روحِ سرسید سے

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 89
فضیل احمد ناصری
روحِ سرسید سے
آزر سا تدبر ترا ، مومن سا تن و توش
تہذیبِ کلیسا سے عبارت تری آغوش
اٹّھی ترے قدموں سے وہ الحاد کی آندھی
افکارِ براہیم کی شمعیں ہوئیں خاموش
پھر فکر کے رَستے ہوا دل قوم کا مرتد
کہنے کو بظاہر نہ صنم ساز، نہ مے نوش
احمد ! ترے کالج نے وہ اسباق پڑھائے
مسلم کی ہوئی غیرتِ دینی کہیں روپوش
اک پیکرِ خاکی ، جو شریعت ، نہ حقیقت
ملّا سے گریزندہ تو کافر سے ہم آغوش
تو مذہبِ توحید کی ترمیم میں کوشاں
فرزند ترے دین کی تغلیط میں پرجوش
گو رنگ الگ ہے تری گردن زدنی کا
کہتا ہوں بجا، تو بھی ہے فرعون کا ہم دوش
اسلام کی تبلیغ میں کچھوے کیطرح سست
توسیعِ کلیسا میں مسلماں ہوئے خرگوش
اٹّھے ترے خیمے سے کہاں زمزمۂ حق
خیمے ہیں ترے بادۂ الحاد سے مدہوش

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*