ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

ڈاکٹر منور حسن کمال

نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنا اور انہیں حکومت کے نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ منصوبے سے جوڑنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، بلکہ ان کی ذمہ داری زیادہ ہے، جو رفاہی تنظیموں کے پرچم تلے مفادعامہ کے لےے کام کررہے ہیں۔ انہیں متحد ہوکر آگے بڑھنا چاہیے ، تاکہ قوم کا وہ بڑاطبقہ جو غریبی اور اعلیٰ تعلیم کے حصول میں آرہی پریشانیوں کے سبب بہت پیچھے رہ گیا ہے، آگے آئے۔
عام انتخابات ختم ہوگئے، این ڈی اے نے شان سے حکومت قائم کرلی اور حکومت نے کام کرنا بھی شروع کردیا ہے۔ لیکن سیاست کے بازی گر الزام در الزام کی گتھیوں کو مزید الجھائے رکھنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ عام انتخابات میں بہ شمول کانگریس سبھی پارٹیوں نے منھ کی کھائی ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ سیاسی میدان میں کب کیا چال چلنی ہے، ان میں اس کا فقدان رہا۔ یہ فقدان ابھی بھی مغربی بنگال کی سیاست میں آتش فشاں کی طرح پھوٹ رہا ہے۔این ڈی اے حکومت نے اپنی دوسری اننگ میں جن اہم مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، ان کو عام آدمی تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ اگر تمام سیاسی پارٹیاں اور رفاہی تنظیمیں یہ عہد کرلیں کہ حکومت نے جو مفادعامہ کے احکامات جاری کیے ہیں، ان کو عوام تک پہنچائیں اور ملک میں زندگی کے حاشیہ پر بیٹھے ہوئے آخری شخص کو اس کا فائدہ پہنچے تو دونوں کا بھلا ہوگا۔ خود بھی روشنی حاصل کریں اور دوسروں کے لیے بھی روشنی کا حصول آسان بنائیں۔قارئین کو یاد ہوگا کہ بی جے پی نے اس مرتبہ اپنا انتخابی منشور ’سنکلپ پتر‘ کے عنوان سے جاری کیا تھا۔ سنکلپ پتر کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس میں متنازع مسائل پر جو گفتگو ہورہی ہے،وہ ہوتی رہے گی لیکن سردست عوامی مفاد کے ایشوز پر گفتگو کرنی چاہیے ۔ اس میں کسان کریڈٹ کارڈ ہولڈروں کو پانچ سال کے لیے ایک لاکھ روپ تک کا قرض وہ بھی بغیر سود کے فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ کسان اور کمزور کسان تک یہ پیغام ضرور پہنچنا چاہیے اور جو لوگ کسانوں کے مسائل کے لیے آئے دن چوراہوں، کچہریوں اور سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ کسانوں کو اس کا فائدہ دلائیں۔ اگر بینک میں کچھ مسائل ہیں، انہیں دور کرائیں۔ اگر بینک منیجر کی سطح پر آسانی پیدا نہیں ہورہی ہے تو ایک وفد کی شکل میں ضلع مجسٹریٹ سے رابطہ کریں۔ یقین ہے کہ وہ ضرور ضرورت مند افراد کے مفاد میں آگے آئیں گے اور اس کا راست فائدہ کسانوں اور دوسرے شہریوں کو پہنچے گا۔دوسرے صنعت کاروں کو 50لاکھ روپے کا قرض دینے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ اس سے متوسط طبقہ کے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، اس کے لےے بھی علاقے کے سیاسی لیڈروں کا تعاون لینا چاہےے۔ یہی دو وعدے ایسے ہیں اگر مفادعامہ کی تنظیمیں اپنی ذاتی کوششوں سے انہیں عوام تک پہنچائیں تو ہندوستان کی نصف آبادی سے بھی زیادہ کے مسائل حل ہوجائیں گے۔ جہاں تک شہری، متوسط طبقہ اور اقلیتوں کے مسائل ہیں، ان کے مفاد کی جواسکیمیں ہیں، ان پر عمل آوری کو یقینی بنانے کا رفاہی تنظیمیں بیڑا اٹھالیں۔ ’سنکلپ پتر‘ کو مکمل پڑھیں اور اس میں جو اسکیمیں بیان کی گئی ہیں، وہ عوام تک پہنچائیں۔محض جھگڑوں اور تنازعات میں نہیں پڑنا چاہیے ۔ اس میں بہت الجھنیں ہیں اور کچھ حاصل بھی نہیں ہوتا۔ جو طبقہ تنازعات کا شکار ہے یا تنازعات میں الجھے رہنا چاہتا ہے، اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیں۔ اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا یہ بھی طریقہ ہے کہ حکومتی اسکیموں سے فائدہ اٹھایا جائے۔نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن(این ایس ڈی سی) حکومت کا اہم ادارہ ہے جس کی شاخیں اکثر بڑے شہروں میں موجود ہیں۔ اس ادارے کا مقصد نوجوانوں میں موجود کسی فن یا حرفت کو ابھارنے کی کوششیں کرنا ہے، جو اپنے محدود وسائل کے سبب یا ناواقفیت کی بنا پر ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے ہیں، بلکہ کہیں کہیں تو حاشیہ پر بیٹھے ہوئے ہیں،انہیں آگے لائیں۔ اس میں ایک بہت اہم شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی ہے، جس کا حصول عام طور پر بہت مشکل ہے۔ لیکن یہاں نوجوانوں کو تربیت دی جاتی ہے۔ دراصل ہندوستان میں ٹیلنٹ اور صلاحیت بھرپور ہے۔ یہاں ہنر میں مہارت حاصل کرکے اس کی جدیدکاری کے لےے زمانے کے مطابق تربیت کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت ہندوستان کی تقریباً 65فیصد آبادی 30سے 35برس کے درمیان ہے۔ ملک کی آبادی کا یہ سب سے بڑا حصہ اگر متحرک ہوجائے اور نئے زمانے کے ساتھ چلتے ہوئے اپنا سرگرم کردار ادا کرے تو قوم کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کو بہت بڑی افرادی قوت بھی حاصل ہوجائے گی، جس کی ملک کو ضرورت ہے۔ ایک تجزیہ کے مطابق ملک کو 2022تک کئی لاکھ ماہرین فن کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ ملک کی ترقی کے لےے کس قدر افرادی قوت درکار ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک کے نوجوانوں میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے۔ اسے ابھارنے کی ضرورت ہے، جو کسی وجہ سے ابھی سامنے نہیں آسکا ہے۔ ادھر عوام حکومت کے نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھارہے ہیں۔ خاص طور سے اقلیتیں یعنی مسلمان اس پروگرام میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ جب کہ حکومت اپنے اس منصوبے کے نفاذ کے لیے بہت سنجیدہ ہے اور اس منصوبے کے تحت ہر طرح کی ٹریننگ کے لیے پوری سنجیدگی سے کوشاں ہے۔ واضح رہے کہ اس منصوبے کے تحت طلبا کا کچھ خرچ نہیں ہوتا اور یہ بالکل مفت حاصل کیا جاتا ہے۔ ہنر سکھانے والی ایجنسیوں کو حکومت ادائیگی کرتی ہے۔ اس سے حکومت کا مقصد واضح ہوچکا ہے کہ نوجوان نسل کو ملک کی ترقی کی دوڑ میں شامل کرنا ہے، جس سے اس کے خود کے لیے بھی نئی راہیں کھلیں گی اور ملک کو اف رادی قوت حاصل ہوگی۔یاد رکھنا چاہےے کہ انسان کا ارادہ، جذبہ شوق اور توانائی عروج پر ہو تو پھر وہ اپنے لےے ہر مشکل کو آسان بنالیتا ہے۔ اس وقت قوم کو اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ جب اس جذبے اور عزائم کے ساتھ نوجوان آگے بڑھیں گے تو ان کا ہر قدم نئے پانیوں میں ہوگا۔ علامہ اقبال نے ایسے ہی موقع کے لیے کہا ہے:نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کشت ویراں سےذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی اسی لیے اس منصوبے کے تحت2022تک 40کروڑ نوجوانوں کو مختلف منصوبوں سے جوڑ کر انہیں ہنرمند بنانا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ اس منصوبے سے ان نوجوانوں کو زیادہ فائدہ ہوگا جو غریبی اور مفلسی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کرسکے۔ اس سے ان کے اندر پوشیدہ ہنر سامنے آئے گا۔ حکومت کے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانا مشکل ضرور نظر آتا ہے، لیکن ناممکن نہیں ہے۔ اس منصوبے میں حکومت کی جانب سے کئی طرح کی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس سے وہ ہر اس نوجوان کے لیے فائد مند ثابت ہو، جو تعلیم میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ اس معاملے میں اقلیتوں کے نوجوان بہت پیچھے ہیں۔ انہیں آگے آنے کی ضرورت ہے، جس سے انہیں روزگار کے نئے مواقع حاصل ہوسکیں۔نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنا اور انہیں حکومت کے نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ منصوبے سے جوڑنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، بلکہ ان کی ذمہ داری زیادہ ہے، جو رفاہی تنظیموں کے پرچم تلے مفادعامہ کے لیے کام کررہے ہیں۔ انہیں متحد ہوکر آگے بڑھنا چاہیے ، تاکہ قوم کا وہ بڑاطبقہ جو غریبی اور اعلیٰ تعلیم کے حصول میں آرہی پریشانیوں کے سبب بہت پیچھے رہ گیا ہے، آگے آئے۔ رفاہی تنظیمیں صرف تقریر و تحریر اور احتجاج و مظاہرے کرکے اپنے فرض سے دامن نہیں چھڑا سکتیں۔