سادھوی پرگیااور سمیر کلکرنی کی ڈسچارج کی جمعیۃ مخالفت کریگی:گلزار اعظمی

بم دھماکوں کے متاثرین کی نمائندگی ممبئی ہائی کورٹ میں کی جائے گی 
ممبئی:۳۰؍ جولائی(پریس ریلیز) 
ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے آج یہاں مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزمین سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر اور سمیر کلکرنی کی مقدمہ سے ڈسچارج کی عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرلیا جس کے بعد بم دھماکوں کے متاثرین کی نمائندگی کرنے والی جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ جمعیۃ علماء بھگواء ملزمین کی جانب سے داخل ڈسچارج عرضداشت کی مخالفت کریگی۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیۃعلماء نے نچلی عدالت یعنی کے خصوصی مکوکا عدالت میں بھی ملزمین کی ڈسچارج عرضداشت کی سخت مخالفت کی تھی جس کے بعد عدالت نے دونوں کی عرضداشتوں کو مسترد کردیا تھا حالانکہ حکومت کی کٹ پتلی بنی این آئی اے نے ملزمین کوکلین چٹ دے دیتی تھی۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ جیسا کہ آج ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس رنجیت مورے اور جسٹس انوجا پربھودیسائی نے دونوں کلیدی ملزمین کی ڈسچارج کی عرضداشتوں کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے معاملے کی سماعت ۱۳؍ اگست کو کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ہیں جمعیۃ علماء کے وکلاء کو بھی ہدایت دی جاچکی ہے کہ وہ حسب سابق ملزمین کی عرضداشت کی سخت لفظوں میں عدالت میں موجود ثبوت وشواہد کی روشنی میں مخالفت کریں ۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ بھگواء ملزمین ایک منصوبہ بند سازش کے تحت مقدمہ کا سامنا کرنے سے کترا رہے ہیں ، یہ ہی وجہ ہیکہ وہ بجائے مقدمہ کی سماعت شرورع کیئے جانے کے مختلف عدالتوں میں ضمانت عرضداشت، باعزت بری (ڈسچارج) عرضداشت و دیگر عرضداشتیں داخل کرکے عدالت کاوقت ضائع کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ بم دھماکوں کے متاثرین میں سے ایک سید نثار جن کا جواں سال لڑکا سید اظہر ان بم دھماکوں میں شہید ہوگیا تھا کی جانب سے مداخلت کی عرضداشت داخل کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ۲۹؍ ستمبر ۲۰۰۸ء کو ہونے والے اس سلسلہ واربم دھماکہ معاملے میں ۶؍ مسلم نوجوان شہید جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے تھے ، مقدمہ کی ابتدائی تفتیش انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس) نے آنجہانی ہیمنت کرکرے کی سربراہی میں کی تھی اور پہلی بار بھگواء دہشت گردی پر پڑے پردے کو بے نقاب کیا تھا لیکن مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے بعد سے اس معاملے کی بلا وجہ تازہ تحقیقات کرنے والی قومی تفتیشی ایجنسی NIA نے بھگواء ملزمین کو فائدہ پہنچانے کا کام شروع کردیا اور اضافی فرد جرم داخل کرتے ہوئے سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت دیگر بھگواء ملزمین کو راحت پہنچائی تھی جس کے بعد سے بھگواء ملزمین کے حوصلہ بلند ہوگئے ہیں اور وہ بجائے مقدمہ کا سامنا کرنے کے عدالتوں کو دیگر امور میں الجھائے ہوئے ہیں اور این آئی اے نے بھی اس تعلق سے کوئی پہل نہیں کررہا ہے ۔