دہلی کی موقوفہ زمینوں پر سرکار دولتمدار کاقبضہ!


عظیم اختر
M: 9810439067
دہلی کی وقف جائیدادوں اور زمینوں پر ڈی ڈی اے یا حکومت کی دوسری ایجنسیوں کے نام نہاد قبضوں کے خلاف گاہے بگاہے اخبارات میں بیان بازی کر کے اپنی تصویر چھپوانے کے شوقین ملت کے دینی و سیاسی ٹھیکیداروں سے لے کر وکیلوں اور اندرونِ شہر کی گلیوں اور کوچوں میں اہم سیاسی پارٹیوں کے جھنڈے لے کر گھومنے اور اپنے وجود کا احساس کرانے والے سیاسی و سماجی ورکروں کی بنامِ خدا پُرانی دہلی میں کوئی کمی نہیں جن پر وقف جائیدادوں کے حوالے سے سچائیوں کو منہ چڑاتے ہوئے بیانات دے کر یہاں کے عام مسلمانوں کے جذبات بھڑکا نے اور سیاسی روٹیاں سیکنے کی کہاوت صحیح معنی میں صادق آتی ہے اور بلا تردد یہ کہا جا سکتا ہے کہ فصیلِ شہر کے دہلی گیٹ سے مہرولی تک کے لمبے چوڑے ، وسیع و عریض اور پرائم لینڈ کہلائے جانے والے علاقے میں پھیلی ہوئی وقف جائیدادوں اور زمینوں پر سرکاری قبضوں کے نام ٹسوے بہانے والے دہلی والوں کو اپنے شہر کی وقف جائیدادوں اور زمینوں کی قانونی حیثیت اورActual Statusکے بارے میں صحیح معلومات کا رتّی برابر بھی علم نہیں ہے جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ تقسیمِ وطن سے پہلے یہاں وقف جائیدادوں اور زمینوں کی دیکھ ریکھ اور نگرانی کرنے کے فرائض انجام دینے والی سنی مجلس اوقاف اور تقسیمِ وطن کے لیے ۱۹۵۴ء میں پارلیمانی ایکٹ کے تحت قائم ہونے والے دہلی وقف بورڈ کے لائق و فائق ممبروں اور ذمہ داروں نے نہ جانے کن مصلحتوں کے تحت اس حقیقت پر دبیز پردہ ہی پڑا رہنے دیا کہ ۱۸۵۷ء میں دہلی پر مکمل قبضے کے بعد انگریز حکمرانوں نے مسلمانوں سے انتقامی جذبے کے تحت پہلا بڑا کام یہ کیا کہ دہلی بالخصوص جنوبی دہلی اور مہرولی کے قرب و جوار میں واقع وہ تمام زمینیں جو ماضی بعید کے سلاطین اور مسلم بادشاہوں نے مسلمانوں کے قبرستانوں اور مساجد وغیرہ کے لیے وقف کی تھیں اور وقت کے ہاتھوں ویران اور غیر آباد ہو چکی تھیں ایک مخصوص آرڈیننس کے ذریعے ایکوائر کر لیا تھا اور ۱۸۶۷ ء میں اس آرڈیننس کو Land Acquisition Act کی شکل دے دی گئی اور جب اس ایکٹ کا باقاعدہ نفاذ ہوا اور revenueریکارڈ تیار کیا گیا تو جنوبی دہلی کی ایسی تمام وقف زمینوں کو سرکاری قرار دے کر ملکیت کے خانے میں سرکار دولتمدار لکھ دیا گیا۔ حکومتِ ہند کے محکمہ ایل اینڈ دی او(L.N.D.O.) اور ریونیو ریکارڈ کے مطابق ان تمام زمینوں کے مالکانہ حقوق89 بی سرکار کو حاصل ہیں جن پر کسی زمانے میں اہلِ اسلام کا قبضہ تھا۔ یہ ایک قومی اور ملی سانحہ سے کم نہیں کہ جنوبی دہلی کی وقف زمینوں کے بارے میں ریونیو ریکارڈ کے اندراجات کو لگ بھگ ڈیڑھ سو سال میں دہلی کے مسلمانوں یا ان کے ملی اداروں نے کبھی چیلنج نہیں کیا اور ان اندراجات کے مضر رساں پہلوؤں پر آج تک سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں ۱۸۵۷ء کے پر آشوب دور کے بعد وقف جائیدادوں اور زمینوں کو بہ حق سرکار ضبط کر کے دہلی کے مسلمانوں کے خلاف در پردہ کی جانے والی انتقامی کارروائی کو وہ قانونی حیثیت حاصل ہو گئی جسے قانونی نقطۂ نگاہ سے آسانی سے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
