روحزن:طلسم کدۂ جسم و روح

نایاب حسن
رحمن عباس عصرحاضرکے اردوناول نگاروں میں اپنی انفرادی شناخت رکھتے ہیں ،ان کے ذہن و خیال کی زرخیزی اور فکرکاتنوع ان کے ناول میں نمایاں رہتا ہے،اب تک ان کے جوناولز منظرعام پر آئے ہیں ،انھوں نے ان کی تخلیقی امیج کو نکھارنے کے ساتھ ادبی حلقوں میں مختلف سطحوں پر بحث و نقاش کے نئے موضوعات کو جنم دیاہے۔وہ دانش و ادب کی پرسکون سطح پر پتھرمارنے کے لیے ہر دم تیار رہتے ہیں، آزادی پسندہیں،بے باک ہیں اور فکر و خیال کی وسعت کے قائل ہیں؛چنانچہ ادب وسیاست کے مختلف پہلووں پر بے باکانہ اظہارِ خیال کرنے کے ساتھ مذہبیات یا مختلف مذہبی علائم بھی ان کی زدمیںآجاتے ہیں۔ معاصر ناول نویسوں میں ان کی انفرادیت یوں طے کی جاسکتی ہے کہ ان کے یہاں کہانی کی بنت ،پلاٹ،کرداراورواقعات کا مجموعی ماحول بالکل ہی انوکھا اور اَن چھواہوتاہے۔۲۰۱۶ء میں شائع ہونے والا’’روحزن‘‘ان کا چوتھاباقاعدہ ناول ہے،اس کا تانابانابنیادی طورپر ممبئی اوراس کے مضافات میں تیار ہوا اور اصل کہانی اس شہر کی ہنگامہ خیز زندگی اورطوفانِ ابروباد سے نکلی ہے،اس کتاب پر گزشتہ تین سال کے عرصے میں بہت کچھ کہااور لکھاجاچکاہے،کتاب کی تخلیقی اہمیت یوں بھی اجاگر ہوتی ہے کہ جرمن زبان میں اس کاترجمہ ہوچکاہے اور عن قریب انگریزی میں بھی اس کا ترجمہ شائع ہونے والاہے۔
اس پورے ناول پر ایک مخصوص قسم کی طلسماتیت حاوی ہے،ناول کا بنیادی تھیم انسانی نفسیات کے پرت درپرت احوال کی گرہوں ، روح کے زخم اور جنسی تعلقات کے تنوعات کے گرد جولاں ہے،ناول نگارنے بہ طورِخاص ممبئی کی بھاگم بھاگ والی زندگی اورعام مزدور پیشہ افرادوطبقات کے شب وروز کی مصروفیات کے مختلف رنگوں کو بڑی خوبی و گہرائی سے بیان کیاہے۔پوری کتاب کے مطالعے کے بعد ذہن میں اس کے تعلق سے جو مجموعی تاثر ابھرتاہے ،وہ یہ ہے کہ اس میں شروع سے آخرتک کہانی کی دومختلف سمتیں،دومختلف لہریں،دومتضادسلسلے اپنے مخصوص رنگ و آہنگ کے ساتھ سفر کرتے ہیں،کہیں کہیں حیرت انگیز طریقے سے دونوں کا امتزاج بھی ہوجاتاہے اور عام طورپر دونوں اپنی موج میں رواں دواں نظرآتے ہیں،کہانی کاایک پہلواسرار،اس کے دوست محمد علی، عثمان،سلیمان،حیدر، سلیم گھارے، قاسم اور اسلم دھامسکر وغیرہ اورمختلف زمانی مرحلوں میں اسرارکے قریب آنے والی اس کی استانی مس جمیلہ،ایک طوائف شانتی،معشوقہ حناسے متعلق ہے،جبکہ دوسرا پہلو سرّیت سے بھرپور،طلسماتی اورتجسس آمیز ہے۔حناکاباپ عطریات کا تاجر یوسف میمن،ایک عربی شیخ بوراشد، اس کی پراسراربیوی ایمل ،بیٹی وردۃ السعادہ ،عمردراز مولابخش اوراسطوری کیرکٹرممبادیوی وغیرہ کے کرداروں کے ذریعے مصنف نے ایک الگ ہی دنیاکو پیش کیاہے۔