دیال سنگھ کالج میں عالمی یوم مادری زبان کی مناسبت سے سمینارکاانعقاد

نئی دہلی:دیال سنگھ کا لج (شبینہ) میں بین الاقوامی یوم مادری زبان کے موقع پر ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت صدر شعبہ اردو دہلی یو نی ورسٹی کے پروفیسر ارتضی کریم نے کی اور نظامت ڈاکٹر سنجیو کمار نے ۔پروفیسر ارتضی کریم نے صدارتی خظبہ میں مادری زبان پر کافی تفصیل سے بات کی اور کہا کہ شخصیت کی تعمیر میں مادری زبان کا کلیدی رول ہوتا ہے اس کے علاوہ انھوں نے مزید کہا کہ ساری زبانوں کا مقصد ایک دوسرے کو جوڑنا ہے اس لئے بچوں میں مادری زبان کی تعلیم بیحد ضروری ہے ۔ڈاکٹر ساجد حسین نے مادری زبان کی خوبیوں پر بات کرتے ہوے کہا کہ مادری زبان سے ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی ہے اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ سرکار ی اسکولوں میں پانچویں تک بچوں کی تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہیے تاکہ ان میں تہذیب و ثقافت باقی رہے۔ اس موقع پر ماریشش سے آئی ہوئیں مہمان آبیناز جان علی کا استقبال کیا گیا انھوں نے ماریشش کی زبان کی تایخ پر بات کی اور کہا کہ ہندی، اردو، تمل یہ سب ہمارے یہا ں تہذیبی زبان ہے اس موقع پرارتضی کریم کے ہاتھوں ان کا افسانوی مجموعہ ’’پیچ وخم‘ کا بھی اجرا ہوا ۔ ڈاکٹر تھاپر نے کہا کہ مادری زبان سے دلچسپی رکھنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ساتھ فروغ دینے کی بھی سخت ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر اماں دیوی نے کہا کہ ماں سے سکھنا ہی مادری زبان کہلاتا ہے اس کے علاوہ تمل زبان کی تاریخ پر بھی گفتگو کرتے ہوے تمل میں شاعری سنائیں ۔ دیا سنگھ چنداں نے مادری زبان کے تعلق سے پنجابی میں شاعری سنائیں۔ کالج کے پرنسپل پون کمار شرما نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگلے سال اس موقع پر اور بڑا سیمنار کا اہتمام کیا جائیے گا اس کے علاوہ اساتذہ میں ڈاکٹر ابو ظہیر ربانی ،ڈاکٹر شاہنوار، ریسرچ اسکالر میں شاہد اقبال کے علاوہ کثیر تعداد میں طلبہ موجود تھے۔