دیش بھکتوں کا حقیقی چہرہ

شکیل رشید (ایڈیٹرروزنامہ ممبئی اردونیوز)
’دیش بھکتی ‘یہاں ’بِکتی‘بھی ہے اورلوگ اس سے ’فائدہ‘ بھی اٹھاتے ہیں!جی ہاں،اورجس’دیش بھکتی ‘کی با ت ہو رہی ہے وہ بی جے پی برانڈہے۔اسے سنگھ یعنی آرایس ایس برانڈ بھی کہا جاسکتا ہے اورزعفرانی،بھگوا ،یایرقانی برانڈ بھی۔جب ملک کی سلامتی اورتحفظ کے لیے بات کرنا ہوتی ہے تومذکورہ برانڈکے’دیش بھکت‘بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے ہیں،یوں لگتا ہے جیسے کہ بس ابھی اٹھیں گے اوردشمن یادشمنوں کے سرقلم کرکے پردھان سیوک یعنی وزیر اعظم نریندرمودی کے قدموں میں لاکر ڈھیرکر دیں گے۔پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعدایسے ’دیش بھکتوں‘کی زبانیں اتنی دراز ہو گئی ہیں کہ ان افرودکو‘جو پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے حوالے سے انٹلی جنس کی ناکامی پر سوال کر رہے ہیں ،یا جو بی جے پی ،مرکزی سرکار یانریندرمودی کی’راہ ‘سے ہٹ کرپلوامہ دہشت گردانہ حملے کو ’کشمیریوں کی مخالفت‘کاآلہ نہیں بنا رہےہیں،باقاعدہ ’غدار‘یا’ملک دشمن‘قرار دیا جارہاہے۔تین ایسے صحافیوں کوجنہوں نے پلوامہ حملے کے سلسلے میں انٹلی جنس کی ناکامی پر سوال کھڑے کیے ہیں اورجن کا یہ ماننا ہے کہ کشمیرپولس کی طرف سے ممکنہ حملے کے انتباہ کے باوجود سخت ترین حفاظتی اقدامات کانہ کیاجانا حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہے،’غدارِ وطن‘توکہا ہی جارہا ہے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔یہ ہیں برکھادت،ابھیسارشرمااوررویش کمار۔سواتی چترویدی اوررعنا ایوب بھی ان بھگوا برانڈ دیش بھکتوں کے نشانے پر ہیں۔فلم اداکارانوپم کھیر بھی اسی طرح کے ایک ’دیش بھکت‘ہیں۔انہوں نے ان صحافیوں پر جو انٹلی جنس کی ناکامی پر سوال اٹھارہے ہیں سخت نکتہ چینی کی ہے ۔ان کاکہناہے کہ ’یہ ہم جیسے غمزدہ لوگوں کی توجہ بھٹکانے کی کوشش ہے‘!وہ بھی دوسرے بھگوا برانڈدیش بھکتوں کی طرح’انتقام‘اور’بدلے‘کانعرہ لگا رہے ہیں۔ان کے منہ سے ’کشمیر ہماراہے‘تونکلتا ہے مگریہ ’کشمیریوں‘کو’غیر‘سمجھتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ یہ کس سے’انتقام ‘چاہتے ہیں؟اگرپاکستان سے توانہیں کس نے روک رکھاہے؟لیکن اس ملک میں ہو یہ رہا ہے کہ پاکستان کو توایک کھرونچ تک نہیں لگائی گئی ہے ان کی جگہ ’کشمیریوں‘کو نشانہ بنالیاگیاہے۔ملک بھرمیں بالخصوص ہریانہ،اتراکھنڈ،مہاراشٹر وغیرہ میں کشمیریوں کی پٹائی کی جارہی ہے۔دہرہ دون کے تعلیمی اداروں نے توکشمیری طلباء کو نکال باہر کیا ہے اور یہ اعلان کردیا ہے کہ اب وہ اپنے یہاں کسی کشمیری کو داخلہ نہیں دے گے…..بھلاکیوں؟کیاکشمیری اس ملک کے شہری یا ہندوستانی نہیں ہیں؟کیا کشمیری کوئی پاکستانی ہیں؟بغیرسوچے سمجھے باتیں کرنے والے یہ سب بشمول انوپم کھیر دیش بھکت ہیں۔نفرت کی باتیں کرکے مودی اوربی جے پی سے فائدے اٹھانے والے…. اوریہ بدعنوانی ہی توہے !انوپم کھیرکی دھرم پتنی کرن کھیر بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ ہیں،ظاہر ہے کہ مودی کی قربت اورقربت کے بعدفائدہ اٹھانے کے لیے کھیرصاحب یہ سب کر رہے ہیں۔سنگھی برانڈکے ایک دیش بھکت میگھالیہ کے گورنر تتھاگت رائے کی بھی بات کرلیتے ہیں۔انہوں نے توکشمیر اورکشمیریوں کے ’بائیکاٹ‘تک کی بات کر دی ہے!ان کی مانی جائے تومسئلہ کشمیر کاواحد حل کشمیر کابائیکاٹ ہے ،نہ کوئی کشمیر جائے اورنہ ہی کشمیری مال خریدے!گورنر کی ایک آئینی حیثیت ہو تی ہے لیکن یہ ایسے گورنر ہیں جواس ملک کی جمہوری قدروں اورآئینی تحفظات سب کو نظرانداز کرکے کشمیر کے بائیکاٹ پر تلے ہیں!لگتا ہے کہ یہ اپنی گورنری کی معیاد بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔’دیش بھکتوں‘کاایک اورگروہ سامنے آیاہے،یہ وہ فلمی اداکارہیں جو بی جے پی اورمودی کی گاتے رہتے ہیں،اس کے باوجود ان کے پرچار کےلیے روپئے لینے کو تیارہیں،وہ بھی نقد،یعنی کالادھن!ان میں وویک اوبیرائے ہیں،مہیماچودھری ہیں،راکھی ساونت ہیں،سونوسودہیں،امیشاپٹیل ہیں،کوئی ۳۶فلمی ستارے ہیںجو’دیش بھکتی‘میں سرتاپا غرق ہیں لیکن’بکنے ‘کو تیاربھی ہیں۔یہ ہے سنگھی برانڈدیش بھکتوں کاحقیقی چہرہ!