دل میں ہویادبس تری، سرمیں ترے تخیلات

طارق ابرار
ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
تسلیم دل سے ہے مجھے موجود تو ہے تیری ذات
لیکن دلیل کچھ تو دے مضبوط جس سے ہو یہ بات
موجود بھی ہے ہر کہیں لیکن کبھی دکھا نہیں
میری سمجھ سے ہے پرے پروردگار الہیات
ایمان مثل مرتضیٰ ہے کس کے پاس اے خدا
توڑے گا کون یہ بتا کعبے کے لات اور منات
بندہ ہوں تیرا اے خدا رہتا ہوں تجھ سے گر جدا
مجھ کو بھی کر خدا عطا راز درون کائنات
قلب و نظر پہ میرے بھی خود کو تو آشکار کر
تیری تجلیات سے سونا ہے میرا سومنات
تیری محبتوں سے ہے میرے وجود کا ثبوت
دل میں جو تیری جا نہیں میرا وجود واہیات
طارق کو کر فنا عطا اپنی ہی یاد میں خدا
دل میں ہو یاد بس تری سر میں ترے تخیلات

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*