اس ناول میں شیطان پرستی کے تصوروتاریخ اورشیطان پرستوں کے خیالات و افکارکوسامنے رکھتے ہوئے واقعات کا ایک سلسلہ قائم کیا گیا ہے، یہ ایسا گروہ ہے،جوکائنات میں نفس پرستی اور لامحدود آزادی کا پیامبراور انسانی دنیاکے تہذیبی ،اخلاقی و مذہبی سسٹم کو پوری طرح اپنے قابومیں کرنا چاہتاہے ، حقیقی علمی دنیامیں فری میسن یا ایلومناتی تحریک کے ذریعے بھی اس گروہ کی شناخت طے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،اس تحریک کے ماننے والوں کا خیال ہے کہ ان کا ’’ نظام ایک اجتہادی اور حتمی سچ کی طرف مراجعت ہے ،اس میں بہت سارے عجیب و غریب مراحل ہیں؛لیکن جو انبساط اور قرارِ نفس اس میں ہے،وہ کسی مذہب میں نہیں‘‘۔(ص:۱۵۳)ایمل نامی کردار کی زبانی باقاعدہ شیطان پرستی کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے ،اس کے مطابق ’’انڈیامیں اِس صدی کے اختتام تک ۴۵؍ہزار افراد باقاعدہ شیطان پرست ہوجائیں گے ،ناگالینڈ،میزورم ،میگھالیہ اورکیرالا میں شیطان پرستی کا رجحان پھیل رہاہے ، بھارت کی عیسائی اکثریتی ریاستوں میں شیطان پرستی جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی ہے اور اسے روکنا آسان نہیں ہے ،شیطان پرستوں کی اس مجموعی تعداد میں ۷۵؍فیصد خواتین شامل ہیں ….انڈیاکا سب سے شانداراور بارسوخ چرچ ممبئی میں ہے،جس کے مستقل ممبران کی تعداد ۱۰؍ہزار ہے ،بنگلور،پونے ،چنئی میں شیطان پرستوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ‘‘۔(ص:۱۶۴)رحمن عباس نے ناول کے اس اہم حصے میں جوواقعات بیان کیے ہیں،مختلف کرداروں کی زبانی جو باتی کہی گئی ہیں اورنفس پرستی کے جو مظاہر پیش کیے گئے ہیں،انھیں پڑھتے ہوئے ذہن و دماغ کوعجیب سے جھٹکے لگتے ہیں اور ہر صفحے کے بعد قاری کا تجسس بڑھتاجاتا ہے۔واقعات کی جو منظر کشی ہے،وہ گرچہ فکشنل ہے ،مگر شیطان پرستی کے تاریخی حوالے ایک دستاویزی رپورٹ پر مبنی ہیں ۔ناول میں مذکور ایک دلچسپ کتاب ’’کتاب الحکمۃ‘‘اور اس کے اقتباسات بھی خوب ہیں۔
’’روحزن‘‘میں انسان کی جنسی خواہشات اور ان کی تکمیل کی متنوع شکلوں کو بڑی چابک دستی اور واقعیت پسندی کے ساتھ بیان کیاگیاہے،ہاں یہ ضرور کھٹکتاہے کہ ناول میں جہاں بھی کسی نسوانی کردار کی آمدہوتی ہے،فوراً یا کچھ دیر بعدہی کوئی ’’جنسی واردات‘‘لامحالہ رونماہوکررہتی ہے،البتہ رحمن عباس کابیان کا سٹائل اور اظہار کا اسلوب بڑا پر کشش ہے،سووہ لفظوں کے انتخاب اور خیال کی تعبیر میں حسن و کشش،رمزیت و ایمائیت کاایک خوب صورت طورضرور قائم رکھتے ہیں۔ناول میں جزئیات نگاری کمال کی ہے ،البتہ یہ کہیں کہیں اتنی تہہ دار ہے کہ قاری بور ہوجاتاہے ،واقعات پیچ درپیچ بیان کیے گئے ہیں ،مگر کردار اتنے مضبوط اور کہانی کا پلاٹ ایسا پختہ ہے کہ پڑھنے والے کے ذہن سے واقعات کا سراچھوٹنے نہیں پاتا۔ کتاب میں جگہ جگہ انسانی نفسیات کو عیاں کرنے والے بعض نہایت معنی خیز جملے لکھے گئے ہیں،مکالمات کے درمیان خالص ممبئیابھاشابھی بڑی مہارت سے استعمال کی گئی ہے،ناول نگار خود اسی خطے کے باسی ہیں،سوممبئی اور نواحِ ممبئی کی تاریخ و تہذیب اور معاشرت کی عکاسی نہایت خوبی سے کی ہے،درمیان میں ضمناً ممبئی فسادات کا بھی ذکر آجاتاہے اوراس کے بعض اہم پہلووں پرایسابیانیہ سامنے آتاہے کہ قاری کے ذہن میں یکلخت سوچ کا ایک نیانقش ابھرتا اور وہ کچھ دیر کے لیے ہندوستان کے اُس مہیب ماحول میں جینے لگتاہے ،جہاں مذہبی شناخت کی بنیاد پر انسانوں کو شکار کیاجاتااور ایک مذہبی گروہ دوسرے گروہ کی جان اور عزت و آبروکے درپے ہے ،اس ضمن میں ایک کرداریعقوب عمر کا ہے،جو غالباً ایک حقیقی ہم نام سے مستعار ہے ۔اسرارکا دوست محمد علی اپنے سیٹھ اور نقلی ہیروں کے کاروباری موسی پٹیل کے ساتھ بابری مسجد کی شہادت کے واقعے کے بعد ممبئی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے کاتفصیلی تذکرہ کرتا ہے، اسے سن کر اسرارکہتاہے:’’یاریہ یعقوب عمرکہیں وہ تونہیں…؟‘‘تومحمد علی ممبئیااندازمیں جواب دیتے ہوئے کہتاہے:’’ہاں!اللہ ان کو جنت نصیب کرے، بدلہ نہیں لیتے،توابھی تک پھٹی رہتی اپُن لوگ کی‘‘۔
مجموعی طورپر اس ناول میں روانی ہے،بہاؤہے،تسلسل ہے،پختگی ہے ،ہرکردار اپنی جگہ مضبوط ہے اور قاری کے ذہن میں پیوست ہوجاتاہے ،واقعات کوخوب صورت انداز میں مرتب طریقے سے بیان کیاگیاہے،ناول نگارکے ذہن کی تخلیقی زرخیزی اپنے عروج پر ہے،انھوں نے آزادیِ فکر کابھی اس ناول میں بھرپوراستعمال کیاہے۔زبان،اسالیبِ بیان اور خوب صورت تعبیرات کو برتنے کا ان کاہنربھی پختہ ہے،البتہ کئی مقامات پرلفظوں کی کتابت غلط کی گئی ہے،زیادہ تر غلطیاں ایسی ہیں کہ آیندہ معمولی توجہ سے انھیں دورکیاجاسکتاہے،البتہ بعض مقامات کی نشان دہی بھی ضروری ہے،مثال کے طورپر صفحہ نمبر: ۴۷پرانھوں نے لکھاہے:’’عمارت پر قرآن کی آیت کندی ہوئی دیکھ کراسرارکو پہلے خوشی ہوئی،پھر حیرانی ہوئی‘‘،فارسی میں کندن اور کندیدن مصدرکے معنی کھودناہیں اور اسی سے کندہ اسم مفعول فارسی اور اردو میں بھی استعمال ہوتاہے،پس یہاں یاتو’’آیت کھدی ہوئی تھی‘‘یا’’آیت کندہ تھی‘‘لکھناتھا،اگلے صفحے پر ایک جگہ قرآنی آیت کا ٹکڑا’’ان اللہ مع الصابرین‘‘کااملا ’’انااللہ‘‘ بھی غلط ہے،اس کے علاوہ ہمہ تن گوش کی جگہ ’’ہماتن گوش‘‘(ص:۶۶)سدابہار کی جگہ’’صدابہار‘‘(ص:۱۶۶)افشاکی جگہ ’’افشاں‘‘(ص:۲۱۷)گلارندھ رہاتھاکی جگہ ’’گلارندرہاتھا‘‘(۲۲۳)قوتِ شامہ کی جگہ ’’قوتِ شامعہ‘‘ (۲۵۹) لکھے گئے ہیں،ایک لفظ صفحہ نمبر۱۴۱؍پر’’شاہداور مشاہد‘‘استعمال کیاگیاہے اوراس کے معنی یہ بتائے ہیں کہ انسان خود ہی دیکھنے والاہواور خودہی دیکھاجانے والابھی ہو،حالاں کہ’’شاہد او رمشاہد‘‘سے یہ معنی حاصل نہیں ہوتا؛کیوں کہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں،ناول نگارجو معنی اداکرنا چاہتے ہیں ،اس کے لیے موزوں لفظ ’’شاہداور مشہود‘‘ ہے۔’’شاہد ‘‘دیکھنے والا اور’’مشہود‘‘جسے دیکھاجائے!
