دہلی میں کم عمر ٹھیلے والا شعیب ہجومی تشدد کا شکار!

پولس کی یکطرفہ کارروائی، ہائی کورٹ کے حکم پر معاملہ درج، مولانا محمود مدنی کی قانونی امداد کی یقین دہانی
نئی دہلی۔ ۲۱؍ جولائی :(نمائندہ خصوصی)مولانا طلحہ برنی کی اطلاع کے مطابق ان کے خالہ زاد بھائی شعیب (۱۸سال)کو ترلوک پوری ۲۰ بلاک نئی دہلی میں گزشتہ شب ہندو دہشت گردوں نے اس وقت خوب زودو کوب کیا جب وہ اپنے فروٹ کا ٹھیلہ لے کر ہندو محلے سے گزر رہا تھا۔ شعیب کو تنہا دیکھ کر انتہا پسندوں نے گلی میں گھیر لیا اور بے تحاشا مارا بڑی مشکل سے اس نے اپنی جان بچائی۔شعیب کو سراور کمر پر شدید چوٹیں آئی ہیں وائرل ویڈیو میں اس کے زخم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے سر سے خون بہہ رہا ہے اور وہ درد سے کراہ رہا ہے ۔ برنی نے بتایا کہ جب مسلم محلے کے ذمے داران پولس کے پاس شکایت درج کرانے پہنچے تو الٹا انہی لوگوں پر لاٹھی چارج کیاگیا اور رات میں گھروں میں گھس کر عورتوں کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ پولس نے نامزد افراد کو گرفتار کرنے کے بجائے شعیب اور کچھ دیگر مسلم نوجوانوں کو جیل بھیج دیا ۔طلحہ برنی کی اطلاع کے مطابق ہائی کورٹ کے حکم پر پولس نے آج رپورٹ درج کی ہے لیکن نامزد لوگوں کو اب تک گرفتار نہیں کیا گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس دہشت گردی کو کچھ میڈیا والے سٹے اور نشے سے جوڑ رہے ہیں حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے میں قریب سے انہیں جانتا ہوں شعیب میرا خالہ زاد بھائی ہے وہ ان چیزوں سے دور ہے وہ ٹھیلا لگاتا ہے اور کمزور ودبلا پتلا لڑکا ہے۔ وہ اپنے فروٹ کا ٹھیلا لے کر وہاں سے گزر رہا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ صرف شعیب کو ہی زدو کوب نہیں کیاگیا اس کے ساتھ دیگر افرادپر بھی پتھرائو کیاگیا جو اسے کو بچانے گئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا اس معاملے کو غلط رخ دےرہا ہے یہ کوئی سٹے اور نشے کا معاملہ نہیں ہے ہندی میڈیا کی رپورٹ بالکل غلط اور حقیقت سے دور ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس بچے کو اکیلا سمجھ کر زدوکوب کیاگیا ہے۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ کہ وہاں ایک غنڈہ ہے جس نے آج کل دہشت مچا رکھی ہے یہ سب اسی کی وجہ سے ہورہا ہے اس کی غنڈہ گردی زیادہ چل رہی اس علاقے میں۔ انہوں نے بتایا مولانا محمود مدنی صاحب کی جمعیۃ کے وکیل سے گفتگو ہوئی انہیں رپورٹ کی کاپی بھیج دی گئی ہے۔ تازہ ترین میڈیا گروپ میں ممبئی اردو نیوز کے ایڈیٹر کی طرف سے یاددہانی کرائے جانے پر مولانا محمودمدنی نے کہاکہ میں ابھی دہلی سے باہر ہوں مولانا حکیم الدین صاحب بھی اڑیسہ میں ہیں پھر بھی انشا ء اللہ کوشش کرتے ہیں۔ طلحہ برنی نے مسلم تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے کر حل کروائیں کیوں کہ بے قصور شعیب زخمی حالت میں جیل میں ہے اس کا میڈیکل بھی نہیں ہوا ہے اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں۔
https://youtu.be/jhBMtrtVVs0