Home تجزیہ دین بچاؤدیش بچاؤ کانفرنس:بحث کے چند پہلو

دین بچاؤدیش بچاؤ کانفرنس:بحث کے چند پہلو

by قندیل

نورالسلام ندوی،پٹنہ
دین بچاؤدیش بچاؤکانفرنس اللہ کے فضل سے بے حد کامیاب،امید افزا اور دوررس اثرات کی حامل رہی۔آزادی کے بعد پہلی بار بہار کی تاریخ میں پٹنہ کے گاندھی میدان میں مسلمانوں کا اتنا زبردست مجمع اکٹھا ہوا،سخت موسم،کڑی دھوپ،اور مختلف قسم کی پریشانیاں جھیلنے کے باوجود فرزندان توحید کا گاندھی میدان میں کھلے آسمان کے نیچے شروع سے آخر تک جمے رہنا ان کی ایمانی حمیت،دینی محبت،اسلامی غیرت اور شریعت پر مر مٹنے کے جذبات کا مظہر تھا۔گاندھی میدان بڑی بڑی سیاسی پارٹیوں کی ریلیوں اور اجلاسوں کا گواہ رہاہے۔ لیکن اتنے بڑے مجمع کا پہلی بار گاندھی میدان گواہ بنا ہے۔ یہ کانفرنس بہار کی تاریخ کا ایک نیا باب ہے۔
کانفرنس نظم وضبط، صبر واحتیاط اور ڈسپلن کے حوالہ سے بھی بڑی یادگار مانی جائے گی،بعض لوگ کانفرنس کے غیر متعلق موضوع پر بحث ومباحثہ کرتے نظر آرہے ہیں،کیا ہی بہتر ہوتا کہ ہم کانفرنس کی بحث کو ان موضوعات کا حصہ بناتے اور اس پہلو سے بھی سوچتے اور ملک وملت کو یہ بتاتے کہ:
(1)امارت شرعیہ کی ایک آواز پر بہار،اڑیسہ وجھارکھنڈ اور ملک کے مختلف حصوں سے اتنی بڑی تعداد میں فرزندان توحید جمع ہوئے کہ گاندھی میدان اپنی وسعت کے باوجود تنگ پڑ گیا۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمانوں کے اندر ابھی دین وشریعت پر مر مٹنے کا جذبہ باقی ہے،ایمانی حلاوت سے سرشار ہیں،اسلامی حرارت ان میں باقی ہے اور امیر کی اطاعت کا جذبہ کار فرما ہے۔اللہ اس حوصلہ کو سلامت رکھے۔
(2)اتنی بڑی بھیڑ کے باوجود کہیں کسی طرح کی کوئی بد امنی نہیں پھیلی،کوئی نا گفتہ بہ واقعہ پیش نہیں آیا،کسی بھی سرکاری املاک کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا،شرکاے کانفرنس نظم وضبط کے ساتھ رہے،صبر واحتیاط سے کام لیا،ڈسپلن (Discipline)کا مظاہرہ کیا، یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ بھارت کا مسلمان امن پسند،محبت پسند اوراصول پسند ہے۔
(3)کانفرنس میں لوگ بڑی تعدا میں ہاتھوں میں ترنگا لئے اور لہراتے ہوئے نظر آئے۔ترنگا کے علاوہ کوئی دوسرا جھنڈا کہیں نظر نہیں آیا،جبکہ اکثر اس طرح کی بڑی ریلیوں میں لوگ اپنی اپنی پارٹیوں یا بھگوا جھنڈا لئے نظر آتے ہیں، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بھارت کا مسلمان وطن دوست اور وطن پر مر مٹنے والا ہے،اسے ہر حال میں اپنا ترنگا جھنڈا محبوب ہے۔
(4)کانفرنس میں صرف دین وشریعت اور مسلمانوں کی ہی بات نہیں ہوئی؛ بلکہ ملک کے کمزور اور مظلوم طبقے کو شامل کر کے ان کے حق کی بھی آواز بلند کی گئی اور ان کو اپنے ساتھ لے کر چلنے پر زور دیا گیا، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمان صرف اپنی ہی فکر نہیں کرتا؛ بلکہ وہ تمام کمزوروں اور مظلوموں کے حقوق وانصاف کی بات کرتا ہے۔خواہ وہ کسی بھی دھرم اور ذات سے تعلق رکھتا ہو۔
(5)اس کانفرنس نے مسلمانوں کے اتحاد واجتماعیت کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ دشمنوں کے ایوانوں میں بھونچال آنے لگا ہے،جو مسلمانوں کی طاقت واہمیت کو تسلیم نہیں کرتے تھے ،وہ بھی مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا لوہا ماننے لگے ہیں۔
(6)دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس کے موقع پر شہر عظیم آباد والوں نے مہمان نوازی کا اعلی نمونہ پیش کیا،پورے شہر میں جگہ جگہ شاہراہوں پر،چوراہوں پر، گلیوں میں،مسجدوں میں،مدرسوں میں،ہاسٹلوں، لاجوں اور نہ معلوم کہاں کہاں کھانے پینے کا عمدہ نظم کیا گیا۔شہر کے بڑے اور معزز لوگ سڑکوں پر کھڑے مہمانوں کو پانی پلاتے،ستو پلاتے،شربت پلاتے،کھجور اور خر بوزہ وتربوز کھلاتے نظر آئے۔لاکھوں کا مجمع اور الحمد للہ کسی کو کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی،دوسرے لوگ پٹنہ والوں کی مہمان نوازی کو دیکھ کر عش عش کر رہے تھے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک مسلمان خود تو بھوکا رہ سکتا ہے،پیاسا رہ سکتا ہے،پریشانی جھیل سکتا ہے؛ لیکن اپنے مہمان کی عزت اور خاطر تواضع میں کوئی کمی نہیں کر سکتا ،پاٹلی پترا کی دھرتی کا یہ اعلی اخلاق بھی نا قابل فراموش رہے گا۔
یہ چند اہم پہلو ہیں جن کو ہم موضوع بنا کر اس کانفرنس کے اثرات واہمیت کو بیان کرسکتے ہیں،ان نکات پر بات کرنے سے،دوسروں کو بتانے سے اور ان کو پھیلانے سے کانفرنس کے مثبت پیغام کومزید عام کرسکتے ہیں۔غیر ضروری اور غیر متعلق پہلوں پر بحث کر کے اس کے اثرات کو کمزور نہ پڑنے دیں۔غیر یہی چاہتے ہیں کہ ہم آپس میں الجھ جائیں،آپس میں دست وگریباں ہوجائیں،ہماری مجتمع قوت منتشر ہوجائے اور کانفرنس کی اہمیت کم ہوجائے؛اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس کے مثبت پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کریں، بجاے اس کے کہ ہم معمولی باتوں اور حقیر چیزوں کو اپنے گفتگو اور تبصرہ کا حصہ بنائیں۔

You may also like

Leave a Comment