کتاب کا نام ’’روحزن’’دولفظوں’’روح‘‘اور ’’حزن‘‘سے مرکب ہے،مگر انھوں نے اسے ایک مکمل لفظ کے طورپر استعمال کیاہے ،کتاب کے آخر میں ایک نوٹ کے تحت لکھاہے کہ’’:روحزن بہ طور سالم لفظ ایک ذہنی،جذباتی اور نفسیاتی صورتِ حال کو پیش کرتاہے ‘‘، اس ’’صورتِ حال‘‘ کی تشریح انھوں نے صفحہ نمبر؍۳۳۳پرکی ہے:
’’والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کی کسی اور سے جنسی وابستگی کو اگر بچہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے،تویہ منظر اس کی روح کو پرحزن کردیتاہے،یہ حزن روح میں چھید کردیتاہے،چھید کا رقبہ وقت کے ساتھ بڑھتاجاتاہے،یہ خالی رقبہ اپنے خالی پن کے سبب روح کا ایک مرض بن جاتاہے،اس مرض کا آزمودہ اور آسان علاج انبساطِ جماع ہے،جنسی عمل میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ روح کے اس نادیدہ چھید کو رفتہ رفتہ مندمل کرسکتاہے‘‘۔اس طرح یہ ناول’’اس کیفیت کی پیش کش کے ساتھ ایک نئے لفظ کو صورت عطا کرنے کی کوشش ہے‘‘۔(ص:۳۳۵)
کتاب کی ابواب بندی بھی دلچسپ اور منفردہے،اس کے کل آٹھ ابواب ہیں اورآٹھوں ابواب کوجدید اردوغزل کے نمایاں شاعر راجیندرمنچندابانی کے آٹھ مصرعوں سے معنون کیاگیاہے،ہرمصرعے میں ایک سحر ہے،رمزیت ہے اور وہی رمزیت ان مصرعوں کے تحت بیان کی گئی کہانی میں ہے،پہلاباب ان کی غزل کا پہلا مصرع ہے:
جوزہرہے مرے اندروہ دیکھنا چاہوں
جبکہ باقی سات ابواب ان کے اگلے سات شعروں کے دوسرے مصرعے ہیں:
مجھے بھی رہ نہ ملے گی،جولوٹناچاہوں
میں اب صداکے صلے میں کوئی صداچاہوں
میں اپنی بات کا مفہوم دوسرا چاہوں
تری خبر ،نہ کچھ اپناہی اب پتہ چاہوں
عجب سپاٹ سفر ہے کہ حادثہ چاہوں
میں بات کرنے کو تھوڑاسافاصلہ چاہوں
نہ سرپہ راہ دکھاتی ہوئی ہواچاہوں
بہر کیف رحمن عباس کی نوبہ نوتخلیقی حرکیات کاعکاس ان کا یہ نیاناول دلچسپ اور لائقِ مطالعہ ہے،اردوایڈیشن دہلی میں عرشیہ پبلی کیشنزسے شائع ہواہے ،قیمت ساڑھے تین سوروپے مناسب ہے۔