ذاتی روزگارکوروزگارنہیں مانیں گے کیا، ڈیڑھ گھنٹے تک لوک سبھا میں مودی کا خطاب

’ڈرامہ بند کرو، جھوٹے وعدے اورفرضی بھاشن بندکرو، اوردھمکانابند کرو‘‘کی ایوان میں گونج
نئی دہلی، 07 فروری(قندیل نیوز)
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو صدر کے خطاب پر پارلیمنٹ میں ایک تفصیلی تقریرکی۔ لوک سبھا میں پی ایم مودی کے بیان سے پہلے ہی اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے نعرے بازی شروع کردی۔پی ایم مودی کے کھڑے ہونے پربھی شورکم نہیں ہوااورحزب اختلاف کے ارکان نے ہاؤس میں جم کر نعرے بازی کی۔پی ایم مودی کے بیان کے دوران ایوان میں بی جے پی کی اتحادی ٹی ڈی پی کے ایم پی بھی نعرے بازی کرتے رہے۔ اس دوران ’ڈرامہ بند کرو‘،’ جھوٹے وعدے بندکرو‘، اوردھمکانابند کرو‘جیسے نعرے بازی کرتے رہے۔یہاں تک کہ جملے بازی بندکروجیسے نعرے بھی گونجتے رہے اور ساتھ ہی جھوٹابھاشن بندکرواورمیچ فکسنگ بندکروجیسے نعرے بھی گونجتے رہے ۔اس درمیان انہوں نے اپوزیشن پرحملے توجاری رکھے لیکن امت شاہ کے بیٹے پربدعنوانی کے سنگین الزامات،رافیل سودے جیسے اہم سوالوں پرکچھ کہناشایدمناسب نہیں سمجھا۔پی ایم مودی نے بے روزگاری کے نعرے کے درمیان کہاکہ آپ روزگار کا اعدادوشمارکیوں نہیں دے رہے ہیں۔وزیراعظم نے یہ بھی پوچھا کہ ذاتی روزگارکوروزگارنہیں مانیں گے کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہماری حکومت نے ضمانت کے بغیر 10کروڑلون دیئے گئے اوردرمیان میں کوئی ایجنٹ نہیں آیا۔انہوں نے کہاہے کہ غیر بی جے پی والی ریاستوں میں ایک کروڑ سے زائد لوگوں کو روزگارملاہے، کیا آپ اس کو بھی جھوٹا کہیں گے؟،ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش مت کیجئے۔وزیر اعظم نے این پی اے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ کانگریس کی پالیسیوں کا نتیجہ تھا اور ہماری حکومت نے اسے ختم کرنے کے لئے اقدامات کئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ این پی اے پر کانگریس کے گناہ کو جاننے کے باوجود میں خاموش تھا لیکن ملک سب کچھ جانتا ہے۔مودی نے کہا کہ آزادی کے 70 سال بعد بھی کسانوں کی حالت ٹھیک نہیں ہے اور کسانوں کے نام پر خوب سیاست ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے فصل کو برباد ہونے سے بچانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔کانگریس 21 ویں صدی کا خواب دکھاتی تھی لیکن انہوں نے ایک ہوا بازی پالیسی تک نہیں بنائی، تو کیا یہ بیل گاڑی والی 21 ویں صدی چاہتے تھے۔1980 میں 21 ویں صدی کی بات کرنا منظور تھا لیکن اگر مودی 2018 میں آزادی کو ہو رہے 75 سال بعد 2022 کی بات کرتا ہے تو آپ کو تکلیف ہو رہی ہے۔آپ کی طرف سے یہ تشویش تھی کہ مودی حکومت آدھار کو ختم کردے گی، جب آدھار اچھے طریقے سے لاگو ہو گیا، غریب کو اس کا فائدہ ملنے لگا، تو آپ کو یہ خراب لگنے لگا۔بزرگوں ،معذوروں اورپریشان خواتین کی پنشن سالوں تک ایجنٹوں کی جیب میں جارہی تھی۔ آپ کو ڈی بی ٹی سے پریشانی ہے، کیونکہ جو روزگارگیاہے وہ بچولیوں کاگیاہے۔آپ کی ایک غلط پالیسی کی وجہ سے ملک کو آج کروڑوں روپے کا بانس درآمد کرنا پڑتا ہے، ہماری بانس پالیسی سے ملک کے کسان کی آمدنی بڑھے گی۔مودی نے کانگریس پر الزام لگایا ہے کہ آپ نے ہندوستان کے ٹکڑے کردئے،پھر بھی ملک آپ کے ساتھ رہا، جمہوریت میں حکومت آتی جاتی رہتی ہے، ملک بنارہتا ہے۔مودی نے کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ پنچایت سے پارلیمنٹ تک آپ کاجھنڈا تھا لیکن آپ نے پورا وقت ایک خاندان کے گیت گانے میں گزار دیا۔ مودی نے کہا کہ آپ نے ذمہ داری کے ساتھ کام کیا ہوتا تو اس ملک کی عوام میں یہ قابلیت تھی کہ یہ ملک آج جہاں ہے اس سے کئی گنا آگے ہوتا۔ مودی نے کہا کہ کانگریس ہمیں جمہوریت کا سبق نہ پڑھائے، راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کرکے کابینہ کا بل پھاڑدیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور نہرو نے ملک میں جمہوریت نہیں دیاہے۔مودی نے کہا کہ اس ملک میں 90 سے زائد بارسیکشن 356 کا استعمال کرتے ہوئے آپ نے ریاستی حکومتوں اور ریاستی پارٹیوں کواکھاڑکر پھینک دیا، آپ کونسی جمہوریت کی بات کرتے ہیں؟۔ مودی نے کہا کہ راجستھان میں باڑ میر ریفائنری کا سنگ بنیاد صرف کاغذوں پر تھا، زمین پر کچھ نہیں تھا، انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے پتھر کو جڑ دیا گیا تھا، جس کو ہمیں پورا کرنا پڑا۔پی ایم نے کہا کہ کانگریس نے آندھرا پردیش کو نظر انداز کرکے تلنگانہ بنا دیا ،آندھرا پردیش کی تقسیم کے لیے ریاست کے بارے میں نہیں سوچا گیا اور سیاسی وجہ سے تلنگانہ بنا دیا گیا، جہاں آج بھی مسائل جاری ہیں۔کانگریس کے سبب ہندوستان کوتقسیم کیا گیا اور آزادی کے 70 سال بعد بھی اس گناہ کی سزا سوا سو کروڑ ہندوستانی جھیل رہے ہیں۔پی ایم نے کہا کہ سردارپٹیل پر ناانصافی کی گئی، اگر ملک سب سے پہلے پی ایم پٹیل ہوتے توپورا کشمیر ہماراہوتا۔مودی نے ٹی ڈی پی ممبران پارلیمنٹ کی نعرے بازی کے درمیان یہ بھی کہا کہ این ٹی راما راؤ کے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے راجیوگاندھی نے ان کی توہین کی،جس کے بعد ٹی ڈی پی کا قیام ہوا۔وہیں کافی دیر تک مزاحمت اور نعرے بازی بند ہونے کے بعد پی ایم مودی نے یہ بھی کہا کہ میری آواز دبانے کی کوشش ناکام ہوگی۔اس دوران انہوں نے نعرے بازی کر رہے ممبران پارلیمنٹ سے بھی اپیل کی کہ ’’ارے کچھ تو کم کرو‘‘۔وزیراعظم مودی نے اپنی تقریر کو حزب اختلاف کے ہنگامے کے دوران اپنی حکومت کی کامیابیوں کو شمار کرانانہیں بھولے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ان کی حکومت عوامی لبھاؤکے فیصلے کرنے کے بجائے معیشت کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کے لئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے حکومت کے کام کرنے کاطریقہ بدلاہے، ہم نے منصونے شروع کراکے صرف اخباروں میں فوٹونہیں لگوالی بلکہ منصوبوں کو وقت پر بھی شروع کر دیا ہے، پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں، ہم نے سڑک کی تعمیر کا کام تیز کیا،ہمارے دور میں دیہی علاقوں میں آپٹیکل فائبر سے جوڑاگیا۔
سال 2011۔2014 کے دوران کانگریس کی حکومت صرف پانچ پنچائت کو آپٹیکل فائبر کے ساتھ جوڑ سکی، لیکن گزشتہ تین سالوں میں ہم نے ایک لاکھ سے زائد گاؤں کوآپٹیکل فائبر نیٹ ورک سے جوڑاہے۔پردھان منتری یوجناآج4000 سے زائد شہروں میں نافذ ہو گیا ہے،ہم نے ملک کے ساتھ شمال مشرق کوجوڑنے کے لئے بہت سے منصوبوں کو شروع کیا۔حکومت نے سب سے طویل سرنگ، سب سے طویل تیل پائپ لائن، سب سے تیزی سے ٹرین، اور ملک بھر میں 400 سیٹ لائٹ شروع کرنے کا کام کیا ہے، ہم بروقت تمام منصوبوں کو مکمل کرنے کوبھی یقینی بنارہے ہیں۔900 جہاز کے حکم ہندوستان سے گئے۔ منگل کو کانگریس لیڈر ملکاارجن کھڑگے نے حکومت پر حملہ کیا جس میں مشہورشاعرڈاکٹر بشیر بدرکے شیرسے حکومت پرحملہ کیا تھا۔ وزیراعظم مودی نے بدھ کوبشیر بدرکے ہی شیرسے کانگریس کو جواب دیا۔ملکاارجن کھڑگے نے اپنی تقریر میں بشیر بدر کا شعر کہا تھا’’دشمنی جل کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے،جب کبھی ہم دوست ہوجائیں توشرمندہ نہ ہوجائیں‘‘۔جواب میں وزیراعظم مودی نے ڈاکٹر بدر کے اس شعر کو پڑھا ’’جی بہت چاہتاہے سچ بولیں،کیاکریں حوصلہ نہیں ہوتا‘‘۔