دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرہ پابندی کے معاملے میں سپریم کورٹ کا جواب طلب

نئی دہلی،22؍جنوری (قندیل نیوز)
دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا اور مظاہرہ پر پابندی کے معاملے میں سپریم کورٹ نے دہلی پولیس، این ڈی ایم سی سے دو ہفتے میں جواب مانگا ہے۔ دراصل پنجاب سے آئی ایک جنستی استحصال کی شکارایک لڑکی نے الزام لگایا گیا ہے کہ رام لیلا میدان میں مظاہرہ کے لئے 1 لاکھ 20 ہزار روپے کرایہ مانگا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ رام لیلا میدان میں پارلیمنٹ سے کافی دور ہے اور مظاہرہ اور دھرنے پر بیٹھنا بنیادی حق ہے۔واضح رہے کہ آلودگی کی وجہ سے این جی ٹی نے جنتر منتر پر دھرنا مظاہرہ کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔اس سے پہلے چار دسمبر کو ایسی ہی درخواست پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ لوگوں کے پرامن دھرنا مظاہرہ کے بنیادی حق اور قانون نظام کو برقرار رکھنے کے درمیان توازن ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس سے نوٹس جاری کرکے جواب مانگا تھا۔کورٹ نے کہا تھا کہ دھرنے کو کنٹرول کرنے کے لئے گائڈ لائن کے لئے سفارشات مرکزی حکومت اور پولیس کورٹ میں داخل کرے۔کورٹ نے ٹریفک سے متعلق ایجنسیوں سے بھی مظاہرہ کے وقت ٹریفک نظام برقرار رکھنے کے لئے گائڈلائن اور سفارشات مانگی تھی۔مزدور کسان تنظیم نے بھی سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے مرکزی دہلی میں پرامن طریقے سے دھرنا مظاہرہ کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر میں این جی ٹی نے جنتر منتر پر دھرنا مظاہرہ پر پابندی لگا دی جبکہ پوری دہلی میں دہلی پولیس کی جانب سے ہمیشہ کے لئے دفعہ 144 لگائی گئی ہے۔ ایسے میں لوگوں کے پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئین سے ملے بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی اور دہلی پولیس کی طرف سے لگائی گئی دفعہ 144زبردستی اور غیر قانونی ہے۔عرضی میں تنظیم نے مشورہ دیا ہے کہ انڈیا گیٹ کے پاس بوٹ کلب پر پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