زراعتی منصوبوں پر عمل آوری کی ضرورت

ڈاکٹر منور حسن کمال
ہندوستان دیہات میں بستا ہے۔ یہ جملہ بار بار سننے کو ملتا ہے اور سننے میں اچھا بھی لگتا ہے، لیکن اسی دیہات کا کسان آج ایک چوراہے پر کھڑا ہے۔ وہ جس طرف بھی جانا چاہتا ہے، اس کے داخلے پر پابندیاں ہیں۔ وہ نہ مظاہرے کرنے کے لیے آزاد ہے اور نہ احتجاج کے لیے آزاد۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے اس کی محنت کا پورا معاوضہ نہیں مل رہا ہے، اس کی پیداوار کی واجب قیمت نہیں مل رہی ہے۔ اس کے مویشیوں کے لیے چارہ کہاں سے آئے گا، اس کے ٹریکٹر کے لیے تیل کہاں سے آئے گا۔ جب اس کی جیب میں پیسے ہوں گے، وہ اسی وقت اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے گا، ان کو تعلیم دلا سکے گا، لیکن جب اس کی جیب خالی ہے تو وہ کیا کرے۔ یہ دستور زباں بندی اس کو کہیں کا نہیں چھوڑ رہا ہے۔ وہ ایسے مسائل سے کب تک نبردآزما رہے گا، بالآخر عاجز آکر کیا وہ بھی اپنے دوسرے کسانوں کی طرح خودکشی کرنے پر مجبور تو نہیں ہوجائے گا؟
آج ہر کسان کے دل کی یہی آواز ہے کہ اسے اس کی پیداوار کے واجب دام ملیں۔ شوگر ملوں پر گنے کے بقایاجات جلد ادا کیے جائیں۔ اس کے لیے کوئی ٹائم لائن مقرر کی جائے۔ بھارتیہ کسان یونین اور حکومت کے درمیان کسانوں کے مسائل سے متعلق کئی مطالبات زیربحث آئے، جن میں کم ازکم امدادی قیمت پر پیداوار کی خرید کو یقینی بنانے اور دس برس پرانے ٹریکٹر کا زرعی کاموں میں استعمال جاری رکھنے پر اتفاق رائے ہوا۔ اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ حکومت کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے ایک 6رکنی کمیٹی تشکیل دے گی۔ حکومت اس بات کے لیے بھی کوشاں ہے کہ دلہن کی درآمدات نہ ہو اور ساتھ ہی کسانوں کو یہ بھی یقین دہانی کرادی گئی کہ وزیراعظم زرعی بیما منصوبہ میں بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اتنا بھی اس وقت ممکن ہوسکا، جب بھارتیہ کسان یونین کے پرچم تلے کسانوں کا جم غفیر ہزاروں ٹریکٹرو ں کے ساتھ دہلی میں مظاہرے کے لیے اترپردیش کی سرحد پر آگیا، لیکن پولیس نے انہیں کسی صورت دہلی میں داخل نہیں ہونے دیا اور ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا، جس کی ہر جانب سے مذمت کی گئی۔ اس کی مذمت کرنے والوں میں کانگریس صدر راہل گاندھی پیش پیش تھے۔ انہوں نے بڑی شدت سے اس کے خلاف آواز بلند کی اور کہا کہ 2؍اکتوبر جو کہ بابائے قوم مہاتماگاندھی کا یوم پیدائش ہے اور اس دن عالمی یوم تشدد منایا جاتا ہے، اس موقع پر اپنے مطالبات کے لیے مظاہرہ کرنے کے لیے دہلی آنے والے کسانوں کے خلاف طاقت کا استعمال کسی طور جائز نہیں اور یہ بھی کہ اسی دن ملک کو ’جے جوان اور جے کسان‘ کا نعرہ دینے والے سابق وزیراعظم لال بہادر شاستری کا بھی جنم دن ہے۔
ادھر اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی جی نے بھی کسانوں کے مفاد کے سلسلے میں کہا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں کسانوں کے مفاد کے لیے پرعزم ہیں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے اپنے وعدے پر قائم ہیں۔ لیکن اصل صورت حال یہ ہے کہ ملک میں زراعت اور اس سے وابستہ کسان سخت بحران کے دور سے گزر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے، 90کی دہائی سے شروع ہوئے کسانوں کے مسائل اگر کسی حد تک بہتر ہوتے ہیں تو کوئی اوربحران سامنے آجاتا ہے۔