دہلی کی وقف جائیدادوں اور زمینوں کے بارے میں وقف ایکٹ1854 کے تحت دہلی وقف بورڈ کے تیار کردہ گزٹ نوٹی فیکشن میں دہلی وقف بورڈ کو اس شہر کی ہر چھوٹی بڑی وقف پراپرٹی کو مالک ڈکلیئر کیا گیا ہے۔ حکومتِ ہند کے سو ڈیڑھ سو سالہ پُرانے ریونییو ریکارڈ کے سامنے کوئی قانونی وزن نہیں رکھتا ۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی وقف بورڈ کے ڈائر کردہ مقدمات میں جب ملکیت کا اہم سوال پیدا ہوتا ہے تو حکومتِ ہند کے ایک سو پچاس سالہ پرانے ریوینیو ریکارڈ کے اندراجات کو صحیح تسلیم کیا جاتا ہے اور دہلی وقف بورڈ مقدمے ہار جاتا ہے۔
یادش بخیر ۱۹۹۶ء میں جب دہلی کے وزیر اعلیٰ شری مدن لال کھورانہ نے حکومتِ دہلی کے ایک مسلمان اور اردو جاننے والے افسر کی وجہ سے ہمیں دہلی وقف بورڈ کے سکریٹری کے طورپر ذمہ داریاں سنبھالنے کا حکم دیا اور ہم بادلِ نخواستہ وہاں پہنچے تو چند دنوں کے بعد برنی کمیٹی کی رپورٹ پڑھتے ہوئے ہمیں اس تضاد کا شدت سے احساس ہوا کیوں کہ برنی صاحب مرحوم نے دہلی کی ان وقف زمینوں اور جائیدادوں کے بارے میں ہی اپنی سفارشات پیش کرتے ہوئے دہلی وقف بورڈ کو دینے کی سفارش کی تھی جن کو حکومتِ ہند کے ریوینیو ریکارڈ میں سرکارِ دولتمدار کی ملکیت قرار دیا گیا تھا۔ دو سرکاری محکموں کے اہم اور بنیادی ریکارڈ میں اس تضاد کو محسوس کرتے ہوئے ہم نے اپنی ایک تفصیلی نوٹ میں حکومتِ دہلی کے اعلیٰ افسران کی توجہ اس طرف مبذول کرائی تھی تاکہ اس تضاد اور Anamotyکو دور کرنے کے لیے کسی قسم کی پیش رفت کی جا سکے، لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد، ہمارے اس نوٹ کا بھی وہی حشر ہوا جو ہم نے دہلی وقف بورڈ میں بد عنوانیوں کو روکنے کے لیے بورڈ کی تیس سال کی کارکردگی کی سی بی آئی کے ذریعے تحقیق و تفتیش کرانے کا مشورہ دیتے ہوئے حکومت کے اعلیٰ افسران کو بھیجا تھا۔
سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد جب ہم نے ادبی ذوق کی تسکین کے لیے دہلی سے شائع ہونے والے ہندستان ایکسپریس، ہمارا سماج، جدید خبر اور اخبارِ مشرق جیسے روزناموں میں کالم نویسی شروع کی تو ہم نے اپنے متعدد کالموں میں دہلی وقف بورڈ کی کارکردگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے یا دہلی کی ایک سو تئیس وقف جائیدادوں کے بارے میں برنی کمیٹی کی سفارشات پر قلم اٹھایا تو ایک ملی فریضہ سمجھتے ہوئے دہلی وقف بورڈ کے ذمہ داروں اور ملت کے سیاسی، ملی اور سماجی ٹھیکیداروں کا دھیان حکومتِ ہند کے محکمہ ایل اینڈ ڈی او اور ریوینیو ریکارڈ میں موجود متذکرہ بالا اندراجات کی طرف ضرور دلایا جس کی زد سے جنوبی دہلی جیسے ترقی پذیر علاقے کی بیشتر زمینوں پر دہلی وقف بورڈ کو کسی بھی قسم کا مالکانہ حق حاصل نہیں ہے، اور وہ دن دور نہیں جب کہ سرکار ان زمینوں پر اپنے حقِ ملکیت کا استعمال کرتے ہوئے تعمیراتی ترقی کے لیے ڈی ڈی اے یا پرائیویٹ بلڈرز کو تھما دے اور دہلی وقف بورڈ اپنے گزٹ نوٹی فیکشن کی دہائیاں ہی دیتا رہ جائے کیونکہ دہلی وقف بورڈ کا ۱۹۵۴ ء گزٹ نوٹی فیکیشن حکومت ہند کے تقریباً ڈیڑھ سو سالہ پرانے ریونیو ریکارڈ کے سامنے قانونی حیثیت کھو دیتا ہے تا وقتیکہ حکومتِ ہند ایسی تمام وقف زمینوں اور جائیدادوں کے حقِ ملکیت سے از خود دستبردار نہ ہو جائے۔
