دیوبندیت یا شریعت؟

عامرمنظورقاسمی
ان دنوں سوشل میڈیا پر دارالعلوم وقف ،دیوبند کی طرف سے حضرت مولانا محمدسالم صاحب قاسمی نور اللہ مرقدہ پر مجوزہ سمینار کے حوالے سے حضرت مفتی سعید احمدپالن پوری صاحب زید مجدہ کی ایک تحریر گردش کر رہی ہے، جس میں انھوں نے مذکورہ سمینار میں شرکت کرنے سے یہ کہتے ہوئے معذرت کردی کہ ایسا کرنا دیوبندیت کے خلاف ہے ،اس میں شبہ نہیں کہ مفتی صاحب کا شمار بر صغیر میں صف اول کے علما میں ہوتا ہے، وہ اپنی دقت نظر، علمی رسوخ اور علومِ شرعیہ میں مہارت کی وجہ سے طلبہ اور علماکے مابین کافی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، تاہم کچھ مخصوص مسائل میں وہ انفرادی رائے رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وقتا فوقتا سرخیوں میں آتے رہتے ہیں۔اہلِ نظر جانتے ہیں کہ اجتہادی مسائل میں اختلاف رائے ہونا ایک فطری بات ہے، جس سے کوئی مفر نہیں، ائمۂ مجتہدین کے درمیان بے شمار مسائل میں اختلاف رائے پایا جاتاہے؛ لیکن یہ اختلاف دلائل کی بنیاد پر تھا اور فکر ونظر کے زاویے کا فرق تھا، جس کا مقصد منشاے شریعت کی تہہ تک پہنچنا تھا؛ اس لیے اس اختلاف سے کبھی بھی اہلِ علم میں تشویش کی کیفیت نہیں پیدا ہوئی اور نا ہی یہ امت میں افتراق وانتشار کا سبب بنا ؛لیکن مفتی صاحب نے سمینار کے انعقاد پر جس انداز سے اعتراض کیا ہے ،اس نے خود دیوبندی علماکو دو دھڑوں میں تقسیم کردیا ہے، کچھ علما ان کی تائید کررہے ہیں، جبکہ بیشتر علما ان کی مخالفت کر رہے ہیں، مفتی صاحب نے سمینار کا مفہوم ایک لغت کی کتاب کے حوالے سے طے کیا ہے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی لفظ کا مفہوم صرف لغت سے طے نہیں ہوتا ؛بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس جگہ اس لفظ کا مروجہ مطلب کیا ہے؟اس وقت پوری دنیا میں کسی شخصیت پر سمینار کا مطلب یہ ہوتاہے کہ اس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم وفن جمع ہوں گے اور اس شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر علمی مقالے پیش کریں گے، اس کا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مرنے والے کی شخصیت کے بہت سے ایسے پہلو سامنے آتے ہیں ،جو لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہوتے ہیں، اس سے سامعین کے اندر کچھ کرنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے اور وہ مرحوم کی زندگی سے عبرت حاصل کرتے ہیں، اس لحاظ سے یہ حدیثِ نبوی’’ اذکروا محاسن موتاکم ‘‘کی بہترین تعبیر ہے؛ لیکن مفتی صاحب نے پتہ نہیں کیوں اسے نوحہ خوانی کی مجلس سے تعبیر کردیا؟یقیناًسمینار کی یہ تشریح عقل و فہم سے بعید تر ہے۔
انھوں نے اپنے اس نظریے کو دیوبندیت کا ترجمان بھی بتایا ہے، جبکہ خود دیوبند کی تاریخی روایت اس کے خلاف ہے، اس سے پہلے علماے دیوبند کی جانب سے مولانا حسین احمد مدنی، علامہ انور شاہ کشمیر ی،علامہ شبیر احمد عثمانی پر عظیم الشان سمینار منعقد ہو چکے ہیں، ماضی قریب میں مولانا اسعد مدنی پر وقیع سمینار ہواتھا، جس میں خود مفتی صاحب بھی شریک تھے،سوال یہ ہے کہ کیا یہ سارے سمینار مسلکِ بریلویت کے تحت منعقد کئے گئے تھے یا دیوبندی فکر کو عام کرنے کے لیے منعقد کیے گئے تھے؟ایک اہم بات اس سلسلے میں یہ بھی ہے کہ مفتی صاحب پوری ملت کے دینی پیشوا اور مقتدا ہیں؛ لہذا ان کو مکمل اسلام کا ترجمان اور مبلغ ہونا چاہیے نہ کہ صرف دیوبندیت کا،دیوبندیت کی اصطلاح سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ یہ بھی کوئی فرقہ ہے ،ہماری پہچان اسلام اور مسلمان سے ہونی چاہیے، جو ایک ہمہ گیر تعبیر ہے، نہ کہ کسی فرقہ اور گروہ سے، اللہ نے ہم کو امت بنا کر بھیجا ہے؛ لہذا ہمیں خود کو کسی فرقے میں محصور نہیں کرنا چاہیے۔
اسی طرح مفتی صاحب نے سمینار میں عدم شرکت کی ایک وجہ ویڈیو گرافی کو بتایاہے، جس کو وہ حرام عمل سمجھتے ہیں اور اسے تمام دارالافتاؤں کا فتوی قرار دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے، بر صغیر کو چھوڑ کر پوری دنیا کے علما اور اربابِ افتا دعوتی مقاصد کے پیش نظر اس کو جائز سمجھتے ہیں، خود بر صغیر کے اکثر علما ڈیجیٹل تصویر کو دعوتی ضرورت کے پیش نظر جائز قرار دیتے ہیں، مفتی محمدتقی عثمانی اورمولانا خالد سیف اللہ رحمانی وغیرھما کی یہی رائے ہے،خود مفتی صاحب مدظلہ جب امریکہ اور برطانیہ جاتے ہیں، تو اپنے بیانات کی ویڈیو بنواتے ہیں،یوٹیوب پر ان کی بیسیوں کلپس موجود ہیں، میں نے خودان کی کئی ویڈیوز دیکھی ہیں،سوال یہ ہے کہ جو ویڈیوگرافی ہندوستان میں حرام ہے، وہ امریکہ میں کیوں کر حلال ہوجاتی ہے؟اسی مسئلے پر انھوں نے بنگلور میں کچھ دن پہلے کافی ہنگامہ بھی کیا تھا؛ لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ حرمت ہندوستان تک محدود ہے،یقیناًیہ متضادرویہ مفتی صاحب کی ہمالیائی شخصیت کے منافی ہے، شریعت نے حالات کے تحت اجتہادی مسائل میں کافی لچک رکھی ہے، جس کا فائدہ دنیا بھر کے علما اٹھا رہے ہیں اور مختلف میدانوں میں اشاعتِ دین کا فریضہ غیر معمولی پیمانے پر انجام دے رہے ہیں؛ لیکن ہم ابھی تک فقہی موشگافیوں میں الجھے ہوئے ہیں، اسلام ایک متوازن اور معتدل مذہب ہے اور ہمیں اپنے فتاوی میں اس کا لحاظ ضرور کرنا چاہیے!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*