہ خاک ہوگئے ہیں۔