دہلی کی ان وقف جائیدادوں کے مفاد کے بارے میں ہماری آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوئی اور کسی کے کان پر جون بھی نہیں رینگی لیکن چند دن قبل سینٹرل وقف کونسل کے معزز ممبر جناب رئیس پٹھان کے ایک اخباری بیان میں ہمیں اپنی اس آواز کی باز گشت سنائی دی جس کی صدا ہم پچھلے دس پندرہ برسوں سے مسلسل لگا رہے تھے۔ اخبارات کے مطابق سینٹرل وقف کونسل کے ممبر رئیس خاں پٹھان نے اخباری نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ جس طرح سے ایک ایک کرکے وقف املاک پر ایجنسیوں کے قبضے ہو رہے ہیں اور فلاحی کام کے نام پر وقف املاک کو ایکوائر کیا جا رہا ہے وہ نہایت تشویش کی بات تو ہے ہی مگر اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جو جگہ وقف بورڈ کی ہے تو اس پر سرکاری ایجنسی وغیرہ کا قبضہ کیسے ہو سکتا ہے اور اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ محکمہ روینیو اور ایل اینڈ ڈی او کے ریکارڈ میں وقف بورڈ کی بیشتر املاک سرکاری قبضے میں دکھائی گئی ہیں۔ ان ریکارڈ میں جہاں ملکیت کا خانہ ہے وہاں سرکار دلت مدار لکھا ہے۔ جب تک سرکاری ریکارڈ میں تبدیلی نہیں کی جائے گی اس وقت تک ہماری وقف املاک پر اسی طرح قبضے ہوتے رہیں گے اور ہم سب لوگ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تماشا دیکھتے رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ جب کسی وقف جائیداد پر سرکاری ایجنسیاں قبضے کرنے، بلڈوزر چلانے یا اسے عوامی مفاد کے کام میں استعمال کرنے کی غرض سے آتی ہیں تو وقف بورڈ خاموش تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔اور اگر بورڈ اس کے خلاف عدالت کا رخ بھی کرتا ہے تو اسے اس بنا پر مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ مذکورہ جگہ بھلے ہی وقف کی ہوئی ہو مگر ملکیت کے اعتبار سے وہ حکومت کی ہے اور عدالت میں بورڈ کا ناکامی ہوتی ہے۔ رئیس خان پٹھان نے کہا کہ وقف املاک کے لیے بہت سی تحریکیں چلائی گئیں مگر اس جانب کسی نے توجہ نہیں دی کہ ملکیت کے خانہ میں سرکار دولت مدار کی جگہ وقف بورڈ لکھا جائے۔ آئے دن وقف املاک پر ہو رہے قبضوں پر انھوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جلد ہی وہ دہلی آکر مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور اور سینٹرل وقف کونسل کے چیئر مین مختار عباس نقوی سے ملاقات کریں گے اور ان سے درخواست کریں گے کہ موجودہ حکومت اس جانب توجہ دے اور وقف املاک کے تحفظ کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کرے۔‘‘
رئیس خان پٹھان صاحب کا یہ بیان پڑھ کر ہمیں خوشی ہوئی کہ سینٹرل وقف کونسل کے ایک معزز ممبر نے نہ صرف ہماری بات کی تائید کی ہے بلکہ مسئلہ کی اس جڑ تک پہنچ گئے ہیں جس کی طرف ہم برسوں سے اشارہ کر رہے تھے اور سینٹرل وقف کونسل ، دہلی وقف بورڈ کے ممبرانِ کرام اور ملت کے ٹھیکیدار گونگے کا گڑ کھائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے۔ معزز ممبر نے یہ کہہ کر نہ صرف سچائی کا اظہار کیا ہے بلکہ ملت کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی بے حسی کارونا بھی رویا ہے کہ وقف املاک کے لیے بہت سی تحریکیں چلائی گئیں مگر اس جانب کسی نے توجہ نہیں دی کہ ملکیت کے خانے میں سرکار دولت مدار کی جگہ وقف بورڈ لکھا جائے۔ رئیس خان پٹھان کے سچائی پر مبنی بیان کے اس ٹکڑے کو پڑھ کر ہمیں ڈیڑھ دو برس میں دلی کی ایڈورڈ پارک میں اکبری مسجد کی بازیابی اور جنگپورہ ایکسٹینشن کے قبرستان میں نوری مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں چلائی جانے والی دو تحریکیں یاد آگئیں جن میں یہاں کے عوام اور تحریک چلانے والوں کا جوش و خروش قابلِ دید تھا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اکبری مسجد کی باز یابی اور نوری مسجد کی تعمیر دہلی کے مسلمانوں کی دینی حمیت وغیرت اور وقار کا مسئلہ بن چکی ہیں لیکن چند ہی دنوں کے بعد جب ان دونوں غباروں کی ہوا نکلی تو ہر طرف ایسا اسناٹا چھا گیا کہ گویا پرانی دہلی کے مسلمانوں کا ان دونوں تحریکوں سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔ان دونوں مساجد کے تعلق سے مسلمانوں نے ہوش کھو کر بے معنی اور بے موقع جوش دکھایا اور پھر ٹھنڈے پڑ گئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ماضی کی دھندلائی ہوئی پرچھائیوں میں زندگی گزارنے اور ہمہ وقت پدرم سلطان بود کا وظیفہ پڑھنے والے افراد اور قوموں سے دور رس نتائج کے حامل تعمیری قدم اٹھانے کی توقع کرنا فضول ہے۔ ویسے بھی ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں حاشیے پر دھکیل دیا گیا آج کا مسلمان اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اپنے آئینی، قانونی اور جائز حق کے لیے کسی بھی قسم کی تحریک شروع کر کے آبیل مجھے مار والی کہاوت کو تازہ کرتے ہوئے اپنے وجود کو مزیدخطرے میں ڈالے جب کہ گؤ مانس کھانے، رکھنے اور گؤ کشی کرنے کے صرف شبہ میں ہی اس کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
۱۸۵۷ء میں دہلی پر انگریزوں کے مکمل قبضے سے لے کر آج تک جمنا کے پل کے نیچے سے کروڑہا ٹن گیلن پانی بہہ چکا ہے، لیکن اگر اس ابتدائی دور ہی میں وقف املاک کو ایکوائر کرنے اور سرکار دولت مدار کی ملکیت قرار دینے کے غیر منصفانہ فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جاتا یا برطانیہ کے درباِ شاہی میں اپیل کی جاتی تو ممکن ہے آج حالت مختلف ہوتے لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ سوڈیڑھ سو سال گزر جانے کے بعد اسے اس دور کے مسلمانوں کے طبقۂ اشرافیہ کی بے بسی اور لاچارگی کا نام دیا جائے یا بے حسی کہہ دیا جائے جس نے اس وقت انگریزوں کی اس منتقمانہ کارروائی کو شیرِ مادر سمجھ کر پی لیا اور زبان پر مصلحتوں کے تالے ڈالے رکھے، جس کے نتیجے میں اب وقت املاک کے تحفظ کے نام پر دہلی وقف بورڈ کو حکومتِ ہند کے محکمہ ایل اینڈ ڈی او اور ریوینیو ریکارڈ کی روش اور رحم و کرم پر ہی جیسے تیسے کر کے اپنی دکان چلانی ہے اور دہلی کے مسلمان اس خوش فہمی میں مبتلا رہیں گے کہ دہلی وقف بورڈ یہاں کی اربوں، کھربوں روپے کی مالیت کی جائیدادوں کا مالک ہے۔
یہاں ہم اپنے قارئین کے علم میں لانا چاہتے ہیں کہ سرکار کی کوئی بھی ایجنسی خواہ ڈی ڈی اے ہو یا کوئی اور اپنے تعمیراتی کاموں کے لیے کسی زمین پر از خود قبضہ کرنے کی مجاز نہیں ہے تا وقتیکہ سرکار کا متعلقہ محکمہ زمین الاٹ نہ کرے۔ جنوبی دہلی کے مختلف علاقوں میں سرکار کے متعلقہ محکمے نے وقف زمینوں کو ڈی ڈی اے اور دوسرے محکموں کا الاٹ کیا جس کے نتیجے میں آج ان علاقوں میں خوبصورت اورمہنگی رہائشی کالونیاں اور مال وغیرہ نظر آرہے ہیں جبکہ دہلی کے مسلمان اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ڈی ڈی اے اور سرکار کی دوسری ایجنسیوں نے ان علاقوں کے غیر آباد قبرستانوں اور دوسری وقف زمینوں پر ناجائز قبضے کر کے ہی ان علاقوں کی ترقی دی ہے جس نے کل کی دہلی شکل ہی بدل دی ہے۔