’ریڈ ژون‘ میں شیئر مارکیٹ،تھم نہیں رہی ہے گراوٹ

نئی دہلی، 06 فروری(قندیل نیوز )
بجٹ سے پہلے چیف اقتصادی مشیر اروند سبرا منیم نے شیئر مارکیٹ کے ریکارڈ سطح پر پہنچنے کو لے کر کہا تھا کہ اس سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی تھی کہ مارکیٹ میں یہ تیزی صرف کچھ دنوں کیلئے ہی ہے۔ ان کی یہ تشویش صرف 5 دن کے اندر ہی سچ ثابت ہوگئی ہے ۔ پہلے تو بجٹ میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے حصول پر ٹیکس لگائے جانے سے مارکیٹ نیچے آگیا۔ دوسری طرف امریکی مارکیٹ میں آئی 6 سال میں سب سے بڑی گراوٹ نے بھی مارکیٹ کو لال ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔جنوری مہینے کے اختتام تک نفٹی جہاں 11 ہزار سے زائد کی سطح پربنارہا تھا۔ وہیں سنسیکس بھی 36 ہزار کے اعداد و شمار کو پار کر چکا تھا لیکن اس مزاج کو یکم فروری کو پیش ہوئے بجٹ نے بگاڑ دیا۔ شیئرمارکیٹ میں مسلسل آرہی اس گراوٹ کیلئے بجٹ سمیت 5 اہم وجوہات ذمہ دار ہیں۔شیئر مارکیٹ اس سال کے بجٹ سے بہت زیادہ توقع رکھتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ شیئر مارکیٹ یکم فروری کو شیئرمارکیٹ نے اضافے کے ساتھ شروعات کی ،حالانکہ بجٹ ختم ہوتے ہوتے یہ اضافہ گراوٹ میں تبدیل ہوگیا۔دراصل وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے بجٹ میں طویل مدتی کیپٹل گینس پر ٹیکس لگانے کا اعلان کیا۔ اس نے سرمایہ کاروں کے جذبے کو کمزور کردیا ہے، بجٹ کے دن سے شیئر مارکیٹ مسلسل گراوٹ جاری ہے۔اس تجارتی ہفتے کے دوسرے دن منگل سے سینسیکس نے جہاں 1200 پوائنٹس کے ساتھ شروعات کی۔وہیں نفٹی بھی 300 پوائنٹس کھل کرٹوٹا۔ اس کی اہم وجہ بنی بجٹ کے ساتھ امریکی مارکیٹ میں آئی کمی ۔