دیوبند مگر سینۂ گیتی پہ ہے جب تک

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 10

فضیل احمد ناصری

جس نام سے طاغوت ہوا صورتِ اسپند
اس کو ہی زمانےمیں کہاجاتا ہےدیوبند

اس باغ کا ہر پھول ہے خوشبو کا مبلغ
اس بزم کا ہر رکن ہے خورشیدِ خداوند

رودادِ چمن آج بھی دیتی ہے گواہی
ہر ذرۂ دیوبند ہے اسلام کا پابند

تاریخ نے اک وادئ ایمن اسے سمجھا
فاراں نے بھی جانا اسے تقدیس کا اَلْوَنْد

اس کاخِ فقیری نے زمانے کو بتایا
کس شان کے ہوتے ہیں براہیمؑ کے فرزند

اس خاک کا سینہ بھی مدینے کی طرح ہے
اس پاک فضا میں نہیں موجود کوئی گند

طوفان میں یہ اور بھی ہو جاتا ہے محکم
ہوتی ہے چمک اور بھی حالات میں دوچند

حق بولنے والے ہوئے ماضی کے فسانے
اب زہرِ ہلاہل کو بتاتے ہیں سبھی قند

دیوبند مگر سینۂ گیتی پہ ہے جب تک
ہوگا نہ کبھی ہند میں توحید کا در بند

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*