دلت ایکٹ پر بی جے پی کی مشکلات میں اضافہ

ایل جے پی کے بعد اب جے ڈی یو کا بھی تیور سخت
نئی دہلی :28جولائی(قندیل نیوز)
جنتادل یونائٹیڈ ( جے ڈی یو )نے دلت ایکٹ کے سخت پروویزنس کو آرڈیننس کے ذریعہ بحال کرنے کے ایل جے پی کے مطالبہ کی حمایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملہ پر فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے سابق جج اے کے گویل کو ریٹائرمنٹ کے 48 گھنٹوں کے اندر نیشنل گرین ٹربیونل کا چیئرمین بنانے کے فیصلہ پر بھی سوال اٹھایا ہے۔اس سے پہلے ایل جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان اور ان کے بیٹے چراغ پاسوان نے جمعہ کو مودی حکومت کو 9اگست سے پہلے اے کے گوئل کو این جی ٹی کے چیئرمین کے عہدہ سے ہٹانے اور ایس سی ایس ٹی ایکٹ پر آرڈیننس لانے کا الٹی میٹم دیاتھا۔ جسٹس اے کے گوئل سپریم کورٹ کی اس بینچ میں شامل تھے ، جس نے20مارچ کو دلت استحصال ایکٹ کے غیر ضمانتی پروویزن کو ختم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔دلت ووٹ بینک کے پیش نظر این ڈی اے کے اندر غیر بی جے پی پارٹیاں اس معاملہ پر متحد نظر آرہی ہیں۔ جے ڈی یو جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے کہا کہ جب وی پی سنگھ کی قیادت میں لالو جی ، شرد جی ، رام ولاس پاسوان جی سب ساتھ تھے تب دلت مفادات کے تحفظ کے لیے یہ قانون بنایا گیا تھا ، اس لئے آج اگر کوئی بھی اس میں چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو اس کی مخالفت ہونی فطری بات ہے ۔تیاگی نے 9 اگست کو دلت تنظیموں کی ملک گیر تحریک میں شامل ہونے کے فیصلہ کو جائز قرار دیا ۔ انہوں نے بی جے پی کے دلت ووٹ بینک کھسکنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہاہے کہ جب2019میں دلت ووٹ نہیں کرے گا تو این ڈی اے کہاں بیٹھے گا ۔