راہل گاندھی کا بیان اور ٹویسٹڈ سرخی

عظیم اختر
M: 9810439067
ہمیں اقتدار کی کرسیوں پر جمے ہوئے اور اقتدار کی کرسیوں تک پہنچنے کی خواہش سے بیتاب رکھنے والے سیاستدانوں کے پرفریب وعدوں، خود ستائشی وعدوں اور اور عوام کے ذہنوں میں تنگ نظری کا بیج بونے والے بیانات سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی ؛بلکہ فضاؤں میں داغے جانے والے اس قسم کے بیانات کوسیاسی مکر و فریب کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیتے ؛لیکن چند دن قبل اردو صحافت میں لمبی ریس کے گھوڑے کا رول ادا کرنے والے کارپوریٹ گھرانے کے ایک اخبار کے پہلے صفحے پر نمایاں انداز سے چھاپی گئی خبر اور اس خبر پر لگائی جانے والی سرخی نے ہمیں چونکا دیا اور معاً خیال آیا کہ آئندہ سال ہونے والے پارلیمانی انتخاب میں مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے کی وہ تمام راہیں ہموار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے ،جن کے لیے آج سے چند برس قبل ایک مخصوص سیاسی ذہن اور سوچ و فکر رکھنے والوں نے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے اردو صحافت کی آڑ میں اس اخبار کی داغ بیل ڈال کر اردو زبان و ادب کے طبقۂ اشرافیہ سے مہینوں اپنی تعریف و قصیدہ خوانی کروائی تھی۔
دہلی کے اردو صحافتی حلقوں میں لمبی ریس کے گھوڑے نے حقِ نمک ادا کرنے کے لیے اس خبر کی جو سرخی جمائی، وہ ملک کا سیاسی ماحول پراگندہ کرنے اور انتخابات میں اپنی روٹیاں سینکنے والوں کی زبان تو یقیناًہو سکتی ہے؛ لیکن ایسے کسی سیاستداں کی سوچ کا مظہر نہیں ہو سکتی، جس نے ہوش سنبھالتے ہی سیکولرازم اور بھائی چارے کاپاٹھ پڑھاہو، مذہب کے نام پر سیاست کرنے اور انتخابات میں رائے دہندگان کی صف بندی کر کے اقتدار تک پہنچنے والوں کے لیے کثیر الاشاعتی کے زعم میں مبتلا کارپوریٹ گھرانے کے اخبار کی یہ چھ لفظی سرخی آسمانی تحفے سے کم ثابت نہیں ہوئی؛ چناں چہ ملک کے وزیرِ اعظم سے لے کر برسرِ اقتدار پارٹی کا ہر چھوٹا بڑا نیتااسے لے اڑا اور گلا پھاڑ پھاڑ کر چلاّنے لگا؛ تاکہ ملک کی اکثریت کو کانگریس سے نہ صرف بد ظن کیا جا سکے؛ بلکہ مسلمانوں کے خلاف بھی در پردہ وہ فضا ہموار کی جا سکے، جس سے آنے والے پارلیمانی انتخاب میں بھرپور ڈیویڈینٹ Dividentحاصل ہو سکے۔ برسرِاقتدار پارٹی کے چھوٹے بڑے نیتا جب اس خبر کے حوالے سے بحث مباحثے کا بازار گرم کر رہے تھے ،تو ہم اسے صرف سیاسی شعبدہ بازی ہی سمجھتے رہے؛ لیکن جب سر یرآ رائے مملکت نے گزشتہ ہفتے اس خبر کے حوالے سے اعظم گڑھ میں ایک عوامی ر یلی کو خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی سے سوال کیا کہ کیا کانگریس صرف مسلم مردوں کی پارٹی ہے یا مسلم خواتین کی بھی ہے؟ تو ہمیں اپنے ملک کے وزیر اعظم کے اس بچکانہ سوال پر حیرت ہوئی اور ہم نے کارپوریٹ گھرانے کے اخبار کی اس خبر کا مطالعہ کیا، تو ہم پر حیرتوں کا آسمان ٹوٹ پڑا کہ صحافتی بد دیانتی کا ثبوت دیتے ہوئے راہل گاندھی کے بیان کو ٹوئسٹ (Twist)کر کے خبر پر ’’ ہاں، کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے‘‘ کی سرخی دیدہ و دانستہ لگائی گئی ؛ تاکہ بر سرِ اقتدار پارٹی کو فائدہ پہنچ سکے۔ اردو زبان سے ناواقف بھارتیہ جنتا پارٹی کے چھوٹے بڑے نیتا خبر کے متن کو پڑھے بغیر صرف سرخی کے حوالے سے ہی شادیانے بجا رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی میں اردو زبان سے واقف لیڈروں کی کمی نہیں ہے؛ لیکن المیہ یہ ہے کہ ان حضرات نے بھی خبر کے متن کو غور سے نہیں پڑھا اور راہل کے دفاع میں جوابی بیان بازی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، خبر کے متن میں کہا گیا ہے کہ کانگریسی صدر راہل گاندھی سے جب مسلم دانشوروں کے ساتھ ایک خاص ملاقات میں پوچھا گیا کہ ’’ کیا راہل گاندھی مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلیں گے؟ اس سوال پر انھوں نے کہا کہ ضرور چلیں گے؛ لیکن صرف مسلمانوں سے سیاسی کامیابی نہیں ہونے والی،انھوں نے کہا کہ مثال کے طورپر بہار میں مسلمان ۵ ؍فی صد ہیں اور اگر وہ سب کانگریس کو ووٹ کر دیں، تو کیا کانگریس کی حکومت بن جائے گی اور اگر یادو بھی ساتھ آ گئے ،تو باقی طبقات دوسری طرف پولرائز ہو جائیں گے ؛اس لیے ہمیں سماجی انصاف کی بنیاد پر کام کرنا ہے اور سب کو ساتھ لانا ہے، انھوں نے کہا کہ ہمیں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ او بی سی اور ایس سی ، ایس ٹی کو بھی ساتھ لینا ہے اور بی جے پی کی طرف سے کی جانے والی تقسیم کی سیاست کو روکنا ہے، پروفیسر عرفان حبیب نے کہا کہ کانگریس کوعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے مسائل پر نہیں بولنا چاہیے ؛کیونکہ اس سے پولرائزیشن ہوتا ہے، اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ اب آپ لوگ یہ ڈر نکال دیجیے ، اگر بی جے پی یہ کہتی ہے کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے، تو ہاں میں کہتا ہوں کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے ؛کیونکہ ملک کا مسلمان کمزور ہے اور اب وہ دوسرا دلت ہو گیا ہے، جبکہ کانگریس ہمیشہ سے کمزور کے ساتھ رہی ہے۔‘‘
جمہوریت اور سیکولرازم میں مذہب اور ذات پات اور علاقائیت کے نام پر قائم کی جانے والی سیاسی پارٹیوں کا کوئی تصور نہیں؛ لیکن ہندوستان دنیا میں ایسا واحد ملک ہے، جہاں جمہوریت ، علاقائیت اور سیکولرازم کے نام پر جنم لینے والی سیاسی پارٹیاں خوب پنپ رہی ہیں، جس کی اصل وجہ یہاں کے عوام میں مذہب، ذات پات اور علاقائی بھید بھاؤ کی جڑوں کا غیر معمولی گھرا ہونا ہے، آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی مذہب پرستی ، کٹّرتا پر ہندوتوا کا غلاف منڈھتے ہوئے اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کی خاطر نہ صرف سیکولرازم کو دوسرے معنیٰ پہنا دیے ؛بلکہ ماضی بعید کے مسلم حکمرانوں کے حوالے سے تاریخی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے اکثریتی طبقے میں مسلم مخالف فضا پیدا کردی اور کانگریس کو مسلمانوں کی پارٹی کہہ کر ڈھول پیٹنا شروع کر دیا؛ تاکہ ملک کا اکثریتی طبقہ کانگریس سے بدظن ہوجائے اور ان کے پیچھے ہی کھڑا ہوا نظر آئے،اس مقصد کے حصول اور پولرائزیشن کے لیے جامعہ ملیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور مسلمانوں کے شادی بیاہ کے معاملات سے لے کر مدارسِ دینیہ کے بارے میں منصوبہ بند طریقے سے آئے دن وہ شوشے چھوڑے جاتے ہیں، جنھوں نے پروفیسر عرفان حبیب جیسے دانشور کو بھی ذہنی خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا، اس ذہنی خوف و ہراس کو دور کرنے اور ایک دانشور کی دل جوئی کے لیے راہل گاندھی کو کہنا پڑا کہ ’’ اب آپ لوگ یہ ڈر نکال دیجیے، اگر بی جے پی کہتی ہے کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے ،تو ہاں میں کہتاہوں کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے؛کیونکہ ملک کا مسلمان کمزور ہے اور اب وہ دوسرا دلت ہو گیا ہے، جب کہ کانگریس ہمیشہ کمزوروں کے ساتھ رہی ہے۔‘‘
اگر راہل گاندھی کے اس مختصر سے بیان یا گفتگو کا تجزیہ کیا جائے تو اسے ایک کنڈیشنل بیان کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا، راہل گاندھی نے لفظوں کو چبائے بغیر کھل کر کہا ہے کہ ’’ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی یہ کہتی ہے کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے تو ہاں میں کہتا ہوں کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے؛ کیونکہ ملک کا مسلمان کمزور ہے اور اب وہ دوسرا دلت ہو گیا ہے۔ ‘‘راہل گاندھی نے اگر کی شرط لگا کر اور مسلمان کے کمزور ہونے دلت بن جانے کی وکالت کر کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذمہ داروں سے بین السطور میںیہ سوال کیا ہے کہ تعلیمی، معاشی، سماجی پسماندگی اور تنزلی کی کگار پر کھڑی ہوئی ملک کی اس دوسری بڑی اکثریت کو آج نئے سیاسی منظر نامے میں کیا سیاسی اچھوت سمجھ لیا جائے؟ اوراس کے ساتھ کی جانے والی مسلسل نا انصافیوں کو شیرِ مادر سمجھ کر پی لیا جائے، ممکن ہے سیکولرازم اور جمہوریت کے علمبردار دنیا کے اس بڑے ملک میں وہ وقت بھی آجائے؛ لیکن ابھی سیکولرازم اور جمہوریت کی قدریں اور ان کے نام لیوا زندہ ہیں ؛اس لیے بد حال، کمزور طبقوں اور مسلمان جیسی اقلیت کے لیے کوئی نہ کوئی سیاسی پارٹی کانگریس کا رول ادا کرتی رہے گی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر کی آئے دن سمپرک سمرتھن ریلیوں اور انفرادی ملاقاتوں کی خبروں کی طرح ممکن ہے راہل گاندھی کی مسلم دانشوروں سے اس خصوصی ملاقات کی خبر بھی ایک عام اخباری خبر بن کر رہ جاتی؛ لیکن کارپوریٹ گھرانے کے اردو اخبار کے ایڈیٹر اور نامہ نگار نے اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل اور مخصوص سوچ و فکر رکھنے والے اپنے مالکان کو خوش کرنے کے لیے ایک سیدھے سادے سیاسی بیان کو ٹوئسٹ کرتے ہوئے جو چھ لفظی ہنگامہ خیز سرخی لگا کر خبر نگاری کے تمام اصولوں اور صحافتی ذمے داریوں کی دھجیاں اڑائی ہیں، وہ افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
ہمیں یہ کہنے میں کوئی تردد نہیں ہے کہ راہل گاندھی کا یہ سیدھا سادہ بیان دور رس نتائج کا حامل ہے ،جسے سیاسی مقاصد کے تحت ایک ہنگامہ خیز سرخی لگا کر دیدہ و دانستہ ٹوئسٹ کیا گیا ؛تاکہ کانگریس اور مسلمانوں کے تئیں ایک عام بد ظنی پھیلا کر پولرائزیشن کے ان نقوش کو جن پر وقت کی دھول جمنے لگی تھی، مدھم نہ پڑنے دیا جائے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*