دہشت گردی کے الزام سے باعزت بری ہونے والے حج ہاؤ س کے امام کی ملازمت بحال

مولانا غلام یحی نے گلزار اعظمی سے ملاقات کرکے جمعیۃ علماء کا شکریہ ادا کیا
ممبئی ۱۶؍ اکتوبر(پریس ریلیز)
ممبئی میں واقع حج ہاؤس میں امامت کے فرائض انجام دینے والے مولانا غلام یحیٰ کو ممبئی ہائیکورٹ نے گذشتہ دنوں دہشت گردی کے الزام سے باعزت بری کردیا تھا ، مولانا کے مقدمہ کی کامیاب پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)نے کی تھی۔ جمعیۃعلماء مہاراشٹر کی درخواست پر سینٹرل حج کمیٹی آف انڈیا کے ایگزیکٹیو آفیسر نے انہیں گذشتہ کل ملازت(منصب امامت) پر بحال کردیا ہے اور انتظامیہ نے انہیں ان کے بقایا جات ادا کیے جانے کے تعلق سے اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ملازمت پر بحالی کے دوسرے دن مولانا غلام یحی نے دفتر جمعیۃ علماء مہاراشٹر پہنچ کر سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی اور لیگل ایڈوائزر ایڈوکیٹ شاہد ندیم سے ملاقات کرکے انہیں بر وقت قانونی امداد مہیا کرنے کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر مولانا غلام یحی نے کہا کہ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نہایت ایمانداری سے اپنی ذمہ داری نبھارہی ورنہ انہیں دیگر جماعتوں کی جانب سے بس زبانی یقین دہانی کرائی گی تھی نیز وہ جمعیۃ علماء اور اس کے وکلاء ایڈوکیٹ شریف شیخ اور ایڈوکیٹ متین شیخ و دیگر جنہوں نے ان کے مقدمہ کی ہائی کورٹ میں پیروی کی تھی کے شکر گذار ہیں ۔
مولانا غلام یحیٰ کے مقدمہ کے تعلق سے گلزار اعظمی نے بتایا کہ ۱۴؍ جون ۲۰۰۶ء کو مولانا کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں نچلی عدالت سے مقدمہ سے باعزت بری ہونے کے بعد ہی جیل سے رہائی نصیب ہوئی تھی ، اس دوران مولانا نے ساڑھے چار سال آرتھر روڈ جیل میں گذارے۔گلزار اعظمی نے مزیدنے بتایا کہ نچلی عدالت سے رہائی ملنے کے باوجود مولانا یحیٰ کی پریشانی میں اضافہ اس وقت بڑھ گیا جب ریاستی انسداد دہشت گرد دستہ ATSنے مولانا کو نچلی عدالت سے ملنے والی راحت کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ، اس دوران مولانا کو ضمانتدار مہیا نہ کرانے کی صورت میں چار ماہ کے لیئے دوبارہ جیل میں جانا پڑاتھا۔