ہزاروں کسانوں کی خودکشی کے واقعات اس امر پر شاہد ہیں کہ ان کی صورت حال بہتر نہیں ہے۔ وہ صرف امیدوں کے سہارے جی رہے ہیں، لیکن امیدوں کا سہارا خالی پیٹ کو روٹی نہیں دیتا، پیاسے کو پانی نہیں دیتا، بچوں کو تعلیم نہیں دیتا اور اسی طرح دوسری بنیادی ضرورتوں کے پہاڑ جہاں ہر عزیب اور متوسط طبقہ کے سامنے کھڑے ہیں، وہیں کسانوں کو بھی ایسے ہی پہاڑ کا سامنا ہے۔ حکومت کم از کم امدادی رقم تو طے کرتی ہے اور اس پر تیار بھی نظر آتی ہے، لیکن اس کے بعد کبھی گودام کی کمی نظر آتی ہے تو کبھی نوکرشاہی ان کے مسائل کو نظرانداز کردیتی ہے۔ ایسی صورت حال میں حکومت کسان کی پیداوار کم ہی خرید پاتی ہے۔ کسانوں کے پاس پیداوار رکھنے کی جگہ نہیں رہتی اور وہ اس کو بازار میں لاکر فروخت کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ پھر بازار میں آنے کے بعد بچولیوں اور آڑھتیوں کے سامنے اپنی پیداوار کی فروخت کے لیے اس کو عجیب صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں آنے کے بعد تو ہر حال میں جس قیمت پر بھی ہو، پیداوار کو فروخت کرنا ہی ہے، اس لیے بچولیے اور آرھتی اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان سے کم سے کم قیمت پر خرید کر بڑھی ہوئی قیمت پر آگے فروخت کرتے ہیں۔ صارفین تک پیداوار پہنچتے پہنچتے بازار بھاؤ بہت اونچے چلا جاتا ہے۔
کسانوں کو شاید یہ خواہش ہوگی کہ گزشتہ برسوں میں تلنگانہ حکومت کی طرز پر ان کا 50فیصد قرض معاف کردیا جانا چاہیے اور کسانوں کو وہ سہولتیں بھی دی جانی چاہئیں جو دوسری ریاستیں دے رہی ہیں، تاکہ قرض کے بوجھ سے عاجز کسان خواہ کسی بھی ریاست کا ہو، وہ خودکشی نہ کرے۔ اصل میں کسانوں کے مسائل بہت سنگین ہیں اور انہیں حل کرنے کے نام پر انہیں کوئی معمولی سا نسخہ بتادیا جاتا ہے، جو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں چمکتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے وہ تحریر دھندلی ہوتے ہوتے ختم ہوجاتی ہے اور مسائل جوں کے توں موجود رہتے ہیں۔
مدھیہ پردیش میں کسانوں کے پرتشدد مظاہرے کے باوجود ان کی مشکلیں ابھی بھی برقرار نظر آتی ہیں، ہوسکتا ہے اس مظاہرے کے بعد کچھ کسانوں کو فائدہ پہنچا ہو، لیکن بہ ظاہر اس کے آثار نظر نہیں آتے۔ گزشتہ برس یوگی حکومت کے قیام کے بعد یوپی کے وزیرصحت سدھارتھ ناتھ سنگھ نے بتایا تھا کہ یوپی میں دو کروڑ 15لاکھ کسان ہیں۔ ان کسانوں کا 30کروڑ 729 لاکھ روپے کا قرض معاف کردیا گیا اور کسانوں کا ایک لاکھ روپے تک فصل بیمہ معاف کیا جائے گا۔ جن کسانوں نے ایک لاکھ تک کا فصل بیمہ کرا رکھا ہے، ان کے اکاؤنٹ سے اتنی رقم منہا کردی جائے گی، اس کے علاوہ کسانوں کا این پی اے بھی معاف ہوگا۔ یعنی جو کسان قرض چکانے کی حالت میں نہیں ہیں، ان کا قرض بھی معاف ہوگا اور انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ 7لاکھ کسانوں کی این پی اے رقم 5630کروڑ روپے معاف کردی گئی ہے، لیکن شاید کسانوں کی مشکلیں ختم نہیں ہوئی ہیں۔ ورنہ ہزراہا کسان ہزاروں ٹریکٹروں کے ساتھ مظاہرے کے لیے دہلی کے دروازے پر دستک دینے شاید نہ آتے۔ سر سے پاؤں تک قرض میں ڈوبے کسان قرض معافی کے ساتھ ساتھ سوامی ناتھن سفارشات کے نفاذ کے لیے بھی مظاہرہ کررہے ہیں۔
مظاہرہ ختم ہونے کے بعد کسانوں کا خیال ہے کہ جو وعدے ہم سے کیے گئے ہیں، اگر وہ پورے ہوجاتے ہیں تو بہت اچھا،ورنہ الیکشن کا زمانہ تو نزدیک ہی ہے، اس دوران انہیں ہمارے پاس آنا ہی ہے۔ فی الحال دوردراز سے آئے کسان اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں، لیکن ان کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ الیکشن میں کیا رُخ اختیار کریں گے، اس کا اشارہ انہوں نے دے دیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کسان جو ہمارے ملک کی آبادی کا تقریباً70فیصد ہیں، ان کے مسائل پر بھرپور توجہ دی جائے، یہ توجہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی محنت و مشقت سے اناج، دلہن اور گنا پیدا کرکے نہ صرف ملک کے کروڑوں لوگوں کی بنیادی ضرورت پوری کرتے ہیں، بلکہ ملک کو بھی اس کے بے شمار فوائد ہیں، جن کو کسی طور نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت کے جو بھی کسانوں اور زراعت سے متعلق منصوبے ہیں، انہیں بہرحال پورا کیا جانا چاہیے۔