ریٹائرمنٹ کے بعد کیا کررہے ہیں جسٹس چلامیشور؟

سلمان راوی
ہندی سے ترجمہ: ہلال ہدایت
سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس جستی چلامیشور کا کہنا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہندوستانی حکومت مناسب طریقے سے کام کر رہی ہے یا سپریم کورٹ اپنے کام کاج کو مناسب طریقے سے کر رہا ہے یانہیں۔بی بی سی کے ساتھ بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ آندھرا پردیش کے کرشنا ضلع میں موجود اپنے آبائی گاؤں میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں، جہاں نہ پارلیمنٹ ہے اور ناہی سپریم کورٹ ہے۔گزشتہ سال 12 ؍جنوری کو ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بارکچھ ایسا ہوا کہ جو غیر متوقع تھا،جسٹس چلامیشور کے علاوہ سپریم کورٹ کے تین دیگرججوں نے پریس کانفرنس کرکے ہندوستان کے اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے کام کاج کے بارے میں حساس سوالات اٹھائے تھے۔اس پریس کانفرنس میں موجودہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کے علاوہ جسٹس کورین جوزف اور جسٹس ایم بی لوکور بھی شامل تھے۔ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں یہ پہلی بار تھا، جب سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف عوامی سطح پر مورچہ کھولا تھا۔
جسٹس چلامیشوردوبارہ اس وقت سرخیوں میں آگئے، جب انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سپریم کورٹ بار کونسل کی روایتی الوداعی تقریب میں شرکت نہیں کی اور سیدھے اپنے گاؤں چلے گئے،جسٹس چلامیشور کہتے ہیں کہ اب وہ اپنی آبائی زمین میں کاشت کاری کرر ہے ہیں۔انہوں نے کہا ’’میرے لئے خوراک مسئلہ نہیں ہے،کھیتی کرکے اگا لیتے ہیں، اگر وہ میری پنشن روک بھی دیتے ہیں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘۔لیکن انھیں یہ افسوس ہے کہ جن مسئلوں کو لے کر انہوں نے آواز اٹھائی اوران پر باغی ہونے کے الزامات لگے ،وہ مسئلے جوں کا توں برقرار ہیں۔مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ: انہوں نے سوال کیا تھا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدہ پر رہ چکا انسان کھلے عام کہتا پھرتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ سے من چاہا فیصلہ لاسکتا ہے۔اس سابق چیف جسٹس کو سی بی آئی پکڑتی ہے، ایف آئی آر درج کرتی ہے اور اسے اگلے دن ہی ضمانت مل جاتی ہے جبکہ ہندوستان میں ہزاروں لوگ جیل میں ہیں اور انہیں ضمانت نہیں مل پارہی ہے، میں سوال اٹھاتا ہوں تو مجھے باغی کہتے ہیں، کچھ نے تو مجھے غدارِ وطن تک کہہ دیا۔انہوں نے کہا کہ سی بی آئی نے ابھی تک ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس کے عہدہ پر رہ چکے اس شخص کے خلاف کیس درج نہیں کیا ہے۔
جسٹس چلامیشور نے عہدہ پر رہتے ہوئے ہی ججوں کے انتخاب کے سلسلے میں بنائے گئے کولیجیم سسٹم پر سوالات اٹھائے تھے،وہ چاہتے تھے کہ ججوں کے انتخاب کے عمل کے سلسلے میں شفافیت ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا ’’ایسا نہیں ہے کہ میری ہر کہی ہوئی بات درست ہو، مگر میرا یہ فرض ہے کہ میں بتاؤں کہ کیا غلط ہے اور میں نے وہی کیا۔جب صدرجمہوریہ اور وزیراعظم؛ ان سب عہدوں کے لیے جوابدہی ضروری ہے، تو پھر چیف جسٹس کے عہدے کے ساتھ کیوں نہیں ہے؟یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ خاموش بیٹھ گئے ہیں؟ جسٹس چلامیشور نے کہا کہ نہیں، اب انہیں طلبا سے گفتگو کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔لا کالجوں اور یونیورسٹیوں کے علاوہ دیگر یونیورسٹیوں سے دعوت دی جاتی ہے اور وہ طلبا سے اپنے دل کی بات کھل کرکرتے ہیں۔